خاکِ رفاقت سے اٹھتے دھوئیں

اس مضمون کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

ہمیں یادرکھناچاہیے کہ سفارتی منظر ناموں میں دکھاوے کی ہم کشتی اکثرعملِ پالیسی کے ساتھ مطابقت اختیار کرجاتی ہے۔اس نوراکشتی کوسمجھنے کے لئے چابہاربندرگاہ کے مسئلے میں امریکی رعایت ایک نازک اورمعنی خیزشق ہے۔امریکانے بعض مواقع پرایران میں بھارت کے اس بندرگاہی پروجیکٹ کے سلسلے میں نرم رویہ اختیارکیا،جس سے نئی دہلی کووسطیٰ ایشیاء اور افغانستان تک کمرشل واسٹریٹجک رسائی بر قراررکھنے میں مددملے گی۔اس رعایت کامطلب یہ ہے کہ دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ واشنگٹن بعض اوقات اقتصادی واسٹراٹیجک مفادات کے تقاضوں کے پیشِ نظرلچک دکھانااس لئے بھی ضرری ہے تاکہ بھارت کوایران اورافغانستان میں مکمل رسائی رہے۔
چابہارکے سلسلے میں اس مہینے واشنگٹن نے نئی دہلی کوکچھ مدت کے لئے رعایت عطاکی ہے،جس نے ایران میں بھارت کے مفادات کووقتی طورپرسانس لینے کی گنجائش مل گئی ہے ،یہ رعایت اس بات کی علامت بھی ہے کہ اقتصادی اورفوجی مفادات ایک دوسرے کے متوازی چل رہے ہیں،اورواشنگٹن بعض اوقات علاقائی نیٹ ورکس میں ہندوستان کوشراکت دارسمجھ کرنرم لچک دکھانا اس لئے بھی ضروری سمجھتاہے تاکہ خطے کے ممالک یعنی ایران اورپاکستان پردباؤرہے کہ امریکااپنے سارے انڈے ایک ہی برتن میں نہیں رکھتابلکہ اپنے مفادات کے لئے کبھی بھی آنکھیں پھیرلینااس کاتاریخی وطیرہ ہے۔
غزہ میں پاکستانی افواج کی تعیناتی کی افواہیں حالیہ دنوں میں گرم ہیں اورآرمی چیف کے اردن ومصردوروں نے قیاس آرائیوں کو مزیدہوادی ہے البتہ قومی سطح پرایسے کسی باضابطہ اعلان یاپیغام تک رسائی محدودرہی‘بعض ذرائع اس بارے میں بیانات یارپورٹس دے رہے ہیں مگرسرکاری طورپرحتمی فیصلہ یاپارلیمانی منظوری جیسے عمل کاذکرلازم ہے۔یعنی فیصلہ متعلقہ اداروں اورپارلیمنٹ کے ذریعے لیاجائے گا،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ ابھی مکمل طے شدہ نہیں۔ تاہم بین الاقوامی سطح پرایسی افواہوں کے بارے میں احتیاط لازم ہے بعض اوقات باضابطہ اعلانات،بعض اوقات میڈیا تذکرات، اور بعض اوقات محض ذِرائع کی افواہیں ہی منظر عام پرآجاتی ہیں۔اِس اعتبارسے،دعوؤں اور باضابطہ دستاویزات میں فرق کونمایاں کرنا ضروری ہے اورجب تک مستند بیانات نہ ہوں،انہیں بیانیہ یاقیاسِ خالص قراردیناعلمی دیانت کے خلاف ہوگا۔مزید برآں،صدر ٹرمپ کی جانب سے جنرل عاصم کی تعریف کی خبریں بھی منظرعام پرآئی ہیں؛مگراس کامطلب یہ نہیں کہ فورافوجی تعیناتی کامنصوبہ اسی تعریف کامنطقی نتیجہ ہے۔
یواین یاامریکی‘منظورکردہ کسی بھی ’’امن فورس‘‘کی بابت اردن کے شاہ نے واضح کیاہے کہ اردن اپنی فوجی شمولیت کے خطرہ کو مول لینے کامتحمل نہیں ہوگا؛اس بیانیہ میں ایک تاریخی وجہ بھی پوشیدہ ہے۔اردن کے سماجی ونسلی ڈھانچے میں فلسطینی آبادی کا بڑاحصہ شامل ہے، لہٰذا اشرافی یاسیاسی فیصلہ آسانی سے نہیں لیاجاسکتا۔ اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ اردن خودبراہِ راست غزہ میںنفاذِامن کے لئے فوجی شمولیت نہیں کرے گا،اور اگرکوئی بین الاقوامی فورس تعینات ہوتی بھی ہے تواسے نفاذِ امن کی بجائے امدادی وتربیتی کردارمیں ہوناچاہیے۔ان کے بیانات کاپس منظریہ ہے کہ اردن کی سیاسی سماجی ساخت اورعلاقائی حساسیت اس طرح کی فورس کوقبول نہیں کرتی۔شنیدیہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل غزہ میں پاکستانی فوج کے ذریعے حماس کواسلحہ سے بالکل پاک اوربیدخل کرنے کاکام لینا چاہتے ہیں جوکہ ایک خونریزجنگ کاسبب بھی بن سکتاہے۔
امریکی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی فوجیوں یاجرنیلوں کی تعریفیں کبھی کبھارسفارتی یاپالیسی سازانہ آرزوں کی عکاسی کرتی ہیں،مگریہ تعریفیں خودکاراندازمیں کسی فوجی تعیناتی یامداخلت کاثبوت نہیں ہوتیں۔اگرٹرمپ یادیگررہنماؤں نے جنرل عاصم کی تعریف کی ہوتواسے ایک الگ سفارتی اشارے کے طور پر لیناچاہیے،اس کامطلب یہ نہیں کہ فوراً ازمین پرفوجی مشن پارلیمانی منظوری اورعلاقائی رضامندی کے بغیرعمل میں آئے گا۔ پاکستانی فوج کی عالمی اسٹیج پرکسی کردارکے امکان کومحض ایک ریاستی معاہدے سے نہیں ناپا جا سکتا اندرونی سیاسی میل جول، سول‘ملٹری تعلقات اور علاقائی مفادات سب مل کرفیصلہ سازفضاقائم کرتے ہیں۔بین الاقوامی سرکس میں کسی فوجی شمولیت کے اشارے جب سنائے جاتے ہیں توانہیں مقامی بنیاداوربیرونی دبائو دونوں کے تناظرمیں سمجھناپڑتاہے۔اسی لیے ٹرمپ یادیگرلیڈرزکی تعریفیں الگ،اوررسمی دستاویزات وتعینات الگ معاملہ ہوتے ہیں۔
یہ دورمسلح تعاون اورسفارتی پیچیدگیوں کا دور ہے،جہاں کاغذپردستخط ایک نئے باب کاآغازبھی ہو سکتے ہیں اورمحض بیانیہ بھی۔دس سالہ دفاعی فریم ورک، چابہارپرامریکی رعایت ،اردن کے شاہ کاانکار اور پاکستان کے تعلقات،یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دھاگے ہیں جوہمیں بتاتے ہیں کہ جنوبی ایشیاء اور ہند‘بحرالکاہل میں طاقت کی نئی ترتیب وجود میں آرہی ہے۔ہمیں محتاطِ حقیقت نگاری کی ضرورت ہے افواہوں اورباضابطہ بیانات میں فرق واضح رکھیں،اوریادرکھیں کہ سیاسی بیانیہ اکثرظاہری کشاکش کے پیچھے طویل المدتی مفادات کو فروغ دیتاہے۔
آج جب امریکااوربھارت کے درمیان دس سالہ دفاعی معاہدہ طے پایاہے،توتاریخ کے وہ سارے زخم پھرسے تازہ ہوگئے ہیں۔یہ منظر ہمیں بتاتاہے کہ سامراج کبھی نہیں بدلتا صرف اس کے لبادے بدلتے ہیں۔ایران کبھی امریکاکامحورتھا،مگرتخت الٹتے ہی وہ بوجھ بن گیا۔پاکستان نے امریکی مفادات کی حفاظت کے لئے اپنے لاکھوں جوانوں،اپنے امن، اپنی معیشت اوراپنے نظرئیے تک قربان کئے،مگر بدلے میں اسے الزام، مشکوک نظروں اوردہشت گردی کاطوق ملااورآج جب امریکانئی دہلی کے ساتھ تزویراتی رشتہ استوارکررہا ہے ،تو یہ ہمیں اس پرانی مثل یاددلاتاہے کہ’’بازجب جھپٹتاہے توشکرکی تلاش میں نہیں،شکارکی نیت سے جھپٹتاہے‘‘۔
دنیاکے نقشے پرطاقت کامرکزبدل رہاہے مگر امریکاکی سیاست کااصول اب بھی وہی ہے اپنے کام کے لئے دوستی کرو،اورکام نکلنے کے بعددوستی دفن کردو۔ ایران سے لے کرپاکستان تک،افغانستان سے عراق تک ہرجگہ ایک جیسی کہانی لکھی گئی۔پہلے امیدوں کے چراغ روشن کیے گئے،پھرانہی چراغوں سے ماضی کوراکھ کردیاگیا۔آج پاکستان ایک نئے دوراہے پرکھڑا ہے۔ تاریخ ایک بارپھر دروازہ کھٹکھٹارہی ہے۔کیاہم پھرکسی اورکے مفادکاایندھن بنیں گے؟یااس بارہم اپنے مفاد، اپنی خودمختاری،اوراپنی تاریخ کے سائے میں فیصلہ کریں گے؟یہ فیصلہ پاکستان کے اہلِ فکر،اہلِ سیاست،اوراہلِ قلم کے ہاتھ میں ہے۔
اگرہم نے ماضی کی خاک سے سبق نہ لیا تو آنے والاوقت ہمیں بھی ان دوستوں کی صف میں لکھ دے گاجنہیں امریکانے اپنے مقصدکے بعدتاریخ کے کچرے دان میں پھینک دیا۔

تجویز کردہ مضامین:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے