اُمت ِ مسلمہ اختلافات پر قابو پائے
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران کا دورہ کرکے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر باقر قالیباف سے ملاقاتیں کیں، جہاں…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے اعلیٰ حکام سے بات چیت کے لئے منگل کو تہران پہنچے۔وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ اُنہوں نے تہران میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کے علاوہ دیگر اہم عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ایک ملاقات میں باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے امریکہ کو پیش کی گئی سات شرائط پوری ہونے تک امریکہ ایران کا اعتماد حاصل نہیں کر سکتا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مذاکرات سے متعلق امور زیر بحث آئے لیکن زیادہ تر توجہ دوطرفہ تعلقات،روابط اور تعاون کو فروغ دینے پر مرکوز رہی۔اطلاعات کے مطابق دورے کا تعلق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے بھی تھا تاہم اِس کا بنیادی مقصد پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا اور تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔یاد رہے کہ امریکہ ایران جنگ کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تہران کا یہ چوتھا سرکاری دورہ ہے۔ وہ ستمبر کے آغاز میں بھی ایران گئے تھے جہاں اُنہوں نے صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی، پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کی تھیں۔اسلام آباد، تہران اور واشنگٹن کے درمیان دباؤ اور کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ایک متحرک،پُرعزم اور مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ایک تکلیف دہ حقیقت نظر آتی ہے، مسلم ممالک کی باہمی کشیدگی بڑھ رہی ہے، خطہ عدم استحکام کا شکار ہے، اِس صورتِ حال کا سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو پہنچ رہا ہے کیونکہ فلسطینیوں کی آواز اِن تنازعات کے شور میں دب گئی ہے۔ اسرائیلی حکومت اور اِس کے حامی مسلم ممالک کے اختلافات سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں،اسرائیل سائیڈ پر کھڑا ہو کر مسکرا رہا ہے،امریکہ دور بیٹھا ہے جبکہ مسلمان ممالک ایک دوسرے کے مقابل اپنی قوت اور وسائل ضائع کر رہے ہیں۔ مسلم دنیا کی توجہ مشترکہ مسائل سے ہٹ کر باہمی محاذ آرائی پر مرکوز ہو کر رہ گئی ہے۔ اسرائیل نے ہمیشہ سے ہی عرب و عجم اور فرقہ وارانہ تقسیم کا فائدہ اُٹھا کر مسلم دنیا کو لڑائی میں اُلجھائے رکھنے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ صہیونی طاقتیں اور اُن کے مغربی اتحادی پہلے جنگ مسلط کرتے ہیں اور پھر نام نہاد معاہدے پیش کرتے ہیں جبکہ مسلم ممالک صرف اور صرف نقصان اٹھاتے ہیں۔
ایران ثالثی اور سفارتی حل کی بات تو کر رہاہے لیکن اِس پر عملی پیش رفت ہونا بھی ضروری ہے۔ خطے کی دو بڑی طاقتیں ایران اور سعودی عرب صرف رسمی سفارتی تعلقات کی بحالی پر اکتفا نہ کریں بلکہ عملی قدم اُٹھائیں۔ حوثیوں کے معاملے پر سعودی عرب کی خودمختاری کا احترام یقینی بنایا جائے جیسا کہ قطر نے بھی زور دیا ہے اور ساتھ ہی یمن میں مستقل اَمن قائم کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ گھر کی لڑائی کو بیٹھ کر حل کریں۔ اِس عمل میں خلیجی ممالک، ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کو براہِ راست اور مسلسل رابطہ رکھنا چاہئے۔ مسلم ممالک کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ اِن کے سیاسی اور مسلکی اختلافات، خواہ اپنی جگہ کتنے ہی اہم ہوں، مشترکہ سلامتی اور عوام کے مستقبل سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتے۔ ایک دوسرے کے خلاف بیرونی حمایت حاصل کرنے کی کوشش وقتی سہارا تو دے سکتی ہے مگر اِس سے باہمی بداعتمادی مزید بڑھتی ہے اور بیرونی مداخلت کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔پاکستان نے اَمن اور ثالثی کا پرچم اُٹھا رکھا ہے،اِس کی طرف سے فریقوں کے درمیان رابطے بڑھانے کی کوششوں کو تقویت ملنی چاہئے،خطے کو اِس وقت ایسے رابطوں کی ضرورت ہے جو فاصلے کم کر سکیں۔ تہران کے ساتھ بات چیت اور خلیجی ممالک سے روابط اِسی صورت مؤثر ثابت ہوں گے جب متعلقہ فریق بھی مفاہمت کے لئے آمادگی دکھائیں اور اپنے مؤقف میں ضروری لچک پیدا کریں۔ مسلم دنیا اپنی ترجیحات پر اجتماعی طور پر غور کرے۔ یمن کا اَمن ہو، خلیج کی سلامتی یا ایران اور عرب ممالک کے تعلقات، ہر معاملے میں باہمی احترام، خودمختاری اور عدم مداخلت کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔طویل مدت میں مشترکہ اقتصادی مفادات اور سلامتی کے لئے تعاون کا ایسا لائحہ عمل درکار ہے جو خطے کو بار بار بحران کی طرف جانے سے روک سکے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور عوامی روابط کے ذریعے تعلقات مضبوط ہوں گے تو اختلافات کی گنجائش کم ہو جائے گی۔پاکستان اِس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے لیکن اَمن کی ذمہ داری کسی ایک ملک پر نہیں ڈالی جا سکتی۔پاکستان کی ثالثی کو دوسرے مسلم ممالک کا تعاون ملنا چاہئے اور تمام فریقوں کو مذاکرات آگے بڑھانے کے لئے اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہئے۔ اِس جنگ سے صرف خطے کے عوام ہی متاثر نہیں ہو رہے بلکہ پوری دنیا پر اِس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اب ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو جنگ کا خطرہ کم کریں، اعتماد بحال کریں اور ایک محفوظ، باوقار مستقبل کی اُمید پیدا کریں۔یہ بات تو طے ہے کہ اختلافات کتنے ہی گہرے ہوں،اُن کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ مزید نقصان سے بچا جائے اور بات چیت کا راستہ اختیار کر لیا جائے۔
مصنف کے بارے میں
اداریہ روزنامہ پاکستان
اداریہ
یہ اندراج روزنامہ پاکستان کے اداریے سے متعلق ہے۔ کسی انفرادی مصنف کے بارے میں سوانحی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
اداریہ روزنامہ پاکستان. «اُمت ِ مسلمہ اختلافات پر قابو پائے.» اقبال فورم، 22 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52631.
تبصرے