مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

راکھ سے پہلے

ایٹمی حملے کی حالیہ امریکی دھمکیوں اور مغربی ایشیا میں ابھرتی ہوئی عسکری صورتحال کے تناظر میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان تصادم محض ایک جغرافیائی یا عسکری کشمکش نہیں بلکہ…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

راکھ سے پہلے

تاریخ عالم کبھی کبھی ایسے موڑپرآکھڑی ہوتی ہے جہاں سلطنتوں کے لشکر،ایوانوں کے فیصلے اور حکمرانوں کی خواہشیں مل کر انسانیت کے مقدرپرایسا سوالیہ نشان ثبت کردیتی ہیں جس کاجواب صرف میدانِ جنگ نہیں،آنے والی نسلیں بھی تلاش کرتی رہتی ہیں۔ حال ہی میں بعض امریکی اہلکاروں کی طرف سے ایران پرایٹمی حملے کی دھمکیوں سے دنیابھرمیں تشویش کی لہر دوڑگئی ہے۔کیاایران پرایٹمی حملے کاسایہ،مغربی ایشیاکی جنگ،طاقت کاتوازن مسلم دنیاکاتاریخی امتحان ثابت ہوسکتاہے یاپھرایک ایسی عالمی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتا ہے جس کے بعددنیاکاوجودقیامت کے منظرمیں تبدیل ہوجائے گا ؟آج کاسب سے اہم سوال یہی ہے۔
موجودہ مغربی ایشیائی کشمکش کومحض ایران، اسرائیل اورامریکاکی عسکری آویزش نہیں بلکہ اسے طاقت، نظرئیے، مزاحمت،اخلاقی جوازاور ایٹمی بازدارندگی کے ایک ایسے سنگم کے طور پردیکھاجانا ضروری ہے جہاں ایک غلط قدم پورے دنیا کو ناقابلِ واپسی تباہی کی طرف لے جاسکتاہے۔ جولائی1402ء کی مشہورجنگِ انقرہ میں جب امیر تیمور نے عثمانی سلطان بایزیدیلدرم کوشکست دی تھی۔روایت کے مطابق تیمورنے شکست خوردہ بایزیدکی طرف دیکھتے ہوئے انسانی اقتدارکی ستم ظریفی کاذکرکیاتھاکہ دنیا کا مقدرایک لنگڑے اورایک نیم نابینا شخص کے ہاتھوں میں کیسےآگیا۔ یہ حکایت آج کے مضمون میں محض تاریخی زیبِ داستان کے لئے نہیں،بلکہ پوری تحریرکی معنوی بنیادہے۔
سوال یہ ہے کہ اگرقرونِ وسطیٰ میں دوحکمرانوں کے ذاتی عزائم ہزاروں انسانوں کی تقدیربدل سکتے تھے توآج،جب ایٹمی ہتھیاروں کے ایک بٹن پرکروڑوں جانوں کافیصلہ موقوف ہوسکتاہے،اقتدارکی اخلاقی کیفیت کس قدرزیادہ اہم ہوجاتی ہے۔پہلے جنگیں گھوڑوں، تلواروں اورمنجنیقوں سے لڑی جاتی تھیں،آج زمین کے نیچے محفوظ ایٹمی ذخیرے، براعظموں کو عبو ر کرنے والے میزائل،مصنوعی سیارے،ڈرون اورمیزائل شکن نظام فیصلہ کن عناصربن چکے ہیں۔یوں انسانی قوت بڑھی ہے مگراس کے ساتھ انسانی غلطی کی قیمت بھی آسمان کو چھونے لگی ہے۔یہی وہ فکری پل ہے جس پرچلتے ہوئے آج کامضمون ماضی کے انقرہ سے عصرِحاضرکے مغربی ایشیاتک پہنچتاہے۔
یادرہے کہ موجودہ جنگی مرحلے کے بعدطاقت کاروایتی توازن بڑی حدتک متزلزل ہوچکاہے۔ ایران نے نہ صرف اپنے ابتدائی نقصانات کی بڑی حدتک تلافی کرلی ہے بلکہ اس نے اپنے دفاعی ڈھانچے،میزائل صلاحیت اورڈرون ذخیرے کوبھی دوبارہ منظم کیا ہے۔ دوسری طرف امریکی اگلے مورچوں،ریڈار نظاموں اوررسدکے بعض مراکز کو بھاری نقصان پہنچنے پرامریکی بحری بیڑے کوایرانی اینٹی شپ میزائلوں کی پہنچ سے دوررکھنے کے لئے بحرِہندکی گہرائی میں منتقل کرنا پڑ گیا ہے۔دوسری طرف اسرائیل کے میزائل شکن دفاعی ذخائرکا قابلِ ذکرحصہ یاتواستعمال ہوچکاہے یانقصان اٹھاچکاہے۔جدید جنگ میں صرف حملہ آورہونابرتری کی ضمانت نہیں،بقاء،رسد،دفاعی ذخائراورطویل جنگ بردا شت کرنے کی صلاحیت بھی طاقت کاحصہ ہیں۔ جنگ کا پہلا وار اکثرتوپ و تفنگ سے کیاجاتاہے، مگر آخری فیصلہ ذخیر صبر،معاشی گنجائش،سیاسی عزم اورصنعتی استعداد کرتی ہے۔اسی لیے تاریخ میں کتنی ہی افواج پہلی یلغارمیں فاتح دکھائی دیں مگروقت کی ریت نے ان کی فتح کو شکست میں بدل دیا۔
ایران کاطرزِعمل خالصتاجغرافیائی سیاست سے پیدانہیں ہوتابلکہ ایران محض ریاست نہیں، بلکہ ایک نظریاتی مزاحمت ہے جواسے ایک ایسے نظریاتی عزم سے جوڑتی ہے جس میں کربلا،مظلوم کی حمایت،فلسطین اورلبنان کوخصوصی مقام حاصل ہے۔ایرانی قیادت اسرائیلی اورامریکی دباکے سامنے پسپائی کومحض سیاسی شکست نہیں بلکہ ایک وسیع ترنظریاتی شکست تصورکرتی ہے۔
یہاں کربلاایک تاریخی واقعہ ہی نہیں رہتی بلکہ سیاسی علامت بن جاتی ہے ایک ایسااستعارہ جس میں قلت وسائل کے باوجودمزاحمت، قوت کے سامنے سرنہ جھکانا اورمظلوم کے ساتھ کھڑاہونا مرکزی مفہوم اختیارکر لیتا ہے۔اسی تناظرمیں اب بھی ایران فلسطینیوں اور لبنان کے مسئلے سے دستبردارہونے کوتیارنہیں۔یوں ایک طرف طاقت کی منطق ہے اور دوسری طرف عقیدے اورتاریخی حافظے کی قوت۔جب ریاستی حکمتِ عملی قومی مفادسے آگے بڑھ کرمذہبی یاتہذیبی تصورسے جڑجائے توجنگ محض سرحدی تنازع نہیں رہتی؛وہ شناخت کا مسئلہ بن جاتی ہے۔اورشناخت کی جنگیں اکثرمذاکرات کی میز پر ختم کرناسب سے دشوارہوتی ہیں۔
میں اسرائیلی حکمتِ عملی کوبھی اسی شدت کے ساتھ نظریاتی رنگ میں دیکھتاہوں۔اسرائیل ایران کوایک ایسے علاقائی طاقت کے طور پر دیکھتاہے جواس کے طویل المدت علاقائی تصورات کے راستے یعنی گریٹراسرائیل میں بڑی رکاوٹ ہے۔یہاں اصل مسئلہ محض یہ نہیں کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کواپنے بنیادی مقاصدکے لئے وجودی رکاوٹ سمجھتے ہیں۔ جب جنگ وسائل یاسرحدکے لئے ہوتوسوداممکن رہتا ہے۔ ایک دریاتقسیم ہوسکتاہے،ایک سرحدطے ہو سکتی ہے، ایک تجارتی راستہ مشترک بنایاجاسکتاہے لیکن جب ایک فریق دوسرے کواپنے وجود، نظرئیے یامستقبل کے لئے بنیادی خطرہ سمجھنے لگے تو مصالحت کی زمین تنگ ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سفارتکاری کی زبان مدھم اور بارود کی زبان بلندہونے لگتی ہے۔
ایک دلچسپ داخلی کشمکش امریکاکے کردارسے متعلق ہے۔ایک طرف امریکااسرائیل کالازمی عسکری سہاراہے؛دوسری طرف اب واشنگٹن مزید طویل جنگ سے گریزکاخواہاں ہے ۔اسرائیل کسی نئے بڑے جنگی مرحلے کاآغازامریکی پشت پناہی کے بغیرنہیں کرسکتا، جبکہ امریکاکے لئے جنگ کااگلامرحلہ سیاسی،عسکری اور لاجسٹک اعتبارسے پہلے سے زیادہ مہنگاہو سکتاہے۔ تاہم امریکااور اسرائیل کا اتحاداتناگہراہے کہ واشنگٹن اپنی خواہش کے باوجودمکمل طورپرالگ نہیں ہوپائے گا۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

سمیع اللہ ملک. «راکھ سے پہلے.» اقبال فورم، 5 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%b3%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92/.

حوالہ دینے کے انداز

سمیع اللہ ملک. (5 اکتوبر 2026). راکھ سے پہلے. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d8%b1%d8%a7%da%a9%da%be-%d8%b3%db%92-%d9%be%db%81%d9%84%db%92/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔