مرکزی مواد پر جائیں

مکہ دفاعی معاہدہ اور اعلانِ بدر

مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر مفاہمتی یادداشت کے ذریعے اسلامی ممالک کو یہ ادراک ہوا ہے کہ قومی سکیورٹی آؤٹ سورس کرنے کے بجائے مشترکہ دفاعی صلاحیتوں، مقامی اسلحہ سازی اور تکنیکی…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

بدر مفاہمتی یادداشت

مکہ دفاعی معاہدہ کئی زاویوں سے بہت اہم اور دلچسپ ہے۔ ایک تو یہ معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کو اس بات کا ادراک ہو گیا ہے کہ قومی سکیورٹی کو آؤٹ سورس نہیں کیا جا سکتا۔ خطے کے دفاع کی بنیادی ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔ دوسری بات اس امر کا ادراک ہے کہ عرب نیشنل ازم کی سوچ سے نکل کر اسلامی ممالک سے دفاعی تعاون مفید ہو سکتا ہے۔ تیسری بات اس امر کا پھر سے اعادہ ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف جارحیت کے لیے نہیں بنا بلکہ اصل مقصد معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہے۔حال ہی مکہ معاہدہ کو ترکیہ کی پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد اس کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں‘ ان کے مطابق پہلی بات یہ ہے کہ معاہدہ غیر معینہ مدت کیلئے ہے اور دس سال اس کا ممبر رہنا تینوں بانی ممالک کیلئے لازمی ہے۔ دس سال کی مدت پوری ہونے کے بعد‘ کوئی بھی ممبر ملک تین ماہ کا نوٹس دے کر معاہدے سے علیحدہ ہو سکے گا۔ تینوں ممالک مشترکہ ٹریننگ‘ اسلحے اور نفری کی فراہمی سے ایک دوسرے کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھائیں گے۔ اس سے بھی اہم نکتہ جدید اسلحہ کی مقامی پیداوار کو فروغ دینا ہے۔ تینوں ممبر ممالک اسلحہ کی پیداوار میں ممکنہ حد تک خود کفیل ہونا چاہتے ہیں‘ مثلاً سعودی عرب کا 2030ء تک 50 فیصد تک اسلحہ پیداوار میں خود کفالت کا ہدف ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط ہونے کے بعد یہ خبریں آنے لگیں کہ چند دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اگست میں الجزیرہ ٹی وی نے مکہ معاہدے پر طویل دورانیے کا ایک پروگرام دوحہ میں کرایا جس میں ترکیہ‘ پاکستان اور سعودی عرب سے ایک ایک بین الاقوامی امور سے واقف شخص کو بلایا گیا۔ پاکستان کی نمائندگی کیلئے راقم الحروف کو دعوت ملی۔ عربی زبان میں مکہ معاہدے پر گفتگو دو گھنٹے تک جاری رہی۔ مجھے تب یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ حکومتِ قطر یا تو مکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہو جائے گی یا اس کے متوازی معاہدہ تشکیل دینے میں دلچسپی رکھتی ہے‘ اور حال ہی میں دوحہ میں چار ملکوں نے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جن میں قطر‘ پاکستان‘ ترکیہ اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ قطر اپنی سرزمین پر امریکی ایئر بیس کی وجہ سے حالیہ جنگ میں ایران کا ہدف رہا ہے۔ محدود رقبے اور مختصر آبادی والا یہ ملک فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ وجہ اس کے وسیع گیس کے ذخائر ہیں جو خلیج کے پانیوں کے نیچے چھپے ہوئے ہیں۔عربوں کے اتحاد اور اتفاق کی بے شمار مثالیں ہیں جن کا ایک کالم میں احاطہ ممکن نہیں۔ پچھلی صدی میں مصر کے صدر جمال عبدالناصر عرب نیشنل ازم کے بہت بڑے داعی تھے اور نیشنل ازم کا نعرہ ہی ان کی مقبولیت کا سبب تھا۔ عراق اور شام میں بعث پارٹی والے برسر اقتدار آئے۔ یہ دونوں ممالک بھی ایک عرصہ عرب نیشنل ازم کے سحر میں گرفتار رہے۔ نسلی اور لسانی عصبیت عرب نیشنل ازم کی اساس تھی۔ اس سیاسی فکر کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ عرب بعث پارٹی کے بانیوں میں سب سے اہم نام میشل عفلاق (Michel Aflaq) کا ہے جو شامی کرسچن تھا۔ بعث پارٹی کی عرب نیشنل ازم والی سوچ مصر اور شام کے اتحاد کا بنیادی سبب بنی کیونکہ بعث پارٹی کا نعرہ تھا ”امہ عربیۃ واحدہ ذات رسالۃ خالدہ‘‘۔ یعنی عرب ایک قوم ہیں جو سرمدی پیغام کی حامل ہے‘ لیکن مصر اور شام کا 1958ء میں ہونے والا یہ اتحاد صرف تین سال چل سکا۔
1975ء میں جب میری پوسٹنگ دمشق میں ہوئی تو وہاں بعث پارٹی کی حکومت تھی۔ حافظ الاسد شام کے صدر تھے۔ عراق میں بھی بعث پارٹی حکمران تھی لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں اکثر تناؤ رہتا تھا۔ وقتاً فوقتاً بارڈر بند ہو جاتا تھا۔ 1990ء میں میری پوسٹنگ ریاض میں تھی جب صدام حسین نے کویت پر چڑھائی کردی اور جنوری 1991ء میں سعودی عرب پر میزائل برسائے۔ بعض خلیجی ممالک کی خواہش رہی ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے چھ ممبر ممالک کی ایک فوج ہو لیکن یہ آرزو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکی۔ خلیجی ممالک کے باہمی اختلافات سے ہم بخوبی واقف ہیں۔ اب خلیج پر منڈلاتے خطرات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ چھ خلیجی ممالک کی افواج مل کر بھی خطرات کا سامنا نہیں کر سکتیں۔ لہٰذا ان ممالک کی نظریں ترکیہ‘ پاکستان اور انڈونیشیا پر لگی ہوئی ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ اسرائیلی انتہا پسندوں کے گریٹر اسرائیل کے مذموم نقشے میں کچھ خلیجی علاقہ بھی شامل ہے۔
پاکستان کا مکہ دفاعی معاہدے اور بدر مفاہمتی یادداشت میں شامل ہونا خوش آئند ہے۔ ریاض میں قائم ہونے والے مکہ معاہدے کے ہیڈ کوارٹر کے پہلے سربراہ بھی ایک پاکستانی جنرل ہیں اور یہ بات ہمارے لیے باعثِ اعزاز ہے۔ پاکستان کئی عشروں تک مختلف خلیجی ممالک کی افواج کی تربیت میں شامل رہا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی قوت ہونا اس کے عسکری قد کاٹھ میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے اور پھر ہماری مسلح افواج نے دہشت گردی کا سالوں سے جرأت سے مقابلہ کیا ہے۔ خلیجی جنگ نے جہاں پاکستان سمیت پوری دنیا کی معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کیے ہیں وہاں مکہ دفاعی معاہدہ اور بدر یادداشت نے ہمارے لیے متعدد امکانات کے دروازے کھولے ہیں۔ ہمارے متعدد انجینئر اور ٹیکنیشن اب قطر اور سعودی عرب میں اسلحہ ساز فیکٹریوں میں کام کریں گے۔ ترک اور انڈونیشین ماہرین کے ساتھ مہم کاری ہماری فنی مہارت کو مزید نکھارے گی۔ پاکستان میں اس وقت ایک ہی بڑی اسلحہ ساز فیکٹری ہے‘ ہمیں کم از کم ایک اور جدید اسلحہ ساز فیکٹری کی ضرورت ہے۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں ڈرون اور میزائل ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی خلیجی ممالک کو ٹرانسفر کی جا سکتی ہے۔
تیل اور گیس کی ضروریات کیلئے پاکستان کا انحصار بڑی حد تک خلیجی ممالک پر ہے۔ جنگ کا ہمارے ہاں پٹرول‘ ڈیزل اور گیس کی قیمتوں پر واضح اثر ہوا ہے۔ غریب کیلئے چولہا جلانا مشکل ہو گیا ہے‘ ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ گئے ہیں۔ ہمارے ایران‘ قطر اور سعودی عرب سے قریبی تعلقات ہیں۔ لہٰذا ہماری انرجی کی ضروریات کسی نہ کسی طرح پوری ہو رہی ہیں لیکن قیمتیں پھر بھی ہمارے کنٹرول سے باہر ہیں۔ لہٰذا دیگر دور اندیش ممالک کی طرح ہمیں بھی انرجی سٹوریج کا مناسب بندوبست کر لینا چاہیے اور برادر خلیجی ممالک کے تعاون سے آئل ریفائنری بھی جلد بنا لینی چاہیے۔
ترکیہ نے اس بات کی پھر سے وضاحت کی ہے کہ مکہ معاہدہ کے ممبر ممالک کسی دوسرے ملک پر حملہ نہیں کریں گے۔ اشارہ واضح طور پر‘ فی الحال یمن کی طرف ہے جہاں سے انصار اللہ(حوثی) سعودی عرب پر ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ترکیہ اور پاکستان ڈرون کو فضا میں تباہ کرنے میں تو مدد دے سکتے ہیں لیکن حوثیوں کے خلاف براہِ راست نہیں لڑیں گے۔ فرض کیجئے کہ انصار اللہ باب المندب سے تیل بردار جہازوں کا گزرنا مزید مشکل بنا دیتی ہے تو سعودی عرب سے تیل درآمد کرنے والے تمام ممالک اس کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس صورت میں پاکستان اور ترکیہ پر بھی پریشر آئے گا کہ جنگ میں کود پڑیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ غیر معینہ مدت کیلئے ہے اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ خلیجی ممالک اور ایران کے مابین جنگ بالکل نہیں ہوگی؟ اس صورت میں پاکستان اور ترکیہ کی پوزیشن بہت مشکل ہو جائے گی کیونکہ ایران کے خلاف محاذ کھولنا پاکستان کیلئے تقریباً ناممکن ہے۔یہ بات خوش آئندہے کہ خلیج کے امن و استحکام میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔ پاکستان اس رول سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا اور اپنی ڈیفنس انڈسٹری کو ترقی دے سکتا ہے۔ معیشت کو آئی ایم ایف کی نگہداشت سے بھی نکال سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ عرب عجم مسائل یا تو حل کر لیے جائیں یا کسی بھی ممکنہ تنائو کو کنٹرول کرنے کا میکانزم بنا لیا جائے۔ ترکیہ‘ پاکستان اور انڈونیشیا تینوں مل کر خلیجی ممالک اور خود کو آگے لے جا سکتے ہیں‘ جس سے خطۂ خلیج سمیت پورے عالمِ اسلام کو فائدہ ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

جاوید حفیظ. «مکہ دفاعی معاہدہ اور اعلانِ بدر.» اقبال فورم، 24 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52816.

حوالہ دینے کے انداز

جاوید حفیظ. (24 اکتوبر 2026). مکہ دفاعی معاہدہ اور اعلانِ بدر. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52816

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔