جغرافیای نظامی پاکستان

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

پاکستان کی عسکری جغرافیہ

Military Geography of Pakistan

مرتب اور مصنف: ڈاکٹر سیروس فخری - ڈاکٹر علی حنفی - ڈاکٹر حسین مہيبان - ڈاکٹر داؤد امینی - ڈاکٹر محسن جان پرور - ڈاکٹر محسن مرادیان - ڈاکٹر علی اصغر مفیدی

یہ کتاب پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی سلامتی پر اثر انداز ہونے والے جغرافیائی عوامل کا جائزہ لیتی ہے۔ مصنفین محلِ وقوع، سرحدوں، زمینی ساخت اور قدرتی وسائل کے دفاعی حکمتِ عملی پر اثرات کو بیان کرتے ہیں۔ اس میں علاقائی ہمسایوں اور اسٹریٹجک راستوں کی اہمیت بھی شامل ہے۔ کتاب جغرافیہ اور قومی سلامتی کے باہمی تعلق پر تجزیاتی نظر پیش کرتی ہے۔

صفحات کی تعداد ١٢٢
ٹائم لائن مراحل ١٠

اس کتاب کی ٹائم لائن

۱۹۵۰ /2022 کا دور

پاکستان کی طویل مدتی آبادی کے رجحانات۔ مختلف جدولیں اور چارٹ اس دورانیے کا احاطہ کرتے ہیں، جیسے آبادی کی بڑھوتری، اوسط عمر، پیدائش کی شرح اور اموات کی شرح کو ٹریک کرتے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی اہمیت ان کے تجزیوں کی بنیاد میں ہے۔

۱۹۸۹

یہ سال دو قطبی دنیا کے خاتمے اور نسلی تشدد کے ابھرنے کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی اہمیت عالمی جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں ایک اہم موڑ کے طور پر ہے جو کتاب کے پیش لفظ میں زیر بحث ہے۔

۲۳ جولائی ۲۰۰۱

اسلام آباد اسٹیشن پر ۶۲۰ ملی میٹر کی روزانہ بارش کا ریکارڈ۔ یہ واقعہ کتاب میں حوالہ دیا گیا ایک اہم موسمیاتی واقعہ ہے۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱

۱۱ ستمبر کے حملے۔ ان حملوں کی اہمیت ایک اہم واقعہ کے طور پر ہے جس نے فوجی کوششوں کو امن قائم کرنے اور معاونت کی کارروائیوں کی طرف موڑ دیا، جس کے نتیجے میں جغرافیائی علم کی ضرورت بڑھ گئی۔

۲۰۰۱ کے بعد

متن میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ ۲۰۰۱ کے بعد فوجی جغرافیہ کے کورسز پیش کرنے والے تعلیمی پروگراموں کی تعداد تقریباً چار گنا بڑھ گئی۔ یہ جدید عالمی تنازعات کے جواب میں اس شعبے کی بڑھتی ہوئی تعلیمی اور اسٹریٹجک اہمیت کا ثبوت ہے۔

۲۰۱۰

پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے سیلابوں میں سے ایک کا وقوع۔ اس سیلاب کے تباہ کن اثرات نے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے صوبوں کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں ۲۰۰۰ سے زائد افراد ہلاک اور ایک ملین سے زائد مکانات تباہ ہوئے۔

اواخر جولائی ۲۰۱۰

۲۰۱۰ کے سیلاب شدید اور بے مثال مون سون بارشوں اور دریائے سندھ کے بعد کے طغیانی کے نتیجے میں آئے۔ اس آفت کی مخصوص ماحولیاتی وجہ کی شناخت اہم ہے۔

۲۸ مئی ۲۰۱۷

تربت، بلوچستان میں ۵۳.۷ ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ درجہ حرارت درج ہوا۔ یہ درجہ حرارت پاکستان میں درج شدہ سب سے زیادہ مطلق درجہ حرارت کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔

۲۷ اگست ۲۰۲۰

کراچی میں تقریباً ۲۲۳ ملی میٹر کی ریکارڈ روزانہ بارش درج ہوئی۔

۲۰۲۲

پاکستان کی آبادی ۲۲۹,۴۸۸,۹۹۴ سے تجاوز کر گئی، جس نے اسے دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک بنا دیا۔ یہ اعداد و شمار ملک کی انسانی اور عسکری جغرافیہ کو سمجھنے کے لیے ایک کلیدی ڈیٹا پوائنٹ ہے۔