مرکزی مواد پر جائیں
سرزمین، مردم و اقتصاد پاکستان

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

پاکستان کی سرزمین، عوام اور معیشت

Land People and economy of pakistan

مرتب اور مصنف: کے۔ آر۔ دکشت

صفحات کی تعداد 489
ٹائم لائن مراحل 41

اس کتاب کی ٹائم لائن

١٠٠٠s - گیارہویں صدی

البیرونی نے اپنی مشہور کتاب 'کتاب الہند' میں ہندوستان کا ذکر کیا، جو اس خطے کی جغرافیائی اور ثقافتی دستاویزات میں سے ایک ہے جس نے اس کے طبعی اور انسانی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد کی۔

٢١٢٠s - سولہویں صدی کا اواخر

ابوالفضل نے 'آئینِ اکبری' میں انتظامی تفصیلات پیش کیں۔ یہ کتاب ایک جامع گزیٹیئر کے طور پر کام کرتی تھی اور اس خطے کے تاریخی جغرافیہ کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے جو بعد میں پاکستان بنا۔

1929

سر ڈڈلی سٹیمپ نے 'ایشیا: ایک علاقائی اور اقتصادی جغرافیہ' شائع کی۔ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان کا احاطہ کرنے والی یہ کتاب نوآبادیاتی نقطہ نظر کی عکاس تھی اور جدید جغرافیائی متون میں سے ایک تھی۔

1935

کوئٹہ شہر ایک شدید زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس قدرتی آفت نے بلوچستان کے خطے کی زلزلہ خیزی کو بے نقاب کیا اور بعد کی دہائیوں میں شہری تعمیر نو اور ترقی پر گہرا اثر ڈالا۔

14 اگست 1947

برطانوی راج کے خاتمے اور تقسیم ہند کے بعد، پاکستان باضابطہ طور پر ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہوا اور محمد علی جناح نے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ اہم واقعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔

1947 کے بعد کی ہجرت

اردو بولنے والے مہاجرین نے بڑے پیمانے پر بھارت سے پاکستان، خاص طور پر سندھ کی طرف ہجرت کی۔ اس عظیم آبادیاتی تبدیلی نے کراچی جیسے بڑے شہروں کے سماجی اور نسلی ڈھانچے کو بدل دیا اور سماجی انضمام کے نئے چیلنجز پیدا کیے۔

١٩٤٧ - کراچی بطور دارالحکومت

کراچی نے پاکستان کے پہلے وفاقی دارالحکومت کے طور پر کام کیا۔ ایک تجارتی اور سیاسی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت نے اسے مہاجرین اور ابتدائی سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا، جس نے ملک کے ابتدائی برسوں میں اہم کردار ادا کیا۔

١٩٥١ - پہلی مردم شماری

آزادی کے بعد پہلی مردم شماری کی گئی۔ یہ مستقبل کی منصوبہ بندی اور تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم تھی۔

١٩٥٥ - پی آئی اے کا قیام

اورینٹ ایئرویز کو نئی قائم شدہ، سرکاری زیر کنٹرول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) میں ضم کر دیا گیا۔ یہ قومی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اسٹریٹجک شعبوں پر ریاستی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

١٩٥٨ - ایوب خان کا مارشل لاء

جنرل ایوب خان نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا اور دارالحکومت کو کراچی سے ایک نئے منصوبہ بند شہر اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تزویراتی اقدام کا مقصد ایک زیادہ محفوظ اور مرکزی انتظامی مرکز قائم کرنا تھا۔

١٩٥٨ - زرعی اصلاحات

بڑے زمینداروں کی ملکیت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں، جس کا مقصد جاگیردارانہ طاقت کو کم کرنا اور زمین کی منصفانہ تقسیم تھا، اگرچہ اس کے نتائج مختلف علاقوں میں مختلف رہے۔

١٩٥٩ - شاہراہ قراقرم

چین کے تعاون سے تزویراتی شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ عظیم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاہکار تھا بلکہ اس نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی تزویراتی تعلقات کی بنیادیں بھی مضبوط کیں۔

١٩٦١ - قومی مردم شماری

آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے قومی مردم شماری کی گئی۔ اس مردم شماری سے حاصل کردہ اعداد و شمار ساٹھ کی دہائی میں حکومتی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہم تھے۔

١٩٧٠ - لیبر مائیگریشن

مشرق وسطیٰ کے لیے افرادی قوت کی منظم نقل مکانی کا آغاز ہوا۔ یہ عمل تیزی سے زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا اور اس نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

١٩٧١ - مشرقی پاکستان کی علیحدگی

خانہ جنگی اور بھارتی فوجی مداخلت کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس واقعے نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی شناخت کو شدید دھچکا پہنچایا اور ملک کے جغرافیائی و سیاسی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔

1972

بھٹو حکومت نے برآمدات کو فروغ دینے اور تجارتی عدم توازن کو درست کرنے کے لیے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی، جس کے نتیجے میں افراط زر کا دباؤ بھی پیدا ہوا۔

1972

بہاولپور کے علاقے میں لال سہانرا نیشنل پارک کا قیام عمل میں لایا گیا، جو ملک کے خشک علاقوں میں ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔

1973

کراچی میں 'اتحاد، ایمان اور تنظیم' کے اصولوں کی یاد میں تین تلوار کا یادگاری مجسمہ تعمیر کیا گیا، جس کا مقصد بنگلہ دیش کے بحران کے بعد قومی شناخت کو مستحکم کرنا تھا۔

1973-1977

بھٹو کے دورِ حکومت میں زرعی اصلاحات کا دوسرا مرحلہ نافذ کیا گیا جس کا مقصد بڑے زمینداروں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور بے زمین کسانوں میں زمین تقسیم کرنا تھا، اگرچہ اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

1976

بھارت کے ساتھ ریل رابطے، بشمول تھر ایکسپریس اور سمجھوتہ ایکسپریس، معطلی کے بعد بحال کر دیے گئے، جو 1971 کی جنگ کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک کوشش تھی۔

1979

قراقرم ہائی وے کی تعمیر 20 سال بعد مکمل ہوئی، جس نے پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی زمینی رابطہ قائم کیا اور دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی اور عسکری مواقع پیدا کیے۔

1981

قومی مردم شماری سے انکشاف ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد 1.6 ملین تک پہنچ گئی ہے، جس سے قومی معیشت کے لیے بیرون ملک افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی اہمیت ظاہر ہوئی۔

1982

بیرون ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلات زر ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 10 فیصد بنتی تھیں، جو پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئیں اور ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔

1983

جدید محفوظ علاقوں کا ایکٹ منظور کیا گیا جس کے نتیجے میں نئے قومی پارک قائم ہوئے، جو پاکستان میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔

1984

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بنیاد رکھی گئی، جو تیزی سے سندھ میں اردو بولنے والی برادری کے درمیان ایک طاقتور سیاسی قوت بن گئی اور ملک کی نسلی و سیاسی حرکیات کو تبدیل کر دیا۔

1986

قراقرم ہائی وے کو باضابطہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا، جس سے شمالی پاکستان میں تجارت، سیاحت اور ثقافتی تبادلے کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔

1992

قومی تحفظِ ماحول کی حکمت عملی کا نفاذ کیا گیا جس نے نیشنل پارکس کی ترقی کو تیز کیا اور ماحولیاتی مسائل کے لیے حکومتی عزم کو تقویت دی۔

1998

قومی مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، جس نے ایک دہائی کی سیاسی عدم استحکام اور سست معاشی ترقی کے بعد آبادیاتی اور سماجی تبدیلیوں کی تصویر پیش کی۔

1999-2007

جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے معاشی ترقی کے ایک ایسے دور کی نگرانی کی جس میں ملکی معیشت 50 فیصد تک بڑھی۔ معاشی لبرلائزیشن کی پالیسیوں کے ساتھ یہ ترقی غیر جمہوری سیاسی ماحول میں ہوئی، جس نے اس کے پائیدار ہونے پر بحث کو جنم دیا۔

11 ستمبر 2001

امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان پر حملہ ہوا۔ اس واقعے نے پاکستان کے جغرافیائی سیاسی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور اسے 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں ایک کلیدی اتحادی بنا دیا، جس کے اندرونی سیکیورٹی اور سیاسی نتائج بہت گہرے تھے۔

٢٠٠١ - شدید خشک سالی

ملک کو ایک سال شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس نے معیشت اور آبی وسائل کو بری طرح متاثر کیا، جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف پاکستان کے زرعی شعبے کی کمزوری نمایاں ہوئی۔

٢٠٠٤ - مکران کوسٹل ہائی وے

مکران کوسٹل ہائی وے (NH-10) مکمل ہوئی جس نے کراچی کو گوادر سے جوڑ دیا۔ اس اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نے گوادر بندرگاہ کی مستقبل کی ترقی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کی۔

٢٠٠٥ - پاکستان ہندو کونسل

پاکستان ہندو کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہندو برادری کے مفادات کی نمائندگی کی جا سکے، جو ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیتوں میں سے ایک کے حقوق کے تحفظ اور تنظیم کی جانب ایک قدم تھا۔

٢٠٠٨ - جمہوری منتقلی

پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی قیادت میں ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت اقتدار میں آئی، جو معاشی بحران کے دور کے ساتھ موافق تھی، اور اسے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور عالمی معاشی بحرانوں کا سامنا تھا۔

٢٠٠٨ - نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوا، یہ ایک بڑا منصوبہ تھا جس کا مقصد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا اور فوسل فیولز پر انحصار کم کرنا تھا۔

24 ستمبر 2013

بلوچستان کے ضلع آواران میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 825 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سانحے نے خطے کی زلزلے کے حوالے سے شدید حساسیت کو اجاگر کیا۔

2010

تباہ کن سیلابوں نے ملک کا پانچواں حصہ ڈبو دیا، 2 کروڑ لوگ متاثر ہوئے اور 9.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت تھی جس نے بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو تباہ کر دیا۔

2015

سندھ حکومت نے تھر کول فیلڈ سے زیر زمین کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کے عمل کے ذریعے پہلی بار 1 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا اعلان کیا۔ یہ توانائی کے حصول کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔

2017

تازہ ترین قومی مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، جس نے حکومت کو اقتصادی، سماجی اور سیاسی منصوبہ بندی کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کیے۔

اپریل 2018

حکومت نے ایک جامع قومی آبی پالیسی کی منظوری دی جس کا مقصد ملک کے کم ہوتے ہوئے آبی وسائل کا پائیدار انتظام کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنا تھا۔

٢٠١٨ - نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبے نے ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا اور توانائی کے تحفظ میں مدد کی۔