ٹرمپ کا ایران کی "ابراہیم معاہدے” میں شمولیت سے کیا مقصد تھا؟

روزنامہ خراسان لکھتا ہے:

 * گزشتہ ایک دہائی کی سیاسی چپقلشوں میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ حکومتیں حریف معاشروں میں نفسیاتی دباؤ ڈالنے اور ان کو منتشر کرنے کے لیے "داستان سازی” (Narrative Building) کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔

 * امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جو انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے ملاقات کے بعد دیے، اسی کھیل کی ایک واضح مثال ہیں۔

 * جب انہوں نے "ابراہیم معاہدے” کا حوالہ دیا اور اس میں ایران کی شمولیت کی امید ظاہر کی، تو ان کی کوشش تھی کہ ایران کی سیاسی اور ابلاغی فضا میں شک اور سوال کے بیج بوئیں۔

 * یہ بظاہر سادہ اور یہاں تک کہ ادنیٰ دعویٰ، ایک گہری سطح پر کثیر الجہتی پیغامات لیے ہوئے ہے۔ ایسا پیغام جو اگر صحیح طور پر پرکھا نہ جائے تو یہ ملک کے دانشوروں اور رائے عامہ کے لیے ایک ذہنی جال اور مشغولیت کا سبب بن سکتا ہے۔

اس مضمون کو اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔

گزشتہ ہفتے کی خبروں کا ایک جائزہ:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے