مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
آخر کار پاکستان کامیاب ہو گیا ۔ یہ سفرآسان نہ تھا لیکن پاکستان نے اللہ کے کرم سے یہ کر دکھایا ۔ یہ صرف کسی رسم دنیایا موقع یا دستور کی بات نہیں ہے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران امریکہ معاہدہ پاکستان کی تاریخ کی چند بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے اوراس پر ہر پاکستانی کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ دن دکھائے ۔ایسے چمکتے دن جب پاکستان اقوام عالم میں پورے قدا اور وقار کے ساتھ سرخرو کھڑا ہے ۔ قوموں کی زندگی میں دھوپ چھاؤں آتی ہے، ہم جیسوں کوبھی یقین تھا، چھاؤں آئے گی۔ ہم نہیں دیکھیں گے تو ہماری آئندہ نسل دیکھے گی۔ مگر ہم نے کب یہ سوچا تھا کہ وقت کا موسم یوں بدل جائے گا۔ اچانک ہی، دیکھتے ہی دیکھتے، جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے۔ ابھی کل کی بات ہے، پاکستان کی سفارتی تنہائی کے طعنے دیے جاتے تھے اور فرد جرم ساتھ روانہ کی جاتی تھی۔ اب مگر نامہ بر آتا ہے تو مبارک سلامت ساتھ لاتا ہے۔ ایک پوچھیں تو وہ ہزار سناتا ہے۔ اس کی وارفتگی ہی ختم نہیں ہوتی۔ کہتا ہے خط نہیں لایا، حیرتوں کی بیاض لایا ہوں۔ یہ کوئی معمولی بحران نہ تھا، تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تھا۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ ایران اور عرب کی جنگ ہو جائے اور اسلامی تہذیب آپس میں الجھ کر تباہ ہو جائے۔ ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی دھمکی دی جا ری تھی۔ عالمی برادی لاتعلق کھڑی تھی اورا قوام متحدہ بے بس تھی۔ ایسے میں یہ پاکستان تھا جس نے مسیحائی کی۔ پاکستان نے وہ فرض ادا کیا جو اقوام متحدہ سے قضا ہو گیا تھا۔ پاکستان نے وہ قرض اتارا جو اس پر واجب بھی نہیں تھا۔ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد ایک شور مچا تھا کہ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ ابتدا ہی میں عرض کی تھی کہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے، کامیاب ہوئے ہیں اور پاکستان سرخرو ہوا ہے۔ تب بہت ساروں نے مان کر نہ دیا، طعنے اچھالیا ور گرہیں لگائیں لیکن آج وہی ہوا اور پاکستان اقوام عالم میں سرخرو کھڑا ہے۔ کیا یہ آسان تھا کہ امریکہ کسی ملک پر جنگ مسلط کر دے اورپھر دنوں میں امریکہ سے جنگ بندی کروا لی جائے، پاکستان نے یہ کر دکھایا۔ پاکستان نے ایران اور سعودیہ کی جنگ کی سازش کو ناکام بنایا۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل جنگ کے دوران ایران جا پہنچے، ایک بار نہیں ۔ بار بار ، کیا خیر خواہی اور جرات کی ایسی مثال دور جدید میں کہیں مل سکتی ہے؟ کون سا ملک ہے جو دوسروں کی جنگ کے دوران اپنی فوجی قیادت کو اس طرح خطرات سے دوچار کر دے۔ یہ وہی کر سکتا ہے جس کا دل امت کی خیر خواہی میں دھڑکتا ہو۔ پاکستان کی سٹریٹیجک پلاننگ دیکھیے کہ جس وقت فیلڈ مارشل ایران پہنچے، پاکستان اپنی فضائیہ سعودی عرب میں تعینات کر چکا تھا اور اسرائیل کو معلوم تھا کوئی شرپسندی کی تو جواب دینے کے لیے پاکستان کے طیارے اسلام آباد سے نہیں اڑیں گے، وہ پہلے ہی اسرائیلی شہ رگ دبوچنے کے لیے خطے میں موجود ہیں۔ ہماری نسل کے پاکستانیوں کے لیے یہ تیسری بڑی خوشی ہے۔ پہلی خوشی وہ تھی جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا، دوسری خوشی وہ تھی جب پاکستان نے آپریشن بنیان المرصوص میں ہندتوا کے غرور کو خاک میں ملایا تھا اور تیسری خوشی یہ ہے جب پاکستان نے انسانیت کو تباہی سے بچا لیا ہے۔یہ بالکل ایک نیا پاکستان ہے۔ یہ وہ پاکستان ہے جس نے بنیان المرصوص کے بعد جنم لیا ہے۔ ایک با اعتماد، باوقار پاکستان۔ جو ایک فوجی طاقت بھی ہے ا ور امن کا استعارہ بھی۔ جہاں ساری مغربی دنیا لاتعلق ہو کر ایک طرف بیٹھی تھی، پاکستان بھی بیٹھ سکتا تھا۔ پاکستان کے لیے کون سا مشکل کام تھا کہ اس سارے کھیل سے دامن بچا کر الگ ہو جاتا اور حسب ضرورت اقوال زریں جیسے دو چار بیانات دیتا رہتا تا کہ سند رہے۔ جہاں سارا یورپ اس قضیے سے بے نیاز ہے اور جہاں اقوام متحدہ بھی عملاً اپنے ہاتھ کھڑے کر کے دہائی دے رہی ہے کہ ’جاگدے رہنا، میرے تے نہ رہنا‘ وہاں پاکستان بھی دوسری طرف منہ کر کے بہار کے گیت گنگنا سکتا تھا۔ پاکستان نے مذاکرات کا یہ بھاری پتھر آخر کیوں اٹھایا؟ سادہ سا جواب ہے، پاکستان کی دلچسپی کی دوبڑی وجوہات تھیں۔ پاکستان سمجھتا تھا کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ وہ اسے وسیع تناظر میں دیکھ رہا تھا۔ اسے معلوم تھا اس جنگ کا حقیقی معمار بھی صیہونیت ہے اور اس کے مقاصد کا تعین بھی اسرائیل کر رہا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ یہ جنگ کسی طرح ایران اور عربوں کی جنگ میں بدل جائے۔ یہ سازش کامیاب ہو جاتی اگر بیچ میں پاکستان نہ ہوتا۔ یہ پاکستان تھا جس نے اس سازش کو ناکام بنایا۔ پاکستان ہی نے ایران سے بات کی اور پاکستان ہی کے کہنے پر سعودی عرب نے بھی غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ جو آتش فشاں پھٹ نہ سکا اور بعد میں باہمی رابطے سے جو برف پگھلی اس کی وجہ پاکستان ہے۔ مذاکراتی عمل میں پاکستان کی دلچسپی کی پہلی بڑی وجہ یہ خیر خواہی تھی کہ امت آپس میں الجھ کر نہ رہ جائے، ایسا نہ ہو کہ مسلم معاشرے میدان جنگ بن جائیں اور دشمن بیٹھ کر تماشا دیکھتا رہے۔ مذاکراتی عمل میں پاکستان کی دلچسپی کی دوسری بڑی وجہ ایران سے خیر خواہی تھی۔ پڑوسی ملک ہے، مذاکراتی عمل سے اگر تباہی ٹل سکتی ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے۔ پاکستان اور ایران عشروں سے ساتھ رہ رہے ہیں۔ دھوپ چھاؤں سے واقف ہیں، پاکستان کی یہ خواہش تھی کہ مذاکرات سے معاملہ سنبھل جائے، رجیم چینج کی طرف بات نہ جائے۔ بڑی تباہی نہ ہو۔ پاکستان اس سب میں کامیاب ہے۔ پاکستان نے امت کی خیر خواہی کی۔ پاکستان نے اس خطے کو ہی نہیں ، ساری دنیا کو اس جنگ سے بچایا ہے۔ اس جنگ کی آگ نے آگے بڑھ کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لینا تھا۔ یہ یہاں تک محدود رہنے والی نہیں تھی۔دنیا کو پاکستان کا مشکور ہونا چاہیے ۔پاکستان نے وہ کام کیا ہے جو اقوام متحدہ سے بھی نہ ہو سکتا تھا
اس مضمون کے مصنفین