The Scorpion’s Tail

کتاب کا پوڈ کاسٹ

کتاب پروفائل

بچھو کی دم: پاکستان میں اسلامی جنگجوؤں کا مسلسل عروج اور امریکہ کے لیے خطرہ

The Scorpion's Tail

مرتب اور مصنف: زاہد حسین

یہ کتاب پاکستان میں اسلامی جنگجو گروہوں کے عروج اور انتہاپسندی کی وجوہات کا جائزہ لیتی ہے۔ زاہد حسین افغان جنگ، علاقائی سیاست اور سلامتی کے اداروں کے کردار کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ یہ گروہ کس طرح داخلی اور بین الاقوامی خطرہ بن گئے۔ کتاب پاکستان اور دنیا کے لیے سلامتی کے مضمرات پر تنبیہ کرتی ہے۔

صفحات کی تعداد ٢٦٢
ٹائم لائن مراحل ٥١

اس کتاب کی ٹائم لائن

اگست ۱۹۴۷

پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر قائم ہوا اور فوراً ہی قومی شناخت کی تعریف کے لئے معتدل اور اسلام پسند قوتوں کے درمیان جدوجہد شروع ہوگئی۔ یہ واقعہ ایک طویل عرصے تک شناخت کی تلاش کا آغاز تھا، جو جدید جمہوریت اور مذہبی حکومت کے درمیان جھولتا رہا۔

۱۹۴۹

مجلس مؤسسان نے ایک قرارداد منظور کی جس نے پاکستان کو عملی طور پر ایک اسلامی ریاست قرار دیا۔ یہ اسلام پسند گروہوں کے لئے پہلا بڑا امتیاز تھا اور ملک کے مستقبل کے راستے کو مزید اسلامی بنانے کی طرف لے گیا۔

۱۹۵۳

پنجاب میں احمدیہ اقلیت کے خلاف وسیع پیمانے پر فسادات ہوئے۔ اس واقعے نے اسلامی عقائد کی تعریف میں علماء کی طاقت کو مستحکم کیا اور دکھایا کہ مذہبی گروہ اپنے نظریات کو مسلط کرنے کے لئے تشدد کا استعمال کر سکتے ہیں۔

۱۹۵۶

پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا اور ملک کو باضابطہ طور پر "اسلامی جمہوریہ" کا نام دیا گیا۔ اس اقدام نے ریاست کی اسلامی شناخت کو ملک کے بنیادی قوانین میں شامل کر دیا۔

۱۹۵۸

جنرل محمد ایوب خان نے ایک بے خونریزی بغاوت میں اقتدار سنبھالا اور مارشل لاء نافذ کیا۔ ان کی حکومت، جدیدیت کے ایجنڈے کے ساتھ، اسلام پسند قوتوں کے لئے ایک عارضی پسپائی تھی لیکن سیاست میں فوج کی طاقت کو مستحکم کیا۔

۱۹۶۹

ایوب خان نے وسیع پیمانے پر احتجاج کے بعد اقتدار چھوڑ دیا اور اسے فوج کے سربراہ جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔

۱۹۷۰

ملک میں پہلی آزادانہ انتخابات ہوئے جس میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں عوامی لیگ کی زبردست فتح ہوئی۔ اس نتیجے نے ایک سیاسی بحران کو جنم دیا جو بالآخر خانہ جنگی اور بنگلہ دیش کی علیحدگی پر منتج ہوا۔

۴ جولائی ۱۹۷۷

فوج کے سربراہ جنرل محمد ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھال لیا۔ ان کی بغاوت ایک اہم موڑ تھی جس نے فوج اور پاکستانی معاشرے کی وسیع پیمانے پر اسلامی تشکیل کا آغاز کیا اور فوج کا نعرہ 'ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ' میں تبدیل کر دیا۔

۴ اپریل ۱۹۷۹

معزول شدہ عوامی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے پھانسی دے دی۔ ان کی برطرفی نے ایک گہرا سیاسی خلا پیدا کیا اور ضیاء کی حمایت یافتہ اسلام پسندوں کے لیے ملک کے سیاسی منظر نامے پر غلبہ حاصل کرنے کی راہ ہموار کی۔

١٩٧٩ - سوویت یونین کا افغانستان پر حملہ

سوویت یونین نے 30,000 سے زائد فوجی بھیج کر افغانستان پر حملہ کیا۔ یہ واقعہ سی آئی اے کی تاریخ کی سب سے بڑی خفیہ کارروائی کا محرک بنا، جو پاکستان کی آئی ایس آئی کے ساتھ مل کر سوویت یونین کے خلاف عالمی جہاد کے لیے منظم کی گئی۔

١٩٨٦ - امریکہ کی جانب سے مجاہدین کو اسٹنگر میزائل کی فراہمی

امریکہ نے مجاہدین کو جدید اسٹنگر اینٹی ایئرکرافٹ میزائل فراہم کیے۔ اس اقدام نے میدان جنگ میں طاقت کا توازن مجاہدین کے حق میں بدل دیا اور جنگ کو سوویت شکست کی طرف دھکیل دیا۔

١٩٨٨ - جنرل ضیاء الحق کی موت

جنرل ضیاء الحق ایک مشکوک فضائی حادثے میں ہلاک ہو گئے۔

١٩٨٩ - سوویت فوج کا افغانستان سے انخلاء

آخری سوویت فوجی نے افغانستان چھوڑ دیا۔ جنگ کے خاتمے کے بجائے، یہ اقدام حریف مجاہدین گروپوں کے درمیان خونریز خانہ جنگی کا باعث بنا، جس نے کابل کو تباہ کر دیا۔

١٩٨٩ - کشمیر میں بغاوت کا آغاز

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں بغاوت اور مسلح جدوجہد کا آغاز ہوا۔ اس واقعے نے افغان جنگ سے تجربہ کار جہادی نیٹ ورکس کی توجہ افغانستان سے کشمیر کی طرف موڑ دی، اور آئی ایس آئی نے انہیں بھارت کے خلاف پراکسی کے طور پر استعمال کیا۔

اپریل ۱۹۹۲

کابل میں کمیونسٹ حکومت کا خاتمہ ہوا اور افغانستان جنگی سرداروں کے درمیان خانہ جنگی کے خونریز مرحلے میں داخل ہوا۔

وسط ۱۹۹۳

طالبان اسلامی تحریک قندھار کے قریب ملا محمد عمر کی قیادت میں تشکیل پائی۔ یہ تحریک جنگی سرداروں کے جرائم اور انتشار کے ردعمل کے طور پر ابھری۔ اطلاعات کے مطابق، ملا عمر کا غصہ اس وقت بھڑک اٹھا جب ایک مقامی کمانڈر نے "ایک نوجوان لڑکے پر حملہ کرنے کے بعد اسے قتل کر دیا۔

۱۹۹۶

طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا اور اسامہ بن لادن، جو سوڈان سے نکالے جانے کے بعد، افغانستان میں مقیم ہو گیا۔ یہ واقعہ کسی اسٹریٹجک اتحاد کا آغاز نہیں تھا؛ ابتدا میں تعلقات کشیدہ تھے۔ ملا عمر نے بن لادن کو کھلے عام حقیر سمجھا، اسے "گدھا" کہا اور اس کی موجودگی پر شکایت کی۔

۱۹۹۸

امریکہ نے افریقہ میں اپنے سفارت خانوں پر بم دھماکوں کے ردعمل میں، افغانستان کے خوست میں القاعدہ کے تربیتی کیمپ پر کروز میزائل داغے۔ ہلاک ہونے والوں میں کئی پاکستانی جنگجو بھی شامل تھے، جو ان کے قریبی تعلقات کا پہلا دستاویزی ثبوت فراہم کرتے ہیں۔

فروری ۱۹۹۹

جنرل پرویز مشرف، جو اس وقت پاکستان کی فوج کے سربراہ تھے، نے نواز شریف کی حکومت کی منظوری کے بغیر کشمیر کے کارگل پہاڑوں میں ایک خفیہ آپریشن شروع کیا۔ اس دراندازی نے بھارت اور پاکستان کو مکمل جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا۔

اکتوبر ۱۹۹۹

جنرل پرویز مشرف نے ایک فوجی بغاوت میں نواز شریف کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ انہوں نے افغانستان میں طالبان اور کشمیر میں جنگجوؤں کی حمایت کی پالیسی کو مزید شدت سے جاری رکھا۔

۱۱ ستمبر ۲۰۰۱

القاعدہ کے دہشت گرد حملوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ مشرف نے اچانک تبدیلی کی، طالبان کی حمایت ختم کر دی اور "دہشت گردی کے خلاف جنگ" میں امریکہ کے اہم اتحادی بن گئے۔ اس فیصلے نے پاکستان کو بین الاقوامی تنہائی سے نکال دیا لیکن انہیں بہت سے لوگوں کے خلاف کر دیا۔

دسمبر ۲۰۰۱

امریکی فوجی کارروائیوں کے بعد، ہزاروں القاعدہ اور طالبان جنگجو تورا بورا پہاڑوں سے فرار ہو کر پاکستان کے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں میں پہنچ گئے اور قبائلی رہنماؤں کو پیسے دے کر محفوظ پناہ گاہیں بنائیں۔

۱۲ جنوری ۲۰۰۲

مشرف نے پانچ اسلامی جنگجو گروپوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی۔ تاہم، یہ پابندی مؤثر طریقے سے نافذ نہیں کی گئی اور یہ گروپ نئے ناموں کے تحت اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔

۲۵ جون ۲۰۰۲

پاکستانی فوج اور عرب جنگجوؤں کے درمیان جنوبی وزیرستان کے گاؤں کژہ پونگہ میں جھڑپوں نے پہلی بار ان علاقوں میں القاعدہ کی وسیع موجودگی اور مقامی حمایت کو ظاہر کیا۔

۲۰۰۲ کے انتخابات

اسلامی جماعتوں کے اتحاد مجلس متحدہ عمل (ایم ایم اے) نے صوبائی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی نے سرحدی علاقوں میں انتہا پسندی کو تقویت دی اور طالبان اور القاعدہ کے حامیوں کو اقتدار میں لایا۔

۱۴ اور ۲۵ دسمبر ۲۰۰۳

پرویز مشرف پر راولپنڈی میں دو ناکام قاتلانہ حملے ہوئے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ حملے القاعدہ اور مقامی انتہا پسندوں، بشمول پاکستان ایئر فورس کے ارکان کے تعاون سے منصوبہ بندی کیے گئے تھے۔

16 مارچ 2004

پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں اپنی پہلی بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ کلوشہ اور شین ورسک جیسے علاقوں میں شدید لڑائی ہوئی، جہاں غیر ملکی جنگجوؤں اور مقامی قبائل کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، جس سے فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

24 اپریل 2004

فوج نے جنگجو کمانڈر نیک محمد کے ساتھ 'شکئی معاہدہ' پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ ایک اسٹریٹجک ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا جس نے جنگجوؤں کو قانونی حیثیت دی، انہیں اپنے ہتھیار رکھنے کی اجازت دی اور دوبارہ منظم ہونے کا وقت فراہم کیا۔

17 جون 2004

نیک محمد پاکستان میں سی آئی اے کے پہلے ریکارڈ شدہ ڈرون حملے میں مارا گیا۔ یہ حملہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی اور متنازعہ حکمت عملی کا آغاز تھا۔

7 فروری 2005

پاکستانی حکومت نے ابھرتے ہوئے جنگجو رہنما بیت اللہ محسود کے ساتھ ایک نیا امن معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ ایک اور ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا جس نے عملی طور پر علاقے کا کنٹرول جنگجوؤں کے حوالے کر دیا اور ان علاقوں میں حکومت کی انتظامی اتھارٹی کو کمزور کر دیا۔

13 جنوری 2006

باجوڑ کے علاقے میں دامادولا گاؤں پر امریکی ڈرون حملے میں شہری ہلاکتیں ہوئیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ اس حملے نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا اور امریکہ مخالف جذبات کو مزید بڑھا دیا۔

۵ ستمبر ۲۰۰۶

حکومت نے شمالی وزیرستان کے جنگجوؤں کے ساتھ 'وزیرستان معاہدہ' پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ، جو مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے کے مترادف تھا، فوجی کارروائیوں کے رکنے کا باعث بنا، جبکہ افغانستان میں نیٹو فورسز پر سرحد پار حملے ۳۰۰ فیصد بڑھ گئے، جس سے انہیں طاقت حاصل کرنے کی اجازت ملی۔

اپریل ۲۰۰۷

آفتاب احمد خان شیرپاؤ، وزیر داخلہ پر قاتلانہ حملہ طالبان کی بڑھتی ہوئی طاقت اور جرات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

۳

۱۰ جولائی ۲۰۰۷: اسلام آباد میں 'لال مسجد' کا محاصرہ اور فوجی حملہ، جو انتہا پسند جنگجوؤں کا گڑھ بن چکا تھا، درجنوں افراد کی ہلاکت کا باعث بنا۔ یہ واقعہ ایک اہم موڑ تھا جس نے جنگجوؤں کو پاکستانی حکومت کے خلاف باضابطہ طور پر جہاد کا اعلان کرنے پر مجبور کیا۔

۳۰ اگست ۲۰۰۷

بیت اللہ محسود کی افواج نے جنوبی وزیرستان میں ۲۶۰ پاکستانی فوجیوں کو قید کر لیا۔ یہ واقعہ پاکستانی فوج کے لیے ایک بڑی رسوائی تھی اور اس کی بغاوت کے خلاف ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۷

بے نظیر بھٹو سالوں کی جلاوطنی کے بعد پاکستان واپس آئیں، لیکن ان کے قافلے کو کراچی میں ایک مہلک خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں ۱۴۰ سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

۳ نومبر ۲۰۰۷

پرویز مشرف نے بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کا سامنا کرتے ہوئے ایمرجنسی کا اعلان کیا اور سپریم کورٹ کے ججوں کو برطرف کر دیا۔

٢٠٠٧ - تحریک طالبان پاکستان کا قیام

مختلف علاقوں کے تقریباً چالیس عسکری کمانڈروں نے باضابطہ طور پر "تحریک طالبان پاکستان" (TTP) قائم کی اور بیت اللہ محسود کو اپنا رہنما منتخب کیا۔ اس اقدام نے مختلف عسکری دھڑوں کو ایک کمانڈ کے تحت متحد کر دیا۔

٢٠٠٧ - بے نظیر بھٹو کا قتل

بے نظیر بھٹو راولپنڈی میں ایک خودکش حملے میں قتل ہو گئیں۔ ان کی موت نے پاکستان کو گہری سیاسی عدم استحکام میں ڈال دیا اور مشرف حکومت کے خلاف عوامی غصے کو بھڑکا دیا۔

٢٠٠٨ - پرویز مشرف کا استعفیٰ

پرویز مشرف نے سیاسی جماعتوں کے دباؤ میں صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔

٢٠٠٩ - سوات وادی امن معاہدہ

پاکستانی حکومت نے سوات وادی میں طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کیا، جس سے انہیں علاقے میں شریعت نافذ کرنے کی اجازت ملی۔ یہ معاہدہ ایک تباہ کن حکمت عملی کی رعایت تھی جس نے حکومتی اختیار کو کمزور کیا اور عسکریت پسندوں کو جری کر دیا۔

٢٠٠٩ - طالبان کی بونیر کی طرف پیش قدمی

طالبان فورسز نے بونیر علاقے میں پیش قدمی کی، اسلام آباد سے سو کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر پہنچ گئے۔ اس اقدام نے پاکستان اور بین الاقوامی برادری کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی، یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ طالبان کا خطرہ دارالحکومت کے قریب پہنچ رہا ہے۔

مئی 2009

پاکستانی فوج نے شدید داخلی اور بین الاقوامی دباؤ کے تحت سوات وادی کو طالبان سے واپس لینے کے لئے ایک بڑی فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔

۵ اگست ۲۰۰۹

بیت اللہ محسود، ٹی ٹی پی کے رہنما، جنوبی وزیرستان میں سی آئی اے کے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے۔ یہ امریکہ کے لیے ایک بڑی حکمت عملی کی فتح تھی، لیکن طالبان کی عملی صلاحیت پر محدود اثر پڑا کیونکہ انہوں نے جلد ہی ان کے جانشین کا تقرر کر دیا۔

اکتوبر ۲۰۰۹

جنگجوؤں نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) پر ایک جرات مندانہ حملہ کیا، جس میں درجنوں افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔ اس حملے نے طالبان کی دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت کو ان کے رہنما کی موت کے بعد بھی ثابت کر دیا۔

۱۷ اکتوبر ۲۰۰۹

پاکستانی فوج نے جنوبی وزیرستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی "زلزلہ" کا آغاز کیا۔

دسمبر ۲۰۰۹

صدر اوباما نے طالبان سے پہل لینے کے لیے افغانستان میں مزید ۳۰ ہزار فوجیوں کی تعیناتی کی حکمت عملی کا اعلان کیا۔

۳۰ دسمبر ۲۰۰۹

ایک خودکش بمبار نے افغانستان کے خوست میں سی آئی اے کے اڈے پر حملہ کیا، جس میں سات سی آئی اے افسران ہلاک ہو گئے۔ یہ حملہ، جو ٹی ٹی پی اور القاعدہ کے تعاون سے منصوبہ بندی کیا گیا تھا، دونوں گروپوں کے درمیان قریبی تعاون کی نشاندہی کرتا ہے۔

فروری ۲۰۱۰

نیٹو نے افغانستان کے مرجہ میں ایک بڑی کارروائی 'مشترک' کا آغاز کیا۔ اس کارروائی کے مایوس کن نتائج، جنہیں جنرل مک کرسٹل نے 'زخم چرکین' کہا، امریکی انسداد بغاوت کی حکمت عملی کے بڑے چیلنجوں کی علامت تھے۔

مئی ۲۰۱۰

فیصل شہزاد، ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری، نے نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں بم دھماکہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ، جو ٹی ٹی پی کی حمایت سے ہوا، اس گروپ کے عالمی خطرے اور تعلیم یافتہ متوسط طبقے سے بھرتی کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

جون ۲۰۱۰

افغانستان کی جنگ باضابطہ طور پر امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل جنگ بن گئی۔