کلیات اقبال

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

کلیات اقبال

Kulliyat-e-Iqbal

مرتب اور مصنف: علامہ محمد اقبال

یہ کتاب علامہ محمد اقبال کی مکمل اردو شاعری پر مشتمل ہے۔ اس میں “بانگِ درا”، “بالِ جبریل”، “ضربِ کلیم” اور “ارمغانِ حجاز” شامل ہیں۔ اقبال کی شاعری خودی، اسلامی بیداری، آزادی اور فکری احیاء جیسے موضوعات پر زور دیتی ہے۔ یہ مجموعہ پاکستان کی فکری بنیادوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

صفحات کی تعداد ٦٨٣
ٹائم لائن مراحل ٦

اس کتاب کی ٹائم لائن

۱۹۰۵

۱۹۰۸: یورپ میں قیام اور کیمبرج و میونخ میں تعلیم۔ یہ دور اقبال کے مغربی جدیدیت کے بنیادی اصولوں کے ساتھ براہ راست مقابلے کا نقطہ عطف ہے۔ نتائج کا تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی تہذیب کے بحرانوں کا مشاہدہ ان کے مغربی قوم پرستی اور سیکولرازم کے بارے میں شکوک کی بنیاد بنا۔

۱۹۲۴

مجموعہ 'بانگِ درا' کی اشاعت۔ یہ کتاب بیداری کے لئے پہلی رسمی پکار اور اقبال کی فکر کے قافلے کی حرکت کی علامت ہے۔ اس دور میں، انہوں نے ابتدائی قوم پرستانہ دلچسپیوں (جیسے ہندوستانی ترانہ) کو چھوڑ کر اسلامی عالمی وحدت (قومی ترانہ) کی طرف رخ کیا؛ یہ اثر ایک مشعل راہ ہے۔

۱۹۳۱

۱۹۳۲: لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت اور مکہ و افغانستان کا سفر۔ یہ براہ راست سیاسی سرگرمیاں ان کے ذہن میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد سیاسی شناخت کی تشکیل کی ضرورت کو مستحکم کرتی ہیں۔ اس واقعہ کا نتیجہ فلسفیانہ تجرید سے 'فقیہ' کے لئے ٹھوس ماڈلز پیش کرنے کی طرف منتقلی تھا۔

۱۹۳۵

مجموعہ 'بالِ جبریل' کی اشاعت۔ یہ کام اقبال کی روحانی اور فلسفیانہ پختگی کی انتہا کے طور پر 'مرد مومن' اور 'شاہین' کے تصور کو نئے انسانی معیار کے ماڈل کے طور پر متعارف کراتا ہے۔ نتائج کا تجزیہ 'عشق' کے مغربی 'عقل ابزاری' کے ساتھ واضح تصادم کو ظاہر کرتا ہے؛ اس مرحلے پر اقبال۔

۱۹۳۶

مجموعہ 'ضربِ کلیم' کی اشاعت۔ اقبال نے اس کتاب کو واضح طور پر 'موجودہ دور کے خلاف اعلان جنگ' کہا۔ یہ کام سیکولرازم، بے روح مغربی علم اور فکری غلامی کے خلاف ان کی فکری محاذ ہے۔ اس کا سماجی اثر نوآبادیاتی فکری بتوں کو توڑنا اور اس حقیقت کو واضح کرنا تھا کہ آزادی۔

١٩٣٨ - ارمغانِ حجاز کی اشاعت

یہ کام، جو فارسی اور اردو میں لکھا گیا، اقبال کی 'روحانی وصیت' ہے۔ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا، اس نے فارسی اور اردو کے درمیان پل بنایا۔