١٠٠٠s - گیارہویں صدی
البیرونی نے اپنی مشہور کتاب 'کتاب الہند' میں ہندوستان کا ذکر کیا، جو اس خطے کی جغرافیائی اور ثقافتی دستاویزات میں سے ایک ہے جس نے اس کے طبعی اور انسانی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد کی۔
کتاب کا پوڈ کاسٹ
کتاب پروفائل
Land People and economy of pakistan
مرتب اور مصنف: کے۔ آر۔ دکشت
البیرونی نے اپنی مشہور کتاب 'کتاب الہند' میں ہندوستان کا ذکر کیا، جو اس خطے کی جغرافیائی اور ثقافتی دستاویزات میں سے ایک ہے جس نے اس کے طبعی اور انسانی پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد کی۔
ابوالفضل نے 'آئینِ اکبری' میں انتظامی تفصیلات پیش کیں۔ یہ کتاب ایک جامع گزیٹیئر کے طور پر کام کرتی تھی اور اس خطے کے تاریخی جغرافیہ کے بارے میں قیمتی معلومات فراہم کرتی ہے جو بعد میں پاکستان بنا۔
سر ڈڈلی سٹیمپ نے 'ایشیا: ایک علاقائی اور اقتصادی جغرافیہ' شائع کی۔ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان کا احاطہ کرنے والی یہ کتاب نوآبادیاتی نقطہ نظر کی عکاس تھی اور جدید جغرافیائی متون میں سے ایک تھی۔
کوئٹہ شہر ایک شدید زلزلے سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ اس قدرتی آفت نے بلوچستان کے خطے کی زلزلہ خیزی کو بے نقاب کیا اور بعد کی دہائیوں میں شہری تعمیر نو اور ترقی پر گہرا اثر ڈالا۔
برطانوی راج کے خاتمے اور تقسیم ہند کے بعد، پاکستان باضابطہ طور پر ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہوا اور محمد علی جناح نے پہلے گورنر جنرل کے طور پر حلف اٹھایا۔ یہ اہم واقعہ جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز تھا۔
اردو بولنے والے مہاجرین نے بڑے پیمانے پر بھارت سے پاکستان، خاص طور پر سندھ کی طرف ہجرت کی۔ اس عظیم آبادیاتی تبدیلی نے کراچی جیسے بڑے شہروں کے سماجی اور نسلی ڈھانچے کو بدل دیا اور سماجی انضمام کے نئے چیلنجز پیدا کیے۔
کراچی نے پاکستان کے پہلے وفاقی دارالحکومت کے طور پر کام کیا۔ ایک تجارتی اور سیاسی مرکز کے طور پر اس کی حیثیت نے اسے مہاجرین اور ابتدائی سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا، جس نے ملک کے ابتدائی برسوں میں اہم کردار ادا کیا۔
آزادی کے بعد پہلی مردم شماری کی گئی۔ یہ مستقبل کی منصوبہ بندی اور تقسیم کے نتیجے میں ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم تھی۔
اورینٹ ایئرویز کو نئی قائم شدہ، سرکاری زیر کنٹرول پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) میں ضم کر دیا گیا۔ یہ قومی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اسٹریٹجک شعبوں پر ریاستی کنٹرول کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
جنرل ایوب خان نے فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار سنبھالا اور دارالحکومت کو کراچی سے ایک نئے منصوبہ بند شہر اسلام آباد منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس تزویراتی اقدام کا مقصد ایک زیادہ محفوظ اور مرکزی انتظامی مرکز قائم کرنا تھا۔
بڑے زمینداروں کی ملکیت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں، جس کا مقصد جاگیردارانہ طاقت کو کم کرنا اور زمین کی منصفانہ تقسیم تھا، اگرچہ اس کے نتائج مختلف علاقوں میں مختلف رہے۔
چین کے تعاون سے تزویراتی شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ عظیم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ نہ صرف انجینئرنگ کا ایک شاہکار تھا بلکہ اس نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل مدتی تزویراتی تعلقات کی بنیادیں بھی مضبوط کیں۔
آبادی میں ہونے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے قومی مردم شماری کی گئی۔ اس مردم شماری سے حاصل کردہ اعداد و شمار ساٹھ کی دہائی میں حکومتی ترقیاتی منصوبہ بندی کے لیے انتہائی اہم تھے۔
مشرق وسطیٰ کے لیے افرادی قوت کی منظم نقل مکانی کا آغاز ہوا۔ یہ عمل تیزی سے زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ بن گیا اور اس نے پاکستان کی معیشت اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
خانہ جنگی اور بھارتی فوجی مداخلت کے بعد مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ اس واقعے نے پاکستان کی علاقائی سالمیت اور قومی شناخت کو شدید دھچکا پہنچایا اور ملک کے جغرافیائی و سیاسی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔
بھٹو حکومت نے برآمدات کو فروغ دینے اور تجارتی عدم توازن کو درست کرنے کے لیے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی، جس کے نتیجے میں افراط زر کا دباؤ بھی پیدا ہوا۔
بہاولپور کے علاقے میں لال سہانرا نیشنل پارک کا قیام عمل میں لایا گیا، جو ملک کے خشک علاقوں میں ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
کراچی میں 'اتحاد، ایمان اور تنظیم' کے اصولوں کی یاد میں تین تلوار کا یادگاری مجسمہ تعمیر کیا گیا، جس کا مقصد بنگلہ دیش کے بحران کے بعد قومی شناخت کو مستحکم کرنا تھا۔
بھٹو کے دورِ حکومت میں زرعی اصلاحات کا دوسرا مرحلہ نافذ کیا گیا جس کا مقصد بڑے زمینداروں کے اثر و رسوخ کو کم کرنا اور بے زمین کسانوں میں زمین تقسیم کرنا تھا، اگرچہ اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
بھارت کے ساتھ ریل رابطے، بشمول تھر ایکسپریس اور سمجھوتہ ایکسپریس، معطلی کے بعد بحال کر دیے گئے، جو 1971 کی جنگ کے بعد تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک کوشش تھی۔
قراقرم ہائی وے کی تعمیر 20 سال بعد مکمل ہوئی، جس نے پاکستان اور چین کے درمیان تزویراتی زمینی رابطہ قائم کیا اور دونوں ممالک کے لیے نئے اقتصادی اور عسکری مواقع پیدا کیے۔
قومی مردم شماری سے انکشاف ہوا کہ مشرق وسطیٰ میں پاکستانی تارکین وطن کی تعداد 1.6 ملین تک پہنچ گئی ہے، جس سے قومی معیشت کے لیے بیرون ملک افرادی قوت کی بڑھتی ہوئی اہمیت ظاہر ہوئی۔
بیرون ملک مقیم کارکنوں کی ترسیلات زر ملک کی جی ڈی پی کا تقریباً 10 فیصد بنتی تھیں، جو پاکستان کی معیشت کا ایک اہم ستون بن گئیں اور ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
جدید محفوظ علاقوں کا ایکٹ منظور کیا گیا جس کے نتیجے میں نئے قومی پارک قائم ہوئے، جو پاکستان میں ماحولیاتی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی بنیاد رکھی گئی، جو تیزی سے سندھ میں اردو بولنے والی برادری کے درمیان ایک طاقتور سیاسی قوت بن گئی اور ملک کی نسلی و سیاسی حرکیات کو تبدیل کر دیا۔
قراقرم ہائی وے کو باضابطہ طور پر عوام کے لیے کھول دیا گیا، جس سے شمالی پاکستان میں تجارت، سیاحت اور ثقافتی تبادلے کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔
قومی تحفظِ ماحول کی حکمت عملی کا نفاذ کیا گیا جس نے نیشنل پارکس کی ترقی کو تیز کیا اور ماحولیاتی مسائل کے لیے حکومتی عزم کو تقویت دی۔
قومی مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، جس نے ایک دہائی کی سیاسی عدم استحکام اور سست معاشی ترقی کے بعد آبادیاتی اور سماجی تبدیلیوں کی تصویر پیش کی۔
جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت نے معاشی ترقی کے ایک ایسے دور کی نگرانی کی جس میں ملکی معیشت 50 فیصد تک بڑھی۔ معاشی لبرلائزیشن کی پالیسیوں کے ساتھ یہ ترقی غیر جمہوری سیاسی ماحول میں ہوئی، جس نے اس کے پائیدار ہونے پر بحث کو جنم دیا۔
امریکہ میں دہشت گردانہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان پر حملہ ہوا۔ اس واقعے نے پاکستان کے جغرافیائی سیاسی کردار کو بنیادی طور پر تبدیل کر دیا اور اسے 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں ایک کلیدی اتحادی بنا دیا، جس کے اندرونی سیکیورٹی اور سیاسی نتائج بہت گہرے تھے۔
ملک کو ایک سال شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا جس نے معیشت اور آبی وسائل کو بری طرح متاثر کیا، جس سے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف پاکستان کے زرعی شعبے کی کمزوری نمایاں ہوئی۔
مکران کوسٹل ہائی وے (NH-10) مکمل ہوئی جس نے کراچی کو گوادر سے جوڑ دیا۔ اس اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے نے گوادر بندرگاہ کی مستقبل کی ترقی اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں تک رسائی کو بہتر بنانے کی راہ ہموار کی۔
پاکستان ہندو کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا تاکہ ہندو برادری کے مفادات کی نمائندگی کی جا سکے، جو ملک کی سب سے بڑی مذہبی اقلیتوں میں سے ایک کے حقوق کے تحفظ اور تنظیم کی جانب ایک قدم تھا۔
پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) کی قیادت میں ایک جمہوری طور پر منتخب حکومت اقتدار میں آئی، جو معاشی بحران کے دور کے ساتھ موافق تھی، اور اسے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور عالمی معاشی بحرانوں کا سامنا تھا۔
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوا، یہ ایک بڑا منصوبہ تھا جس کا مقصد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا اور فوسل فیولز پر انحصار کم کرنا تھا۔
بلوچستان کے ضلع آواران میں 7.7 شدت کا زلزلہ آیا جس میں 825 افراد ہلاک ہوئے۔ اس سانحے نے خطے کی زلزلے کے حوالے سے شدید حساسیت کو اجاگر کیا۔
تباہ کن سیلابوں نے ملک کا پانچواں حصہ ڈبو دیا، 2 کروڑ لوگ متاثر ہوئے اور 9.7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کی بدترین قدرتی آفت تھی جس نے بنیادی ڈھانچے اور زراعت کو تباہ کر دیا۔
سندھ حکومت نے تھر کول فیلڈ سے زیر زمین کوئلے کو گیس میں تبدیل کرنے کے عمل کے ذریعے پہلی بار 1 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا اعلان کیا۔ یہ توانائی کے حصول کے لیے ایک اہم سنگ میل تھا۔
تازہ ترین قومی مردم شماری کا انعقاد کیا گیا، جس نے حکومت کو اقتصادی، سماجی اور سیاسی منصوبہ بندی کے لیے اہم اور تازہ ترین اعداد و شمار فراہم کیے۔
حکومت نے ایک جامع قومی آبی پالیسی کی منظوری دی جس کا مقصد ملک کے کم ہوتے ہوئے آبی وسائل کا پائیدار انتظام کرنا اور موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجوں سے نمٹنا تھا۔
نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔ اس منصوبے نے ملک کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا اور توانائی کے تحفظ میں مدد کی۔
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب