Cover Point

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

پاکستان میں قیادت کے تاثرات

Cover Point

مرتب اور مصنف: جمشید مارکر

کتاب Cover Point جمشید مارکر کی چار دہائیوں پر مشتمل سفارتی خدمات کے تجربات کی عکاسی کرتی ہے۔ مارکر ایک ایسے مبصر کے طور پر لکھتے ہیں جو اقتدار کے قریب بھی رہا اور تجزیاتی فاصلے سے بھی جائزہ لیتا ہے—جسے وہ کرکٹ کی اصطلاح “کور پوائنٹ” سے تعبیر کرتے ہیں۔ وہ پاکستان کے طاقتور رہنماؤں کی شخصیات، پالیسیوں اور فیصلوں پر روشنی ڈالتے ہیں۔ کتاب میں درباری کلچر، خوشامد اور اندرونی حلقوں کے اثرات کے ساتھ ساتھ قیادت کے تاریخی چیلنجز کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

صفحات کی تعداد ٢٣٥
ٹائم لائن مراحل ٦٥

اس کتاب کی ٹائم لائن

آزادی کی تقریبات

14 اگست 1947: پاکستان اور بھارت کی آزادی کا جشن منایا جاتا ہے۔ "آغا محمد یحیی خان" کوئٹہ کلب کی تقریب میں سینئر پاکستانی افسر کے طور پر خطاب کرتے ہیں۔

١٩٤٨ - جناح کا انتقال

"محمد علی جناح"، بانی پاکستان، انتقال کر جاتے ہیں۔ "خواجہ ناظم الدین" گورنر جنرل اور "لیاقت علی خان" وزیر اعظم بن جاتے ہیں۔

١٩٥٠ - مارکر کو پیشکش

"لیاقت علی خان" "جمشید مارکر" کو پاکستان کی خارجہ سروس میں شامل ہونے کی پیشکش کرتے ہیں، لیکن "مارکر" خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے انکار کر دیتے ہیں۔

١٩٥١ - لیاقت کا قتل

"لیاقت علی خان" راولپنڈی میں ایک عوامی تقریر کے دوران قتل کر دیے جاتے ہیں۔ "غلام محمد" گورنر جنرل اور "خواجہ ناظم الدین" وزیر اعظم مقرر ہوتے ہیں۔

١٩٥٣ - ناظم الدین کی برطرفی

"غلام محمد" عبوری آئین کے آرٹیکل 10 کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم "خواجہ ناظم الدین" کو برطرف کر دیتے ہیں۔ اس اقدام کو پاکستان کی تاریخ کی پہلی بغاوت سمجھا جاتا ہے۔

1955 (اگست)

"اسکندر مرزا" پاکستان کے گورنر جنرل بن جاتے ہیں۔

1956 (فروری)

پاکستان جمہوریہ بن جاتا ہے اور "اسکندر مرزا" اس کے پہلے صدر بن جاتے ہیں۔

1956

"حسین شہید سہروردی" وزیر اعظم بننے کے بعد پاکستان اور عوامی جمہوریہ چین کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم کرتے ہیں اور ایک بڑا وفد بیجنگ لے جاتے ہیں۔

1958 (7 اکتوبر)

صدر "اسکندر مرزا" آئین منسوخ کر کے مارشل لاء نافذ کرتے ہیں۔ "ذوالفقار علی بھٹو" وزیر تجارت کے طور پر کابینہ میں شامل ہوتے ہیں اور "ایوب خان" کو مارشل لاء کا سربراہ مقرر کیا جاتا ہے۔

1958 (27 اکتوبر)

"ایوب خان" ایک پرامن لیکن ڈرامائی اقدام میں "اسکندر مرزا" کو اقتدار سے ہٹا کر لندن جلاوطن کر دیتے ہیں۔ "ایوب خان" پاکستان کے صدر بن جاتے ہیں۔

1964 (اکتوبر)

"جمشید مارکر" نے "ایوب خان" سے ملاقات کی اور ان کی بطور پاکستان کے ہائی کمشنر برائے گھانا تقرری کی تصدیق ہوئی۔

1965

ہند و پاکستان کی جنگ ہوتی ہے۔

1966

"ایوب خان" اور "لال بہادر شاستری" (وزیر اعظم بھارت) تاشقند معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔ "ذوالفقار علی بھٹو" اس معاہدے کے بعد "ایوب خان" پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

1967

"ذوالفقار علی بھٹو" پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی بنیاد رکھتے ہیں۔

1968

"ایوب خان" کو دل کا دورہ پڑتا ہے اور علاج کے لیے ٹیکساس جاتے ہیں، جس سے ان کے اعتماد اور طاقت میں کمی آتی ہے۔

1969

ایوب خان، جن کے مخالف رہنما ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب الرحمان تھے، اپنی فوجی حکومت کی طاقت جنرل یحییٰ خان کو منتقل کرتے ہیں۔ یحییٰ خان آئین کو منسوخ کر کے مارشل لاء نافذ کرتے ہیں۔

1969 (اگست)

یحییٰ خان اور نکسن لاہور کے گورنر ہاؤس میں ملاقات کرتے ہیں اور امریکہ اور چین کے قریب آنے کی منصوبہ بندی شروع ہوتی ہے۔

1969 (خزاں)

جمشید مارکر یحییٰ خان سے ملاقات کرتے ہیں اور یحییٰ خان ماسکو کے دورے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔

1970 (جون)

یحییٰ خان سوویت یونین کا دورہ کرتے ہیں اور اسٹیل مل اور دیگر اقتصادی مسائل پر اہم معاہدے کرتے ہیں۔ وہ یوری وی. گانکوفسکی کی سوویت اسلحہ کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔

1971

یحییٰ خان آزاد اور منصفانہ انتخابات کراتے ہیں۔ عوامی لیگ (مجیب) اور پاکستان پیپلز پارٹی (بھٹو) فیصلہ کن کامیابیاں حاصل کرتی ہیں، جو سیاسی بحران کا باعث بنتی ہیں۔

دسمبر 1971

پاکستان بھارت کے ساتھ جنگ میں شکست کھاتا ہے اور بنگلہ دیش وجود میں آتا ہے۔ یحییٰ خان استعفیٰ دیتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو صدر اور پہلے غیر فوجی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنتے ہیں۔

ابتدائی 1972

ذوالفقار علی بھٹو ملتان میں پاکستانی جوہری سائنسدانوں سے ایک خفیہ ملاقات کرتے ہیں اور قومی سلامتی کے لئے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔

جولائی 1972

ذوالفقار علی بھٹو بھارت کے ساتھ شملہ معاہدے پر دستخط کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقبوضہ علاقوں کی واپسی اور جنگی قیدیوں کی واپسی ہوتی ہے۔

١٩٧٢ - نکسن کا چین کا دورہ

نکسن چین کا دورہ کرتے ہیں اور شنگھائی معاہدے پر دستخط کرتے ہیں۔

١٩٧٣ - پاکستان کا نیا آئین

پاکستان کا نیا آئین منظور ہوتا ہے، جو وزیر اعظم کو اختیارات منتقل کرتا ہے، اور بھٹو اس عہدے کو سنبھالتے ہیں۔

١٩٧٤ - لاہور اسلامی سربراہی اجلاس

ذوالفقار علی بھٹو لاہور اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرتے ہیں اور بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

١٩٧٤ - احمدیوں کو اقلیت قرار دیا گیا

ذوالفقار علی بھٹو پارلیمانی قانون پاس کرتے ہیں جو احمدیوں/قادیانیوں کو اقلیت قرار دیتا ہے۔

١٩٧٤ - بھٹو کے خلاف قتل کا الزام

احمد رضا قصوری ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قتل کی شکایت درج کرتے ہیں۔

١٩٧٦ - وفاقی سیکیورٹی فورس کی توسیع

وفاقی سیکیورٹی فورس (FSF) بھٹو کے تحت 18000 اہلکاروں تک پہنچ جاتی ہے جو خودکار ہتھیاروں، دستی بموں اور راکٹ لانچرز سے لیس ہیں۔

١٩٧٧ - متنازعہ عام انتخابات

ذوالفقار علی بھٹو عام انتخابات منعقد کرتے ہیں جو شدید دھاندلی زدہ تھے، جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج ہوتا ہے۔

١٩٧٧ - ضیاء الحق کی فوجی بغاوت

جنرل محمد ضیاء الحق بغاوت کرتے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ ضیاء الحق مارشل لاء کا اعلان کرتے ہیں۔

١٩٧٧ - سپریم کورٹ نے مارشل لاء کو جائز قرار دیا

سپریم کورٹ نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کو 'ضرورت کے نظریے' کے تحت جائز قرار دیا۔

١٩٧٨ - بھٹو کو مجرم قرار دیا گیا

لاہور ہائی کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کو 'مرکزی مجرم' قرار دے کر سزائے موت سنائی۔

١٩٧٨ - ضیاء کا بھٹو کی قسمت پر انٹرویو

آبزرور لندن کے گاوین یانگ کے ساتھ انٹرویو میں ضیاء الحق نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ بھٹو کو بے گناہ قرار دے تو وہ اسے رہا کر دیں گے، ورنہ سزائے موت کی صورت میں پھانسی دیں گے۔

١٩٧٩ - دایانا مارکر کا انتقال

دایانا مارکر، جمشید مارکر کی اہلیہ، کینسر کے باعث انتقال کر گئیں۔

١٩٧٩ - ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی

ذوالفقار علی بھٹو کو راولپنڈی جیل میں پھانسی دی گئی۔

١٩٧٩ - سوویت حملہ افغانستان

سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ ہوتا ہے، جو پاکستان کی حیثیت کو ایک "منفور ملک" سے بین الاقوامی "ہیرو" میں بدل دیتا ہے۔

١٩٨٥ - پاکستان میں مارشل لاء کا خاتمہ

پاکستان میں مارشل لاء بالآخر ختم ہو جاتا ہے اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم مقرر کیا جاتا ہے۔

١٩٨٦ - بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی

بے نظیر بھٹو جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آتی ہیں اور عوامی حمایت کا وسیع استقبال حاصل کرتی ہیں۔

١٩٨٦ - آپریشن براس ٹیکس

بھارت کا آپریشن براس ٹیکس پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی کا باعث بنتا ہے، جسے ضیاء الحق سفارتی طور پر سنبھالتے ہیں۔

١٩٨٨ - جنیوا معاہدے پر دستخط

افغانستان سے سوویت افواج کے انخلاء کے بارے میں جنیوا معاہدے پر دستخط ہوتے ہیں۔

١٩٨٨ - ضیاء الحق نے حکومت تحلیل کی

ضیاء الحق نے اپنے سیاسی 'ایٹمی آپشن' کا استعمال کرتے ہوئے وزیر اعظم جونیجو اور پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا۔

١٩٨٨ - پاکستان میں عام انتخابات

پاکستان میں عام انتخابات منعقد ہوتے ہیں اور بے نظیر بھٹو اور پاکستان پیپلز پارٹی کامیاب ہوتے ہیں۔

١٩٨٨ - بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں

بے نظیر بھٹو نے پاکستان کی وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ غلام اسحاق خان صدر بن گئے۔

١٩٨٨ - ضیاء الحق کا طیارہ حادثہ

جنرل ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے صحرا میں گر کر تباہ ہو گیا، جس میں وہ اور امریکی سفیر آرنلڈ رافل ہلاک ہو گئے۔ غلام اسحاق خان صدر بن گئے۔

١٩٨٩ - بے نظیر بھٹو کا واشنگٹن ڈی سی کا دورہ

بے نظیر بھٹو واشنگٹن ڈی سی کا دورہ کرتی ہیں اور امریکی کانگریس سے خطاب کرتی ہیں۔

١٩٩٠ - نواز شریف وزیر اعظم بن گئے

نواز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم مقرر کیا گیا۔

١٩٩١ - جنرل آصف نواز آرمی چیف مقرر

جنرل آصف نواز نے جنرل اسلم بیگ کی جگہ آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا۔

١٩٩٢ - نواز شریف پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہیں

نواز شریف نے ریو ڈی جنیرو میں اقوام متحدہ کی ماحولیاتی اور ترقیاتی کانفرنس (UNCTAD) میں پاکستانی وفد کی قیادت کی۔

١٩٩٣ - جنرل آصف نواز انتقال کر گئے

جنرل آصف نواز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے، اور جنرل عبدالوحید کاکر ان کی جگہ مقرر ہوئے۔

١٩٩٣ - غلام اسحاق خان نے نواز شریف کو برطرف کر دیا

غلام اسحاق خان نے آرٹیکل 8 کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نواز شریف کو برطرف کر دیا۔

1993 کا معاہدہ

جنرل وحید کاکر ایک معاہدے کی ثالثی کرتے ہیں جس کے تحت غلام اسحاق خان اور نواز شریف دونوں استعفیٰ دیتے ہیں اور انتخابات کے انعقاد کے لئے ایک غیر جانبدار عبوری حکومت تشکیل دی جاتی ہے۔ معین الدین قریشی کو عبوری وزیر اعظم مقرر کیا جاتا ہے۔

١٩٩٣ - آزاد انتخابات کا انعقاد

معین قریشی آزاد اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرتے ہیں جو پاکستان پیپلز پارٹی کی فتح پر منتج ہوتا ہے۔

١٩٩٣ - بے نظیر بھٹو دوبارہ وزیر اعظم بنیں

بے نظیر بھٹو دوسری بار وزیر اعظم بنیں۔

١٩٩٣ - محمد خان جونیجو کا انتقال

محمد خان جونیجو کینسر کے باعث انتقال کر گئے۔

١٩٩٤ - اقوام متحدہ امن کانفرنس کا انعقاد

جنرل پرویز مشرف راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں اقوام متحدہ امن کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں۔ جمشید مارکر شرکت کرتے ہیں۔

١٩٩٦ - جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف مقرر

جنرل جہانگیر کرامت جنرل عبدالوحید کاکر کی جگہ آرمی چیف مقرر ہوتے ہیں۔

١٩٩٦ - مرتضی بھٹو کا انتقال

مرتضی بھٹو، بینظیر بھٹو کے بھائی، انتقال کر گئے۔

١٩٩٧ - نواز شریف کی دوسری مدت

نواز شریف دوسری بار بھاری اکثریت سے وزیر اعظم بنے۔

١٩٩٨ - مشرف کی بطور آرمی چیف تقرری

نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف مقرر کیا۔

١٩٩٨ - پاکستان کے جوہری تجربات

پاکستان نے بھارت کے جوہری تجربات کے جواب میں چھ جوہری تجربات کیے۔

١٩٩٩ - کارگل تنازعہ کے بعد کشیدگی

کارگل تنازعہ کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات خراب ہو گئے۔

اکتوبر 1999

پرویز مشرف نے اپنے طیارے کے اغوا اور نواز شریف کی گرفتاری کے بعد اقتدار سنبھالا اور نواز شریف کو سعودی عرب جلاوطن کر دیا۔

5 اکتوبر 2007

پرویز مشرف نے قومی مصالحتی آرڈیننس (NRO) جاری کیا۔

2008

پرویز مشرف نے استعفیٰ دے دیا۔