یہ دنیا ایک عجب تماشہ گاہ بن چکی ہے یہاں خون بہتا ہے لیکن لوگ تالیاں بجاتے ہیں۔
یہاں معصوموں کی چیخیں سنائی دیتی ہیں لیکن عالمی طاقتیں اپنے کان بند کر لیتی ہیں۔
قطر کے آسمان پر اسرائیل کے بم برستے ہیں اور دنیا کے ایوانوں میں خاموشی کی وہ طنینی گونجتی ہے جسے دیکھ کر دل کہتا ہے:
یہ سب اندھے ہیں یا بہرے؟ یا شاید سب مر چکے ہیں!
ایران کے بعد قطر۔ کیا یہ محض اتفاق ہے؟
نہیں، یہ منصوبہ بندی ہے، یہ سازش ہے، یہ اس انتہا پسندی کی تازہ قسط ہے جو نیتن یاہو کے دماغ اور مودی کے سینے میں جلتے ہوئے شعلوں سے لکھی جا رہی ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کریں، کوئی ہمیں روکنے والا نہیں۔ اقوام متحدہ صرف کاغذ کے پرزے چھاپتی ہے، امریکہ اور یورپ صرف تشویش کا اظہار کرتے ہیں، اور باقی دنیا بے بسی کے ساتھ ‘‘ہمیں افسوس ہے’’ کے جملے دہراتی ہے۔
قطر نے برسوں سے ثالثی کا کردار ادا کیا۔ کبھی فلسطین اور اسرائیل کے درمیان، کبھی طالبان اور امریکہ کے درمیان، کبھی ایران اور خلیج کے ممالک کے درمیان۔
دوحہ وہ شہر ہے جسے دنیا مذاکرات کا مرکز سمجھتی ہے۔ لیکن آج دوحہ پر ہی بم برسائے گئے۔
یہ بم صرف عمارتوں کو نہیں گراتے، یہ پوری امیدوں کو توڑتے ہیں، یہ ثالثی کے پل کو دھماکوں سے اڑا دیتے ہیں۔
اسرائیل کا یہ حملہ دراصل امن کے دروازے پر حملہ ہے۔قطری وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ قطر کی خودمختاری پر حملہ ہے، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دنیا واقعی اس قانون کو مانتی بھی ہے؟
یا پھر قانون صرف کمزوروں کے لیے ہے؟ شام پر حملہ ہوا تو دنیا نے جواز گھڑا، عراق پر یلغار ہوئی تو کہانی گھڑی گئی، لیبیا کو برباد کیا گیا تو ‘‘جمہوریت’’ کا بہانہ بنایا گیا۔
اور آج قطر پر حملہ ہوا تو کون سا بہانہ گھڑا جائے گا؟ کیا کہا جائے گا؟ کہ وہاں حماس کے لوگ بیٹھے تھے؟ کہ وہاں مزاحمت کے نمائندے موجود تھے؟
اگر مذاکرات کے لیے موجود ہونا جرم ہے تو پھر امن کی ہر کوشش جرم ہے۔
دنیا کی یہ دوغلی پالیسی ہی اصل مسئلہ ہے۔
جب اسرائیل بچوں پر بم گراتا ہے تو کہا جاتا ہے ‘‘اسے اپنی حفاظت کا حق ہے’’۔ اور جب فلسطینی اپنے گھروں کو بچانے کے لیے پتھر اٹھاتے ہیں تو کہا جاتا ہے ‘‘یہ دہشتگرد ہیں’’۔ یہ انصاف ہے؟ یہ قانون ہے؟ یہ وہی طرزِ عمل ہے جس نے اس دنیا کو جہنم بنا دیا ہے۔
اب آتے ہیں اسلامی ممالک کی طرف۔ سعودی عرب، ایران، ترکی، پاکستان، اردن، مراکش، الجزائر،سب نے بیانات دئیے۔ سب نے مذمت کی۔ سب نے کہا کہ یہ قطر کی خودمختاری پر حملہ ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ صرف مذمت سے کیا ہوگا؟ کیا اسرائیل مذمت سے رکے گا؟ کیا وہ اپنے بم گن کر واپس جائے گا؟ نہیں۔ اسرائیل کو روکنے کے لیے عملی قدم چاہیے۔ لیکن اسلامی دنیا تقسیم ہے۔ کوئی امریکہ کے دباؤ میں ہے، کوئی اسرائیل سے خفیہ تعلقات رکھتا ہے، کوئی اپنے ہی مسائل میں پھنسا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ امت ایک جسم نہیں بلکہ منتشر بھیڑ ہے۔
پاکستان نے بھی کہا کہ یہ حملہ ناقابلِ قبول ہے۔ وزیراعظم نے بیان دیا، وزارتِ خارجہ نے پریس ریلیز جاری کی۔ لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ صرف قطر یا ایران کا مسئلہ نہیں۔
مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، یہ انتہا پسندانہ سوچ، یہ کل پاکستان کے خلاف بھی حرکت میں آ سکتی ہے۔ کل وہی بم لاہور پر برس سکتے ہیں، وہی راکٹ کراچی کی بندرگاہوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ہم اگر آج خاموش ہیں تو کل شاید ہمیں کوئی بچانے والا بھی نہ ملے۔یہی وہ مقام ہے جہاں خلیل الرحمان قمر کا لہجہ یاد آتا ہے:
‘‘اگر آج تم نے ظلم کے سامنے آواز نہ اٹھائی تو کل یہ ظلم تمہارے بچوں کے دروازے پر دستک دے گا اور جب وہ چیخیں گے تو تمہارے پاس آنسو بھی نہیں ہوں گے، کیونکہ تمہارے آنسو بھی بزدلی کے بوجھ تلے دفن ہو چکے ہوں گے۔’’
دنیا کو بھی اب فیصلہ کرنا ہوگا۔ امریکہ اور یورپ کو سوچنا ہوگا کہ کیا اسرائیل کو یوں کھلی چھوٹ دینا دنیا کو ایک اور عالمی جنگ کی طرف دھکیل نہیں رہا؟ فرانس کے صدر نے کہا کہ یہ حملہ ناپسندیدہ ہے، برطانیہ کے وزیراعظم نے کہا کہ یہ قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ نے کہا کہ یہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن ان سب الفاظ کے باوجود اسرائیلی طیارے قطر کے آسمان میں داخل ہوئے، بم گرے، لوگ مرے۔ تو پھر ان بیانات کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟
یہ دنیا جسے ہم مہذب کہتے ہیں، دراصل سب سے زیادہ غیر مہذب ہے۔ یہ وہی دنیا ہے جہاں قطر جیسے چھوٹے مگر جرات مند ملک پر اسرائیل کے طیارے بم گرا دیتے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے در و دیوار پر صرف ‘‘مذمت’’ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ دنیا اندھی ہے یا بہری؟ یا پھر یہ دنیا جان بوجھ کر اپنے ضمیر کو دفن کر چکی ہے؟
قطر پر اسرائیل کا حملہ صرف قطر پر حملہ نہیں۔ یہ ایک پیغام ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ‘‘ہم جس پر چاہیں وار کریں گے، کوئی ہمیں روک نہیں سکتا۔’’ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ پیغام دنیا نے پڑھ بھی لیا ہے مگر پھر بھی آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے۔ امریکا کی منافقت دیکھ لیں، بظاہر کہتا ہے کہ ‘‘ہم امن کے خواہاں ہیں’’ لیکن اندر سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے۔ یورپ کہتا ہے ‘‘ہم تشویش میں ہیں’’ مگر اصل میں اسرائیل کو اسلحہ دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ قراردادیں پاس کرتی ہے، لیکن وہ قراردادیں فائلوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عالمی ادارے ہی بے بس ہیں تو پھر دنیا کو کون بچائے گا؟
ایران پر حملہ ہوا، دنیا خاموش رہی۔ قطر پر حملہ ہوا، دنیا پھر بھی خاموش ہے۔ کیا یہ خاموشی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہیں؟ کیا یہ سب کچھ محض کسی اتفاق کا نتیجہ ہے؟ نہیں، یہ منظم منصوبہ بندی ہے۔ پہلے ایران کو دباؤ میں لایا گیا، پھر قطر کو۔ کل کس کی باری ہے؟ شام؟ ترکی؟ پاکستان؟ کون جانے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اگر آج اسرائیل کو نہ روکا گیا تو کل پورا خطہ ایک ایسی آگ میں جھلس جائے گا جس سے نکلنے کا راستہ کسی کے پاس نہیں ہوگا۔
اور پاکستان کو یہ بات سمجھنی ہوگی۔ ہم یہ نہ سوچیں کہ یہ سب ہم سے دور ہو رہا ہے۔ یہ آگ ہمارے دروازے پر بھی دستک دے سکتی ہے۔ نیتن یاہو اور مودی دونوں انتہا پسند ہیں، دونوں کی سیاست نفرت پر کھڑی ہے۔ مودی مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا ہے، نیتن یاہو فلسطینیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے درپے ہے۔
یہ دونوں جب اپنے اپنے ملکوں میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اپنے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جنگ کا سہارا لیتے ہیں۔ کل کو ان کا نشانہ پاکستان بھی ہو سکتا ہے۔ کشمیر میں ظلم، غزہ میں قتلِ عام، قطر پر حملہ،یہ سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ دنیا کو کیا کرنا چاہیے؟
دنیا کو صرف بیانات نہیں دینے چاہیے، دنیا کو عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں، اس کے ہتھیاروں کی سپلائی روکی جائے، اس کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمے چلائے جائیں۔ لیکن کیا دنیا یہ کرے گی؟
تاریخ کہتی ہے کہ نہیں۔ کیونکہ اسرائیل کو امریکا کی سرپرستی حاصل ہے۔ اور امریکا کبھی نہیں چاہے گا کہ اسرائیل پر ہاتھ ڈالا جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں باقی دنیا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا وہ ہمیشہ امریکا کی مرضی پر چلتی رہے گی یا پھر انصاف کا ساتھ دے گی۔
اسلامی ممالک کو بھی اب بیدار ہونا ہوگا۔ صرف مذمتی قراردادوں اور بیانات سے کچھ نہیں ہوگا۔ اگر او آئی سی صرف اجلاس بلانے تک محدود رہی تو اسرائیل کی جارحیت کبھی نہیں رکے گی۔ قطر پر حملے کے بعد اسلامی ممالک کو مشترکہ حکمتِ عملی بنانی چاہیے۔ دفاعی تعاون بڑھانا چاہیے، اقتصادی بائیکاٹ پر غور کرنا چاہیے، اور سب سے بڑھ کر اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے۔ کیونکہ آج اگر قطر تنہا رہ گیا تو کل کوئی اور تنہا ہوگا، پرسوں کوئی اور۔ اور یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔
‘‘تم سب کتنے بزدل ہو! تم سب کتنے کمزور ہو! تم سب صرف بیانات کے سپاہی ہو۔ تمہارے ہاتھ میں تلوار نہیں، تمہارے ہاتھ میں صرف قلم ہے جس سے تم قراردادیں لکھتے ہو۔ اور اسرائیل کے ہاتھ میں وہ بم ہے جو تمہارے شہروں کو مٹی میں ملا دے گا۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا یہ تمہاری غیرت ہے؟ کیا یہ تمہارا ایمان ہے؟’’
پاکستان کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ ہم اس کھیل سے باہر نہیں ہیں۔
مودی اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ خطرناک ہے۔ بھارت اسرائیل سے اسلحہ خریدتا ہے، انٹیلی جنس شیئر کرتا ہے، اور دونوں کے نشانے پر مسلمان ہیں۔
پاکستان چونکہ ایٹمی طاقت ہے، اس لیے وہ دونوں کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس رکاوٹ کو توڑنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال ہوں گے۔ کبھی دہشت گردی، کبھی سیاسی دباؤ، کبھی میڈیا وار، اور کبھی براہِ راست حملے کی صورت میں۔ اس لیے ہمیں آج سے تیاری کرنا ہوگی۔
اگر دنیا خاموش رہی، اگر اسلامی ممالک بکھرے رہے، اگر پاکستان نے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو کل تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی ۔ یہ وقت بیداری کا ہے۔ یہ وقت اتحاد کا ہے۔ یہ وقت ظلم کے سامنے کھڑے ہونے کا ہے۔ ورنہ کل ہم سب صرف اس آگ کے شعلوں کو دیکھتے رہیں گے جو ہماری بستیوں کو جلا دے گی۔
قطر پر یہ حملہ دراصل ایک آئینہ ہے جس میں دنیا کا اصل چہرہ دکھائی دیتا ہے۔ وہی دنیا جو آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعرے لگاتی ہے ، لیکن جب ظلم اسرائیل کرتا ہے تو سب کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ یہ وہی دنیا ہے جو فلسطینی بچے کے ہاتھ میں پتھر دیکھ کر دہشت گردی کی دہائی دیتی ہے، لیکن جب اسرائیلی ٹینک بستیوں کو روندتے ہیں تو کہتی ہے یہ ان کا حقِ دفاع ہے۔ یہ حقِ دفاع نہیں، یہ کھلا کھلا ظلم ہے، یہ بربریت ہے، یہ پوری دنیا کے ضمیر پر تازیانہ ہے۔
ایران پر حملہ کیا گیا، پھر قطر کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ ایک پیغام ہے: ‘‘جو بھی ہماری راہ میں آئے گا، ہم اسے کچل دیں گے۔’’ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اسرائیل اتنا طاقتور ہے؟ یا پھر دنیا کی خاموشی نے اسے طاقتور بنا دیا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل کی اصل طاقت امریکا اور یورپ کی پشت پناہی ہے۔ اگر یہ حمایت ختم ہو جائے تو اسرائیل ایک دن بھی کھڑا نہ رہ سکے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ حمایت ابھی تک موجود ہے۔
اسلامی ممالک کے ردعمل پر نظر ڈالیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔
سعودی عرب، ایران، ترکی، پاکستان، اردن، مراکش، الجزائر سب نے بیانات دئیے۔ سب نے کہا یہ ناقابلِ قبول ہے۔ لیکن اس ‘‘ناقابلِ قبول’’ کے بعد کیا ہوا؟
کیا کسی نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کیا؟ کیا کسی نے اس کے تجارتی جہازوں پر پابندی لگائی؟ کیا کسی نے یہ کہا کہ ہم اب اسرائیلی مصنوعات کو اپنی زمین پر داخل نہیں ہونے دیں گے؟ نہیں! سب کچھ صرف لفظوں تک محدود ہے۔ اور یہی ہماری کمزوری ہے۔
پاکستان کا کردار یہاں سب سے اہم ہے ۔ ہم ایک ایٹمی طاقت ہیں ، ہم مسلم دنیا کی واحد طاقت ہیں جو اسرائیل اور بھارت دونوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ لیکن کیا ہم اس صلاحیت کا ادراک رکھتے ہیں؟ کیا ہم اپنی پالیسیوں میں یہ سمجھنے کو تیار ہیں کہ مودی اور نیتن یاہو ایک ہی سوچ کے دو چہرے ہیں؟ دونوں مسلمانوں کے دشمن ہیں، دونوں خطے کو آگ میں جھونکنے پر تلے ہوئے ہیں، دونوں اپنے اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے جنگ کا کھیل کھیلتے ہیں۔ یہ کھیل اگر ہم نے سمجھا نہ تو کل پاکستان بھی قطر کی طرح تنہا کھڑا ہوگا۔یہاں ہمدرد کے انداز میں کہنا بنتا ہے:‘‘تم کب جاگو گے؟ کب سمجھو گے کہ دشمن تمہارے دروازے پر کھڑا ہے؟ کب پہچانو گے کہ یہ خاموشی تمہیں قبر تک لے جائے گی؟ اگر آج تم نے آواز نہ اٹھائی تو کل تمہارے بچوں کی چیخیں بھی کسی کو سنائی نہیں دیں گی ۔ یہ دنیا اندھی ہے ، یہ دنیا بہری ہے ۔ اس سے رحم کی توقع مت رکھو ۔ صرف اپنی طاقت پر بھروسہ کرو، صرف اپنے ایمان پر بھروسہ کرو۔’’دنیا کے لیے بھی اب امتحان ہے ۔ کیا وہ اسرائیل کو روکنے کے لیے تیار ہے؟ کیا امریکا یہ مان لے گا کہ اس کا لاڈلہ اسرائیل اس دنیا کو برباد کر رہا ہے؟ کیا یورپ یہ مانے گا کہ ان کی خاموشی نے اسرائیل کو بدمعاش بنا دیا ہے؟
اگر دنیا نے اب بھی اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں صرف مشرقِ وسطیٰ نہیں بلکہ پورا یورپ اور امریکا بھی اس آگ میں جھلسے گا۔ کیونکہ جب ظلم کا سلسلہ چلتا ہے تو وہ کبھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔قطر پر حملہ عالمی سفارتکاری کے منہ پر طمانچہ ہے۔ کیونکہ قطر وہ ملک تھا جس نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جس نے امن قائم کرنے کی کوشش کی، جس نے دشمنوں کو میز پر بٹھایا۔ لیکن اس کی کوشش کا انعام اسے یہ ملا کہ اس پر بم برسائے گئے۔ یہ بم صرف قطر پر نہیں گرے، یہ امن کی ہر کوشش پر گرے۔ یہ اس سوچ پر گرے کہ ‘‘بات چیت سے مسائل حل ہوتے ہیں’’۔ اسرائیل نے ثابت کیا کہ وہ بات چیت سے نہیں مانتا ، وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے ۔پاکستان کو اب ایک حکمت عملی بنانی ہو گی ۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم کب تک صرف بیانات دیتے رہیں گے؟ ہمیں عملی قدم اٹھانا ہو گا ۔ ہمیں اپنی افواج کو تیار رکھنا ہو گا، ہمیں اپنی سفارتکاری کو جارحانہ بنانا ہوگا، ہمیں اسلامی دنیا کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہو گا ۔ اگر ہم آج نہ جاگے تو کل ہمیں جگانے والا بھی کوئی نہیں ہوگاقطر پر اسرائیلی حملے نے ایک بات بالکل واضح کر دی ہے کہ یہ دنیا طاقت کے آگے جھک جاتی ہے۔ قانون، ضمیر، انصاف یہ سب کتابوں کی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس کے پاس ہتھیار ہیں وہی سچ ہے، جس کے پاس بم ہیں وہی قانون ہے، جس کے پاس طاقت ہے وہی خدا بناپھرتاہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا انسانیت اسی لیے پیدا ہوئی تھی؟ کیا یہ دنیا اسی لیے بنی تھی کہ طاقتور کمزور کو کچل دے اور باقی سب تالیاں بجاتے رہیں؟