No_Exit_From_Pakistan_America’s_Tortured_Relationship_with_Islamabad

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

پاکستان سے کوئی راستۂ خروج نہیں: اسلام آباد کے ساتھ امریکہ کے پیچیدہ تعلقات

No Exit from Pakistan: America’s Tortured Relationship with Islamabad

مرتب اور مصنف: ڈینیئل ایس مارکی

یہ کتاب امریکہ اور پاکستان کے درمیان پیچیدہ اور اکثر پُرآشوب تعلقات کا جائزہ لیتی ہے، جو 1947 سے شروع ہو کر 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد تک جاری رہے۔ مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ پاکستان کے داخلی مسائل، اس کا بڑھتا ہوا جوہری ذخیرہ، اور چین و بھارت جیسی علاقائی طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات، اسے امریکی سلامتی اور عالمی امن کے لیے ایک نہایت اہم جیو اسٹریٹجک کھلاڑی بناتے ہیں۔ کتاب پاکستانی معاشرے کے اہم رجحانات کا تجزیہ کرتی ہے، امریکہ مخالف جذبات کی تاریخی جڑوں کا سراغ لگاتی ہے، 11 ستمبر کے بعد پاکستان کے بارے میں واشنگٹن کی پالیسی سازی کا جائزہ لیتی ہے، اور علاقائی حرکیات خصوصاً چین کے ابھار کو ان تعلقات کے تناظر میں پرکھتی ہے۔ آخر میں، امریکہ کے لیے پاکستان کے حوالے سے تین اسٹریٹجک اختیارات پیش کیے جاتے ہیں: دفاعی تنہائی، فوجی ترجیحی تعاون، اور جامع تعاون۔ کتاب کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ واشنگٹن کس طرح بدترین حالات کے لیے تیار ہو سکتا ہے، بہترین نتائج کو ہدف بنا سکتا ہے، اور ماضی کی غلطیوں سے بچ سکتا ہے۔

صفحات کی تعداد ٢٦٢
ٹائم لائن مراحل ١٥٥

اس کتاب کی ٹائم لائن

1921

کونسل برائے خارجہ تعلقات (CFR) قائم ہوا۔

1924

جنرل ضیاء الحق پیدا ہوئے۔

1944

سارتر کا "خروج ممنوع" پیرس میں پیش کیا گیا۔

1940 کی دہائی کے وسط

امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف اپنے اتحادیوں کی حمایت کی، بغیر اپنی فوجی قوت بھیجے۔

1945

ریچرڈ آرمٹیج پیدا ہوئے۔

١٩٤٧ - جناح کی تقریر

محمد علی جناح نے پاکستان کی مجلس مؤسسان میں اپنی تقریر میں مذہب سے قطع نظر تمام شہریوں کے حقوق پر زور دیا۔

١٩٤٧ - پاکستان کی آزادی

پاکستان بھارت سے الگ ہوا۔

١٩٤٧-٢٠٠٣ - اجرت میں اضافہ

پاکستان میں اوسط اجرت پانچ گنا بڑھ گئی۔

١٩٤٧-٢٠٠٢ - خوراک میں خود کفالت

پاکستان نے اپنی آبادی کے لئے کافی گندم، چاول، چینی اور دودھ پیدا کیا۔

ابتدائی دور جنگ سرد

پاکستان نے سوویت یونین کو روکنے کی امریکی عالمی کوشش میں شمولیت اختیار کی۔

1950

حافظ محمد سعید پیدا ہوئے۔

ابتدائی 1950

پاکستان میں ایک نوجوان افسر کے طور پر، جنرل مرزا اسلم بیگ نے پاکستان کی نئی تشکیل شدہ خصوصی خدمات گروپ میں شمولیت اختیار کی اور امریکی افواج کے ساتھ گوریلا جنگ کی تربیت حاصل کی۔

1952

اے کیو خان پاکستان منتقل ہو گئے۔

1954

اے کیو خان نے پاکستان کے نوپید جوہری پروگرام کے لیے ڈیزائن اور آلات چوری کرنا شروع کیے۔

1954

وزیر خارجہ ڈلس نے اپنے فارن افیئرز کے مضمون میں اجتماعی سلامتی کی ضرورت پر زور دیا۔

مئی 1954

امریکہ اور پاکستان نے باضابطہ طور پر باہمی امداد کے معاہدے پر دستخط کیے۔

جنوری 1955

جان فوسٹر ڈلس کو ٹائم نے "سال کا آدمی" قرار دیا۔

25 مارچ 1955

امریکہ نے جنوبی ایشیا کی نئی حکمت عملی کا اعلان کیا۔

1956 تا دسمبر 1959

آئزن ہاور حکومت نے پاکستانی فوج کے پانچ اور آدھے ڈویژن کو 500 ملین ڈالر سے زائد کی مدد فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔

1957

محترمہ ہاشمی پاکستان میں پیدا ہوئیں۔

1957

اکومن فنڈ کی بنیاد رکھی گئی۔

1958

جنرل ایوب خان پاکستان کے پہلے فوجی آمر بن گئے۔

1960

قراقرم ریلوے کا افتتاح ہوا۔

1960 اور 1970

تربیلا ڈیم منصوبہ بھاری امریکی مالی امداد سے تعمیر کیا گیا۔

6 جنوری 1961

نکیتا خروشچیف نے "چھوٹی آزادی کی جنگوں" پر خفیہ تقریر کی۔

جنوری 1961

کینیڈی نے پینٹاگون سے کہا کہ وہ "اپنی پوری دفاعی حکمت عملی کا دوبارہ جائزہ لے۔"

بہار 1961

کینیڈی نے بھارت کے لیے 500 ملین ڈالر کی اقتصادی امداد کی درخواست کی۔

اکتوبر 1962

کیوبا میزائل بحران پیش آیا۔

خزاں 1962

ہند چین سرحدی جنگ شروع ہوئی۔

1964

جانسن حکومت نے چین کے خلاف ماسکو کے ساتھ تعاون پر سنجیدگی سے غور کیا۔

1965

ہند و پاک جنگ شروع ہوئی۔

1966

ایوب خان نے بھٹو سے تعلقات منقطع کر دیے۔

1966

ایک B-52 بمبار چار ہائیڈروجن بموں کے ساتھ اسپین کے ساحل پر گر کر تباہ ہو گیا۔

1969

ایوب خان کو ایک احتجاجی تحریک کے ذریعے ہٹا دیا گیا جس نے انہیں 'امریکی کٹھ پتلی' کہا۔

1970

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) بھٹو کے ذریعے صفر سے بنائی گئی۔

جولائی 1971

کسنجر کا چین کا خفیہ مشن پاکستان کی مدد سے ممکن ہوا۔

1971

مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان جنگ نے بنگلہ دیش کی آزادی کو جنم دیا۔

1972

اے کیو خان نے یورینیم افزودگی کی تنصیبات میں کام کیا۔

1974

اے کیو خان نیدرلینڈز سے پاکستان فرار کر گئے اور بھٹو نے انہیں پاکستان کے جوہری پروگرام کا انچارج بنایا۔

1974 (مئی)

بھارت نے اپنا پہلا "پرامن جوہری دھماکہ" کیا۔

1975

رچرڈ آرمیٹیج نے جہازوں کے ایک قافلے کی قیادت کی جس نے 20,000 سے زائد جنوبی ویتنامیوں کو فلپائن منتقل کیا۔

1977

ضیاء الحق نے بھٹو کو اقتدار سے ہٹا دیا۔

١٩٧٩ - امریکی سفارت پر حملہ

اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے پر انتہا پسند مظاہرین نے حملہ کیا اور آگ لگا دی۔

١٩٧٩ - بھٹو کو پھانسی

بھٹو کو پھانسی دی گئی۔

١٩٧٩ - ایرانی انقلاب

ایرانی انقلاب وقوع پذیر ہوا۔

١٩٧٩ - اے کیو خان کی تنقید

اے کیو خان نے ایک جرمن میگزین کے ایڈیٹر کو خط میں امریکی جوہری پروگراموں پر منافقت کی تنقید کی۔

١٩٨٠ - سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ

سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔

١٩٨٥ - بیگ کی فوجی کمانڈ

بیگ نے پشاور میں XI کور کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

١٩٨٥ - پریسلر ترمیم کی منظوری

امریکی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا جس کے تحت صدر کو سالانہ تصدیق کرنی ہوتی تھی کہ پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہے۔

١٩٨٦ - اہل حدیث تنظیم کا قیام

سعید اور دیگر سولہ افراد نے اہل حدیث نظریہ اور جہاد کو فروغ دینے کے لئے ایک تنظیم قائم کی۔

١٩٨٦ - بچوں کی اموات کی شرح میں کمی

شمالی علاقوں اور چترال کی ان کمیونٹیز میں جہاں دیہی معاونت پروگرام (RSP) فعال تھا، بچوں کی اموات کی شرح 162 فی 1000 سے کم ہو کر 33 فی 1000 ہو گئی۔

1987

بیگ کو نائب چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر ترقی دی گئی۔

1987 تا 1989

حمید گل آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔

1988

ضیاء الحق ایک مشکوک فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔

1988

بیگ نے فوری طور پر ملک کی سب سے طاقتور ملازمت سنبھال لی۔

1989

برلن کی دیوار گر گئی۔

١٩٩٠ - لشکر طیبہ کا قیام

لشکر طیبہ (LeT) کو باضابطہ طور پر قائم کیا گیا۔

١٩٩٠ - پاکستان پر امریکی پابندیاں

امریکہ نے پاکستان پر جوہری بم کی ترقی کے باعث پابندیاں عائد کیں۔

١٩٩٠ - بھارت کی اقتصادی ترقی

بھارت نے سالانہ اوسطاً 6.6 فیصد حقیقی اقتصادی ترقی کا تجربہ کیا۔

١٩٩٠ - بھارت-پاکستان مذاکرات

بھارت اور پاکستان نے وزارت خارجہ کے درمیان 'جامع مکالمہ' اور طارق عزیز اور بھارتی نمائندوں کے درمیان ایک خفیہ چینل میں شرکت کی۔

١٩٩٠s - بھارت کی اقتصادی اصلاحات

بھارت نے اقتصادی کامیابی کے لئے کچھ داخلی رکاوٹوں کو دور کیا۔

1990 کی دہائی کے اوائل

امریکہ نے پاکستان کو F-16 طیارے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔

1991 سے 2001

RSP کمیونٹیز میں فی کس حقیقی آمدنی میں اوسطاً 84 فیصد اضافہ ہوا۔

1992

عمران خان کرکٹ ورلڈ کپ میں پاکستان کی قومی ٹیم کے کپتان بنے۔

1994

بھارت نے امریکہ کے ساتھ ایک سول نیوکلیئر منصوبہ مکمل کیا۔

1995

پاول نے اپنی یادداشتیں شائع کیں۔

١٩٩٦ - کشف کی بنیاد

روشانہ ظفر نے پاکستان کے پہلے مائیکروفنانس بینک، کشف کی بنیاد رکھی۔

١٩٩٨ - پاکستان اور بھارت کے جوہری تجربات

پاکستان اور بھارت نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے۔

1998

پی آر اے ایم اور پاکستانی بحریہ نے مشترکہ مشقوں میں حصہ لیا۔

1998 تا 2001

جان شمٹ نے اسلام آباد میں امریکی سیاسی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

1999

پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کو فوجی بغاوت کے ذریعے معزول کر دیا۔

1999

بھارت اور پاکستان کے درمیان کارگل جنگ کا آغاز ہوا۔

1999

امریکہ کا افغانستان میں بن لادن کے تربیتی کیمپ پر میزائل حملہ ناکام رہا۔

سال 2000 (حدود)

چین نے پاکستان میں ڈیٹا بیس قائم کرنا شروع کیے۔

2001 (اپریل)

امریکی EP-3 جاسوسی طیارہ چینی فضائی حدود میں داخل ہوا اور گر کر تباہ ہو گیا۔

2001 (گرمیوں)

امریکی افواج نے قندھار میں طالبان سے مذاکرات کیے۔

11 ستمبر 2001

امریکہ میں دہشت گرد حملے ہوئے۔

11 ستمبر 2001 کے بعد

پاکستان امریکہ کا "فرنٹ لائن اتحادی" بن گیا "دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ" میں۔

11 ستمبر 2001 کے بعد

آئی ایس آئی نے سی آئی اے اور ایف بی آئی کے ساتھ اپنی انسداد دہشت گردی تعاون کو بڑھایا۔

11 ستمبر 2001 کے بعد

امریکہ نے پاکستان کے لیے فوجی اور غیر فوجی امداد کے پروگرام دوبارہ شروع کیے۔

ستمبر 2001 (ابتدائی)

امریکہ نے محمود سے کہا کہ وہ امریکہ اور دہشت گردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

دسمبر 2001

پاکستان نے افغان سرحد بند کر دی اور امریکی افواج کو اپنی سرزمین میں داخل ہونے کی اجازت دی۔

دسمبر 2001

نئی دہلی میں بھارتی پارلیمنٹ کی عمارت پر دہشت گرد حملہ ہوا۔

دسمبر 2001

امریکہ افغانستان کی سرحد بند کرنے اور تورا بورا میں القاعدہ کو پکڑنے میں ناکام رہا۔

دسمبر 2001 (اختتام)

امریکہ نے پاکستان کا 1.6 ارب ڈالر کا قرض معاف کر دیا۔

2002

اسلام آباد نے لشکر طیبہ پر باضابطہ پابندی لگا دی۔

2002

کشمیر کے علاقے میں بھارت پر دہشت گرد حملہ ہوا (دو چوٹیوں کا بحران)۔

2002 (ابتداء)

اے کیو خان نے زبردستی اعتراف کیا اور سرکاری معافی حاصل کی۔

٢٠٠٢ - پاکستان کی بڑی فوجی کارروائی

پاکستانی فوج نے قبائلی علاقوں فاٹا میں اپنی پہلی بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔

٢٠٠٢ - امریکی داخلی سلامتی کے اخراجات

امریکہ نے داخلی سلامتی اور دہشت گردی مخالف پروگراموں پر تقریباً 700 ارب ڈالر خرچ کیے۔

٢٠٠٣ - واجپائی کی دوستی کی پیشکش

بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے پاکستان کی طرف 'دوستی کا ہاتھ' بڑھایا۔

٢٠٠٣ - مشرف کی مشروط منظوری

پرویز مشرف نے 'اصولی طور پر' عراق کی استحکام فورس میں امن فوجیوں کی شرکت کے لیے امریکی درخواست قبول کی۔

٢٠٠٣ - پاکستان کے لیے بش کی امدادی پیشکش

بش نے پانچ سالوں میں پاکستان کو 3 ارب ڈالر کی امداد کی پیشکش کی۔

2004

پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پہلی مسلح ڈرون پروازیں کی گئیں۔

2004

پاکستانی فوج نے اپنا پہلا بڑا امن معاہدہ (شکئی معاہدہ) کیا۔

2004 (اوائل)

پرویز مشرف قاتلانہ حملے میں بچ گئے۔

2004 (فروری)

بے نظیر بھٹو نے واشنگٹن میں تقریر کی اور امریکہ سے پرویز مشرف کی آمریت کی حمایت ترک کرنے کا مطالبہ کیا۔

2004 (فروری)

پرویز مشرف نے ا.ق. خان کو معاف کر دیا۔

مارچ 2004

پرویز مشرف نے فوج کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بھیجا۔

دسمبر 2004

پرویز مشرف نے ایک ٹیلیویژن تقریر میں اعلان کیا کہ وہ صدر اور فوج کے سربراہ دونوں عہدے برقرار رکھیں گے۔

2005

7.6 شدت کے زلزلے نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا۔

مارچ 2005

بش انتظامیہ نے پاکستان کو F-16 طیاروں کی فروخت دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔

جون 2005

کونڈولیزا رائس نے قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں تقریر کی اور بش انتظامیہ کے "آزادی کے ایجنڈے" پر زور دیا۔

2005 تا 2007

رونالڈ نیومن نے کابل میں امریکی سفیر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

2006

پاکستان نے فاٹا میں ایک اور امن معاہدے پر دستخط کیے جس نے افغانستان میں طالبان بغاوت کو ہوا دی۔

2006 (فروری)

نیومن نے رائس سے اضافی وسائل کی درخواست کی۔

2006 (اکتوبر)

ایک ڈرون نے باجوڑ میں ایک دینی مدرسے میں 80 افراد کو ہلاک کر دیا۔

2006 (نومبر)

پشاور میں پہلا خودکش حملہ ہوا۔

2007

انڈس اسپتال کراچی میں کھولا گیا۔

2007

امریکی فضائیہ کے B-52 طیارے نے دو جوہری وار ہیڈز کھو دیے۔

2007 (مئی)

سلمان تاثیر کا اسلام آباد میں قتل ہوا۔

2007 (جولائی)

اسلام آباد میں لال مسجد کی بغاوت۔

2007 (جولائی)

امریکی قومی انٹیلی جنس تخمینہ نے خبردار کیا کہ القاعدہ کو فاٹا میں محفوظ پناہ گاہ حاصل ہے۔

2007 (ستمبر)

بے نظیر بھٹو نے واشنگٹن ڈی سی میں امریکی حکام سے ملاقات کی۔

2007 (نومبر)

پاکستان کے کیبل نیٹ ورکس بند کر دیے گئے۔

2007 (نومبر)

بے نظیر بھٹو پاکستان واپس آئیں۔

2007 (نومبر)

نواز شریف پاکستان واپس آئے۔

2007 سے 2008

پاکستان کی 'فوجی معیشت' میں اضافہ ہوا۔

2008 (جنوری)

پرویز مشرف نے فوجی سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا اور انتخابات کرائے۔

2008 (مارچ)

ریچرڈ ہالبروک نے پاکستان سے رپورٹ کیا کہ سیاسی تبدیلی کی امیدیں بلند ہیں۔

2008 (جولائی)

وزیر اعظم گیلانی نے کونسل آن فارن ریلیشنز میں خطاب کیا۔

2008 (جولائی)

امریکہ نے پاکستان پر سرحد پار حملوں کے بارے میں اپنی پالیسی تبدیل کی۔

2008 (گرمیوں)

پاکستان کی حمایت یافتہ حقانی نیٹ ورک کے دہشت گردوں نے خودکش بم کو کابل میں بھارتی سفارتخانے سے ٹکرا دیا۔

2008 (ستمبر)

ٹرک بم نے اسلام آباد کے میریٹ ہوٹل کو جلتے ہوئے گڑھے میں تبدیل کر دیا۔

2008 (ستمبر)

امریکی اسپیشل فورسز نے جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کمپاؤنڈ پر حملہ کیا۔

2008 (ستمبر)

امریکی سینیٹ نے بھارت کے ساتھ سول جوہری تجارت کھولنے کے تاریخی معاہدے کے حق میں 86-13 ووٹ دیے۔

2008 (نومبر)

ممبئی میں لشکر طیبہ کے دہشت گرد حملے۔

2008 سے 2009

امریکہ نے اپنی پہلی 'اف پاک' اسٹریٹجک جائزہ لیا۔

2009

امریکہ کے پاس 7000 ڈرون تھے۔

2009 (بہار)

پاکستانی طالبان نے اسلام آباد کے قریب علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھایا۔

2009 (جون)

جان کیری نے پاکستان امدادی بل (KLB) کے ایوان کی ورژن پر عوامی تنقید کی۔

2009 (گرمیوں)

ایک ڈرون سے ہیل فائر میزائل نے پاکستانی طالبان کے رہنما بیت اللہ محسود کو ہلاک کر دیا۔

اکتوبر 2009

امریکی کانگریس نے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کا قانون (KLB) منظور کیا۔

نومبر 2009

میتھیو روزنبرگ اور ڈینیئل برہلک کو سی آئی اے کے جاسوس کے طور پر شناخت کرنے والا بیان جاری ہوا۔

دسمبر 2009

اوباما نے افغانستان میں 30,000 اضافی فوجی بھیجنے کا اعلان کیا۔

2010

پاکستان نے 400 دہشت گرد حملے برداشت کیے جن میں 866 شہری ہلاک ہوئے۔

2010

پاکستان نے انڈس ہسپتال کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں 100,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا۔

٢٠١٠ - پاکستانی افواج نے طالبان کو نکالا

پاکستانی افواج نے طالبان پاکستان کو باجوڑ کے خار علاقے سے نکال دیا۔

٢٠١٠ - امریکی قونصل خانے پر حملہ

پشاور میں امریکی قونصل خانے پر حملہ ہوا۔

٢٠١٠ - رابرٹ گیٹس کا بھارت کے صبر پر بیان

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا کہ دہشت گرد حملوں کے خلاف بھارت کا صبر محدود ہے۔

٢٠١٠ - شہزاد کا عدالت میں اعتراف

شہزاد نے عدالت میں اعتراف کیا۔

٢٠١٠ - آئی ایس آئی کی سیاسی شاخ کی بندش

اسلام آباد میں ایک آئی ایس آئی افسر نے کہا کہ آئی ایس آئی کی 'سیاسی شاخ' بند کر دی گئی ہے۔

2010 (مئی)

عمران خان سے ملاقات۔

2010 (اکتوبر)

اوباما نے بھارت کا دورہ کیا۔

2010 (اکتوبر)

ایک سینٹینل ڈرون نے پاکستان میں بن لادن کے احاطے پر پرواز کی۔

2010 (اکتوبر)

پاکستان نے بھارت کو "پسندیدہ ترین قوم" کا درجہ دیا۔

2010 (اواخر)

جنرل کیانی نے اوباما کو 14 صفحات پر مشتمل ایک یادداشت بھیجی جس میں پاکستان اور افغانستان میں امریکی مقاصد پر سوال اٹھایا گیا۔

٢٠١٠ - رچرڈ ہالبروک کا انتقال

رچرڈ ہالبروک انتقال کر گئے۔

٢٠١٠ - پاکستان نے سول سپورٹ معاہدہ پر دستخط کیے

پاکستان نے 831 ملین ڈالر کے سول پروگرام کی حمایت کے معاہدے پر دستخط کیے۔

٢٠١١ - چین کی فوجی بجٹ رپورٹ

چین نے امریکی کانگریس کو سالانہ رپورٹ جاری کی جس میں کہا گیا کہ چین کا فوجی بجٹ 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

٢٠١١ - آئی ایس آئی کے نقصانات طالبان کے خلاف

آئی ایس آئی نے پاکستانی طالبان کے خلاف لڑائی میں ستر افسران کھو دیے۔

٢٠١١ - اے کیو خان کا پاکستان پر مضمون

اے کیو خان نے ایک مضمون میں لکھا کہ پاکستان "اب بھی امریکہ کا غلام ہے۔"

2011

ہندوستان نے اقوام متحدہ میں لیبیا اور شام کی حمایت کی۔

2011 (جنوری)

نوید بٹ نے "پاکستان کی مسلح افواج کے نام کھلا خط" لکھا۔

2011 (جنوری)