مرکزی مواد پر جائیں

قیصر و،کسریٰ کے ملبے سے باب،المندب تک

مسلم امہ اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشمکش محض سعودی عرب یا یمن تک محدود نہیں بلکہ خلیج، بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم جغرافیائی و معاشی راستوں پر…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

قیصر و،کسریٰ کے ملبے سے باب،المندب تک

مسلم امہ آنکھیں بند کر کے جینا سیکھ لے یا خود پر ظلم کر والوں کے خلاف عالمی اشتراک کی کوششوں پر عمل پیرا ہونے کا سودا سر میں سما لے کہ اس کے پاس survival کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔اب صرف یمن یا سعودی عرب کا مسئلہ نہیں، بلکہ خلیج، بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز اور باب المندب کو ایک ہی جغرافیائی شطرنج کے تختے پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتِ حال میں یہ بات خاص اہم ہے کہ حوثیوں نے ستمبر 2026ء میں بحیرہ احمر کے یمنی ساحل پر اپنی گرفت بہت بڑھا دی ہے، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ براہِ راست حملوں کا سلسلہ بھی دوبارہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایران اور عرب دنیا کے موجودہ تنازع میں مذہبی، انقلابی، قومی، سلامتی، معاشی اور بحری مفادات سب ایک دوسرے میں گندھے ہوئے ہیں۔ تاریخ کے بعض باب بند نہیں ہوتے، صرف ان کے کردار بدل جاتے ہیں۔ سلطنتیں تاراج ہو جاتی ہیں، تخت و تاج خاک میں مل جاتے ہیں، فاتحین کے نام کتابوں میں رہ جاتے ہیں اور مفتوحین کی آہیں تاریخ کے مقابر میں دفن ہو جاتی ہیں، مگر طاقت کی کشمکش اپنا راستہ بدل کر نئی صورت میں واپس آتی رہتی ہے۔ کبھی یہ جنگ تلواروں سے لڑی جاتی ہے، کبھی توپوں سے، کبھی نظریات سے اور کبھی بندرگاہوں، آبناں اور تجارتی راستوں پر قبضے کی صورت میں۔
آج مشرقِ وسطیٰ میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے اگر صرف ایران اور سعودی عرب کی کشمکش کہا جائے تو شاید ہم اصل منظرنامے کا ایک بڑا حصہ دیکھنے سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے پیچھے صدیوں کی تہذیبی یادداشتیں بھی ہیں، جدید ریاستی مفادات بھی، مذہبی شناختیں بھی، علاقائی بالادستی کی خواہش بھی اور سب سے بڑھ کر وہ جغرافیہ بھی جس پر دنیا کی توانائی اور تجارت کا ایک بڑا حصہ منحصر ہے۔ایران اور سعودی عرب نے 2023 ء میں چین کی ثالثی سے سفارتی تعلقات بحال کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس وقت یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مشرقِ وسطیٰ کی دو بڑی طاقتیں تصادم کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کر سکتی ہیں۔ مگر یمن، شام، عراق، لبنان اور خلیج کی سیاست نے یہ بھی واضح کیا کہ سفارتی تعلقات کی بحالی اور بنیادی جغرافیائی و اسٹریٹیجک رقابت کا خاتمہ دو الگ چیزیں ہیں۔یمن محض ایک غریب ملک کا نام نہیں۔ یمن اس پورے خطے کے نقشے پر ایک ایسا دروازہ ہے جس کے سامنے کھڑے ہو کر بحیرہ احمر، خلیجِ عدن اور باب المندب کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ باب المندب بند ہو تو صرف سعودی عرب یا یمن متاثر نہیں ہوتے، دنیا کے سمندری راستے متاثر ہوتے ہیں۔ تیل، گیس، کنٹینر، خوراک، خام مال اور صنعتی تجارت کے وہ راستے جن پر ترقی پذیر دنیا کی معیشت کا بڑا انحصار ہے، ایک چھوٹے سے جغرافیائی نقطے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں حوثی تحریک کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ایران اور حوثیوں کا تعلق کوئی آج کی پیداوار نہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران کی فوجی مدد کا آغاز کم از کم 2009 ء کے آس پاس سے دکھائی دیتا ہے جبکہ 2014 ء میں حوثیوں کے صنعا پر قبضے کے وقت تک ایرانی اسلحہ اور مدد کے شواہد زیادہ واضح ہو چکے تھے۔ تاہم حوثیوں کو محض ایران کی ایک روایتی ’’پراکسی‘‘کہنا بھی مکمل تصویر نہیں؛ کئی ماہرین انہیں ایران کا ایک غیر رسمی علاقائی شراکت دار سمجھتے ہیں، جس کے اپنے مقامی مفادات اور اپنی سیاسی شناخت ہے۔یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔کیونکہ اگر حوثی صرف تہران کے اشارے پر چلنے والی تنظیم ہوتے تو معاملہ شاید نسبتاً آسان ہوتا۔ اصل پیچیدگی یہ ہے کہ ایران نے ایک ایسے علاقائی شراکت دار کو تقویت دی ہے جو اپنے مقامی مفادات کے ساتھ ساتھ ایران کے وسیع تر اسٹریٹیجک مفادات کو بھی آگے بڑھا سکتا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اتحاد کا ultimate مطلب کیا ہو سکتا ہے؟اس کا سب سے بڑا ممکنہ نتیجہ کسی ایک شہر پر قبضہ نہیں بلکہ جغرافیائی دبائو کی ایک ایسی زنجیر ہے جس میں ایران کے لیے خلیج سے لے کر بحیرہ احمر تک دبائو کے کئی مراکز بندھ جائیں۔ایک طرف آبنائے ہرمز ہے، دوسری طرف باب المندب، اگر ایک طاقت یا اس کے اتحادی ان دونوں راستوں کو بیک وقت خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت پیدا کر لیں تو معاملہ صرف سعودی عرب کی سلامتی کا نہیں رہتا۔ یہ عالمی تجارت اور توانائی کی سلامتی کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
حالیہ حوثی پیش قدمی کے بعد تجزیہ نگاروں نے بھی اسی خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایران کے حامی عناصر دو اہم بحری choke points پر اثرانداز ہونے کی پوزیشن حاصل کر سکتے ہیں۔ یہاں سے ’’قیصر و کسریٰ‘‘کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔کیا ایران آج عرب دنیا سے اس شکست کا بدلہ لے رہا ہے جو صدیوں پہلے عرب فاتحین نے ساسانی سلطنت کو دی تھی۔؟ موجودہ ایرانی ریاست کے فیصلوں کو 1979ء کے انقلاب، ایرانی قومی سلامتی، خلیج میں امریکی موجودگی، اسرائیل کے ساتھ تنازع، پابندیوں، علاقائی طاقت کے توازن اور اپنے اثر و رسوخ کے دفاع کے تناظر میں دیکھنا زیادہ مناسب ہے۔لیکن تاریخ کبھی بالکل غیر متعلق بھی نہیں ہوتی۔قومیں اپنی اجتماعی یادداشت ساتھ لے کر چلتی ہیں۔ ایران اپنی قدیم تہذیب، اپنی فارسی شناخت، اپنی انقلابی روایت اور اپنے مخصوص مذہبی و سیاسی تصور کو ایک ساتھ لے کر چلتا ہے۔ عرب دنیا بھی اپنی تہذیبی، مذہبی اور سیاسی تاریخ رکھتی ہے۔ چنانچہ جب جدید طاقت کی سیاست ان تاریخی یادداشتوں سے ملتی ہے تو تصادم کا رنگ زیادہ گہرا ہو جاتا ہے۔مگر اصل سوال پھر بھی آج کا ہے، کل کا نہیں،اور آج کا منظر یہ ہے کہ سعودی عرب کے لئے خطرہ اب صرف یمن کی سرحد تک محدود نہیں رہا۔

مصنف کے بارے میں

ایم ایم ادیب

ایم ایم ادیب

ایم ایم ادیب مصنف اور کالم نگار ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق وہ «اوصاف» کے کالم نگار ہیں، اور ان کی زندگی یا کام کے بارے میں مزید تفصیلات درج نہیں۔

  • سیاست
پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

ایم ایم ادیب. «قیصر و،کسریٰ کے ملبے سے باب،المندب تک.» اقبال فورم، 27 ستمبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=49814.

حوالہ دینے کے انداز

ایم ایم ادیب. (27 ستمبر 2026). قیصر و،کسریٰ کے ملبے سے باب،المندب تک. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=49814

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔