Womansplaining

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

وومن اسپلیننگ: پاکستان میں سرگرمی، سیاست اور جدیدیت کی راہیں

Womansplaining

مرتب اور مصنف: شیری رحمان (مدیرہ)

یہ کتاب مضامین کا مجموعہ ہے جو پاکستان میں خواتین کے کردار کو سرگرمی، سیاست اور میڈیا کے تناظر میں پیش کرتا ہے۔ شیری رحمان کی ادارت میں شائع ہونے والی یہ تحریریں صنفی مسائل، سیاسی شمولیت اور خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو اجاگر کرتی ہیں۔ مصنفین دکھاتے ہیں کہ خواتین کس طرح مردانہ غلبے والے ڈھانچوں میں اپنی جگہ بناتی ہیں۔ کتاب جدید پاکستان میں سماجی تبدیلی کی متحرک تصویر پیش کرتی ہے۔

صفحات کی تعداد ٢٩١
ٹائم لائن مراحل ٣٩

اس کتاب کی ٹائم لائن

۱۹۰۳

بمبئی میں محمدن ایجوکیشنل کانگریس میں خواتین نے پہلی بار منظم طریقے سے تعلیم کے حق کا مطالبہ کیا۔ اہمیت: یہ واقعہ خواتین کے تعلیمی حق کو تسلیم کرنے کے لیے اولین اجتماعی اقدامات میں سے ایک تھا، جس نے اس مسئلے کو عوامی مطالبہ بنا دیا۔

۱۹۰۸

انجمن خواتین اسلام قائم ہوئی۔ اہمیت: یہ اقدام مسلم خواتین کی حالت بہتر بنانے کے لیے ایک تنظیمی ادارہ قائم کرنے کی ابتدائی کوشش تھی اور مستقبل کی سرگرمیوں کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

۱۹۱۷

خواتین نے برابر ووٹنگ کے حق کے لیے مظاہرہ کیا اور 'بی اما' نے خلافت تحریک کے دوران عوامی میدان میں شرکت کر کے صنفی علیحدگی کے اصولوں کو چیلنج کیا۔ اہمیت: یہ واقعات خواتین کی منظم سیاسی شرکت کے آغاز کی نشاندہی کرتے ہیں اور قائم شدہ سماجی اصولوں کو چیلنج کرتے ہیں۔

۱۹۲۹

محمد علی جناح، بانی پاکستان، نے بچوں کی شادی کی پابندی کے بل کی حمایت کی۔ اہمیت: یہ حمایت ابتدائی مراحل میں خواتین کے حقوق سے متعلق قانونی اصلاحات کے لیے اعلیٰ سطحی سیاسی حمایت کی نشاندہی کرتی ہے اور ان مطالبات کو جائز قرار دیتی ہے۔

۱۹۳۸

مسلم لیگ پاکستان کی خواتین کی شاخ تشکیل دی گئی۔ اہمیت: اس اقدام نے پاکستانی قوم پرست تحریک میں خواتین کی سیاسی شمولیت کو ادارہ جاتی شکل دی اور فاطمہ جناح جیسی مستقبل کی خواتین رہنماؤں کے لیے قومی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔

۱۹۴۷ (آزادی کے بعد)

خواتین کی نیشنل گارڈ کو مذہبی جماعتوں کے دباؤ میں تحلیل کر دیا گیا۔ اہمیت: یہ واقعہ خواتین کی عوامی شرکت اور تنظیم کے خلاف مذہبی قوتوں کے منفی ردعمل کی ابتدائی مثال تھا، جو پاکستان کی تاریخ میں ایک بار بار آنے والا نمونہ بن گیا۔

۱۹۴۸

ہزاروں خواتین نے خواتین کے وراثتی حقوق پر مشتمل شریعت بل کی رپورٹ کو ہٹانے کے خلاف اسمبلی کی طرف مارچ کیا، جس کے نتیجے میں مسلم پرسنل لا کی منظوری ہوئی۔ اہمیت: یہ آزادی کے بعد کی کامیاب عوامی تحریک کی ایک مثال تھی جس کے نتیجے میں ایک اہم قانونی کامیابی حاصل ہوئی۔

۱۹۴۸

لاہور میں ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن (DWA) کی بنیاد رکھی گئی؛ ایک بائیں بازو کی تحریک جو کام کرنے والی خواتین کے حقوق پر مرکوز تھی۔ اہمیت: یہ تحریک مارکسزم سے متاثر پہلی نسوانی تنظیم تھی، جس نے خواتین کی جدوجہد کو طبقاتی مسائل سے جوڑا۔

١٩٥٤ - خواتین کے حقوق کا چارٹر

بیگم شاہنواز کے تیار کردہ 'خواتین کے حقوق کا چارٹر' کو مجلس مؤسسان نے منظور کیا۔ اہمیت: یہ چارٹر پاکستان میں خواتین کے اقتصادی اور سماجی حقوق کو تسلیم کرنے کے لیے ایک بنیادی قانونی دستاویز تھا۔

١٩٥٥ - خواتین کے حقوق کے لیے متحدہ محاذ

'خواتین کے حقوق کے لیے متحدہ محاذ' نے کثرت ازدواج کے خلاف مہم شروع کی۔ اہمیت: اس مہم نے قانونی اصلاحات کے کمیشنوں کی تشکیل کی راہ ہموار کی اور مسلم عائلی قوانین کے کلیدی قانون کی منظوری کی بنیاد رکھی۔

١٩٦١ - مسلم عائلی قوانین آرڈیننس

'مسلم عائلی قوانین آرڈیننس' منظور ہوا۔ اہمیت: یہ قانون خواتین کے قانونی حقوق میں ایک بڑا سنگ میل تھا، جس نے پہلی بار کثرت ازدواج اور خودسرانہ طلاق کو منظم کیا اور خواتین کو اپنی حفاظت کے لیے محدود قانونی اوزار فراہم کیے۔

١٩٦٥ - فاطمہ جناح کا صدارتی انتخابی مہم

فاطمہ جناح نے اس وقت کے فوجی آمر جنرل ایوب خان کے خلاف مقابلہ کیا اور خواتین کی سیاسی طاقت کی علامت بن گئیں۔

١٩٧٠-١٩٧٧ - ذوالفقار علی بھٹو کا دور اور خواتین کی سیاسی شمولیت

اس دور میں خواتین کے لئے سیاسی جگہ میں وسعت آئی اور وہ مرکزی دھارے کی سیاست میں داخل ہوئیں۔

ستمبر 1981

گروپ 'شرکت گاہ' نے 'حدود قوانین' کے تحت فہمیدہ نامی عورت اور اللہ بخش نامی مرد کی سزا کے بارے میں سنا، جنہیں بالترتیب 100 کوڑے اور سنگسار کی سزا سنائی گئی تھی۔ اہمیت: اس واقعے نے منظم کارروائی کو جنم دیا جس کے نتیجے میں 'ویمنز ایکشن فورم' (WAF) کی تشکیل ہوئی۔

1981

'ویمنز ایکشن فورم' (WAF) کراچی میں قائم ہوا اور جلد ہی لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں پھیل گیا۔ اہمیت: WAF کا قیام پاکستان کی جدید خواتین کی تحریک کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ تھا، جو آمریت اور جبر کے خلاف مزاحمت کے لئے ایک قومی، مربوط پلیٹ فارم فراہم کرتا تھا۔

12 فروری 1983

احتجاج کرنے والی خواتین جو لاہور کے چیف جسٹس کو مجوزہ قانون شہادت کے خلاف درخواست پیش کرنے کے لئے مارچ کر رہی تھیں (جو عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کا نصف سمجھتا تھا) کو پولیس نے وحشیانہ طور پر مارا پیٹا۔ اہمیت: یہ دن خواتین کے خلاف ریاستی تشدد کی علامت بن گیا۔

1985

وفاقی شرعی عدالت نے صفیہ بی بی کی سزا کو کالعدم قرار دیا، جو ایک نابینا عورت تھی جو زیادتی کے بعد حاملہ ہوئی اور زنا کا الزام لگایا گیا تھا۔ اہمیت: یہ تحریک کے لئے ایک اہم قانونی فتح تھی، جس نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر 'زنا آرڈیننس' کی جابرانہ اور غیر منصفانہ نوعیت کو اجاگر کیا۔

اپریل 1986

بے نظیر بھٹو جلاوطنی سے واپس آئیں۔ اہمیت: ان کی واپسی نے انتخابات کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی امیدوں کو بڑھایا اور خواتین کی تحریک کے سڑکوں پر احتجاج کے پہلو کو جزوی طور پر کم کر دیا، کیونکہ بہت سے کارکنان نے اپنی امیدیں ان کی سیاسی قیادت پر لگا دیں۔

۱۷ اگست ۱۹۸۸

جنرل ضیاء الحق ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے اور جمہوریت کی واپسی کا راستہ ہموار ہوا۔ اہمیت: اس واقعے نے سیاسی منظرنامے کو مکمل طور پر بدل دیا اور تحریک کی حکمت عملی کو آمریت کے خلاف محاذ آرائی کی سیاست سے منتخب جمہوری حکومتوں کے ساتھ تنقیدی تعامل کی طرف منتقل کر دیا۔

۱۹۸۸

۱۹۹۰ اور ۱۹۹۳-۱۹۹۶: بے نظیر بھٹو نے دو بار وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں۔ اہمیت: اس دور میں خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور حکومت کے درمیان قریبی تعاون دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں خواتین کے پہلے بینک کا قیام، اعلیٰ عدالتوں میں خواتین ججوں کی تقرری اور خواتین کے پولیس اسٹیشنوں کا قیام جیسے ٹھوس اقدامات کیے گئے۔

۱۹۹۱

ویمنز ایکشن فورم (WAF) نے اپنے آپ کو ایک سیکولر اور غیر جانبدار ادارے کے طور پر اعلان کیا۔ اہمیت: یہ تحریک کے اندر ایک اہم نظریاتی وضاحت تھی، جس نے سیاسی جماعتوں کی واپسی کے بعد اس کی آزادانہ شناخت کو مستحکم کیا۔

۱۹۹۴

بے نظیر بھٹو کی حکومت نے 'لیڈی ہیلتھ ورکرز' پروگرام متعارف کرایا۔ اہمیت: یہ عوامی صحت کے نظام میں ایک انقلابی، خواتین پر مبنی مداخلت تھی، جو مقامی خواتین کے ایک گروپ کے ذریعے دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرتی تھی۔

۱۹۹۵

چوتھی عالمی خواتین کانفرنس بیجنگ میں منعقد ہوئی۔ اہمیت: یہ واقعہ حکومت اور سول کارکنوں کے درمیان تعاون کی چوٹی کی نشاندہی کرتا ہے، جس نے وسیع بین الاقوامی نیٹ ورکنگ میں مدد کی، لیکن بین الاقوامی فنڈز کی آمد کے ساتھ تحریک کی 'این جی اوائزیشن' کو بھی تیز کیا۔

۱۹۹۶

'صائمہ وحید' کیس، جو عورت کے ولی کی رضامندی کے بغیر شادی کے حق کے بارے میں تھا، ان کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے لاہور ہائی کورٹ میں پیش کیا۔ اہمیت: یہ ایک اہم قانونی جنگ تھی جو مذہبی دائیں بازو کی شدید مخالفت کے باوجود خواتین کے انتخابی حقوق کے حق میں ختم ہوئی۔

۱۹۹۹

سینیٹ میں سمیہ سرور کے 'غیرت کے نام پر قتل' کی مذمت کے لیے ایک قرارداد مسترد کر دی گئی، جو اپنے وکیل حنا جیلانی کے دفتر میں اپنے خاندان کے ہاتھوں قتل ہو گئی تھی۔ اہمیت: اس چونکا دینے والے واقعے نے اعلیٰ حکومتی اداروں میں مردانہ بالادستی کے اصولوں کے گہرے اثر و رسوخ کو بے نقاب کیا۔

۲۰۰۲

قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 17% کوٹہ سسٹم متعارف کرایا گیا۔ اہمیت: اس اقدام نے خواتین کی سیاسی نمائندگی میں نمایاں اضافہ کیا، پارلیمانی گفتگو کو تبدیل کیا اور خواتین کو قانون سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرنے والا بنا دیا۔

۲۰۰۴

فوجداری قانون میں ترمیم کے تحت غیرت کے نام پر قتل کو باضابطہ طور پر غیر قانونی قرار دیا گیا۔ اہمیت: یہ ایک اہم قانونی فتح تھی جس نے 'غیرت' کے نام پر قتل کو مجرمانہ جرم کے طور پر تسلیم کیا، حالانکہ حتمی قانون سیاسی سمجھوتوں کی وجہ سے کمزور ہو گیا تھا۔

۲۰۰۶

'تحفظ خواتین (فوجداری قوانین میں ترمیم)' نافذ کیا گیا، جس نے مؤثر طریقے سے خواتین مخالف زنا کے قانون کو کمزور کر دیا۔ اہمیت: یہ ایک بڑی قانونی فتح تھی اور حدود قوانین کے خلاف خواتین ایکشن فورم (WAF) کی دہائیوں پر محیط جدوجہد کا نقطہ عروج تھا۔

۲۷ دسمبر ۲۰۰۷

بے نظیر بھٹو کو قتل کر دیا گیا۔ اہمیت: یہ ایک نمایاں خاتون رہنما کا المناک نقصان تھا جنہوں نے مذہبی انتہا پسندی کو کھل کر چیلنج کیا، اور ان کی موت نے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر گہرا اثر ڈالا۔

۲۰۰۸

'بینظیر انکم سپورٹ پروگرام' (BISP) متعارف کرایا گیا، جو شدید غربت میں مبتلا خواتین سربراہان خانہ کو براہ راست نقد امداد فراہم کرتا تھا۔ اہمیت: یہ پاکستان کا پہلا جامع سماجی تحفظ کا نیٹ ورک تھا جو خصوصی طور پر خواتین کو بنیادی فائدہ اٹھانے والے کے طور پر ہدف بناتا تھا۔

۲۰۱۰

پاکستان کی حکومت نے باضابطہ طور پر ۱۲ فروری کو 'قومی خواتین کا دن' تسلیم کیا۔ اہمیت: یہ اقدام ۱۹۸۳ کے تاریخی احتجاج اور خواتین کی تحریک کی جدوجہد کو حکومت کی طرف سے باضابطہ تسلیم کرنے کے مترادف تھا۔

۲۰۱۰

کام کی جگہ پر خواتین کے خلاف ہراسانی سے تحفظ کا قانون منظور ہوا۔ اہمیت: یہ ایک اہم قانونی کامیابی تھی جس نے خواتین کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے درمیان ان کی حفاظت کو سیاسی ترجیح بنایا اور پہلی بار کام کی جگہ پر قابل قبول رویے کی حدود کو واضح کیا۔

۲۰۱۲

قومی کمیشن برائے حیثیت خواتین (NCSW) کا قانون منظور ہوا، جس نے اس ادارے کو مالی اور انتظامی خودمختاری دی۔ اہمیت: یہ خواتین کے حقوق کے لیے ایک مستقل، خودمختار نگران ادارہ بنانے کے WAF کے بنیادی مطالبات میں سے ایک کو پورا کرتا ہے۔

۲۰۱۶

غیرت کے نام پر قتل کے خلاف تحفظ کو مضبوط کرنے کے لیے ایک قانون منظور ہوا۔ اہمیت: اس قانون کا مقصد غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں قانونی راستوں کو بند کرنا تھا، خاندان کی طرف سے 'معافی' کے امکان کو محدود کر کے۔

فروری ۲۰۱۸

عاصمہ جہانگیر، پاکستان میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی ایک نمایاں علامت، انتقال کر گئیں۔ اہمیت: تحریک کی ایک بے باک اور بااثر شخصیت کے نقصان نے انسانی حقوق کی سرگرمیوں کے مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا کیے، لیکن ساتھ ہی نئی نسل کو جاری رکھنے کے لیے تحریک دی۔

مارچ ۲۰۱۸

پہلا 'عورت مارچ' (خواتین کا مارچ) پاکستان کے بڑے شہروں میں عالمی یوم خواتین پر منعقد ہوا۔ اہمیت: یہ واقعہ پاکستان میں نسائیت کی نئی لہر کی علامت بن گیا؛ ایک عوامی، کثیر طبقاتی اور تخلیقی تحریک جس نے جرات مندانہ نعروں کے ساتھ سماجی ممنوعات کو چیلنج کیا۔

اپریل ۲۰۱۸

پاکستان کی تفریحی صنعت میں الزامات کے ساتھ، عالمی #MeToo تحریک نے ملک میں رفتار پکڑی۔ اہمیت: اس تحریک نے جنسی ہراسانی پر وسیع عوامی مباحثوں اور قانونی جنگوں کو جنم دیا، خاص طور پر شہری تعلیم یافتہ طبقات میں خاموشی کی ثقافت کو توڑ دیا۔

۲۰۱۹

عورت مارچ دوسرے سال کے لیے زیادہ شرکت کے ساتھ منعقد ہوا اور مذہبی اور میڈیا حلقوں کی طرف سے زیادہ منظم اور شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ اہمیت: اس واقعہ نے نئی تحریک کی استقامت اور ترقی کو ظاہر کیا جبکہ پاکستانی معاشرے میں گہری نظریاتی تقسیم کو اجاگر کیا۔

ستمبر ۲۰۲۰

لاہور ہائی وے پر بچوں کے سامنے ایک خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی نے ملک گیر غم و غصے اور عوامی غصے کو جنم دیا۔ اہمیت: WAF اور عورت مارچ کے منتظمین کی حمایت سے تشکیل پانے والی یہ پرجوش عوامی مہم خواتین کی حفاظت اور انصاف کے لیے وسیع عوامی حمایت کو ظاہر کرتی ہے۔