مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

مکہ دفاعی معاہدہ: تزویراتی ابہام اور زمینی حقائق!

مکہ دفاعی پیکٹ سے متعلق حکومتی جوش و خروش، 'مسلم نیٹو' کا تاثر اور مالی امداد کی امیدیں اپنی جگہ، لیکن یہ معاہدہ فی الحال کسی باقاعدہ دستاویز کی عدم موجودگی کے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

مکہ دفاعی معاہدہ

سات اگست کو مکہ دفاعی پیکٹ پر دستخط ہوئے تو حکومت کے حمایتی بہت پرجوش دکھائی دیئے۔ کسی نے معاہدے کو جنگِ عظیم دوئم کے بعد سب سے بڑا عالمی واقعہ قرار دیا تو بہت سوں کو اس میں ’مسلم نیٹو‘ اُبھرتی دکھائی دینے لگی۔ معاہدے کے نتیجے میں مالی امداد کی امیدیں اپنی جگہ دلوں میں موجزن رہیں۔خود ازکارِ رفتہ سپاہی نے انہی صفحات پر لکھا کہ دوست ملکوں کے درمیان تعاون کا کوئی بھی معاہدہ خوش آئند ہے تاہم معاہدہ عملی طور پر کیا صورت اختیار کرتا ہے، یہ دیکھنا زیادہ اہم ہے ۔ فی الحال یہ سمجھا جائے کہ امریکی تائید کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ایران کے خلاف کسی فوری صف بندی کی بجائے امریکی جارحیت کا کامیابی سے سامنا کرنے والے ایران کی متوقعresurgence کے پیش نظر مستقبل کی پیش بندی ہے، تو غلط نہیں ہوگا۔ پاکستان کیلئے اس معاہدے کا حصہ بننے کا فوری فائدہ یہ ہے کہ متوقع مالی فوائد سمیت بھارت کے مقابلے میں خطے میں اس کی سفارتی پوزیشن مستحکم رہے گی۔اندرونی طورپر بھیLegitimacy کی تلاش میں سرگرداں حکومتی بندوبست کے لئے معاہدہ آسمان سے نازل ہونے والی کسی نعمت سے کم نہیں۔تاہم معاہدہ آج بھی کسی باقاعدہ دستاویز کی شکل میں موجودنہیں ہے۔ چنانچہ فریقین کی ذمہ داریوں ، حدود وقیود اور آپریشنل معاملات سمیت بہت سے اہم پہلو ہیں کہ جن پر قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ چنانچہ اکثر سنجیدہ مبصر ین کے مطابق معاہدہ کئی لحاظ سے مبہم ہے۔ ڈاکٹر عنصر جمیل نسٹ کے ڈیپارٹمنٹ آف انٹر نیشنل سٹڈیز میں سنٹر آف انٹرنیشنل پیس اور سٹیبلیٹی میں ایچ او ڈی ہیں۔ڈاکٹرصاحب سے ہماری رفاقت عشروں پر محیط ہے۔ معاہدے پر دستخط ہونے کے تین روز بعداسی موضوع پر ان کا ایک مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون میںڈاکٹر عنصر جمیل معاہدے کے ’ مبہم ‘ ہونے کو ہی اس کی اصل طاقت قرار دیتے ہیں۔ اپنے مضمون میں وہ مکہ پیکٹ کو’ سفارتی ذہانت‘ پر مبنی ایک ایسی deterrence قرار دیتے ہیں کہ جس میں کوئی فوری قیمت چکائے بغیر فریقین وہ عہد وپیمان کر سکتے ہیں کہ جنہیںوفا کرنے کا وہ ارادہ نہیں رکھتے۔ پاکستانی تو اندرونِ ملک خلفشار اور دو صوبوں سمیت مغربی سرحد پر جنگی صورتحال کا شکار ہے ہی، صورتحال اب یوں ہے کہ بحیرہ احمر میں سعودی بندرگاہوں سمیت سعودی سرزمین بھی حوثی حملوں کے نشانے پرہے۔ ردِ عمل میں سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومت کی انصاراللہ ( حوثیوں )کے خلاف زمینی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ ان کے ٹھکانوںپر سعودی فضائی حملے بھی جاری ہیں۔نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کے جنگی طیارے ان فضائی حملوں میں شامل رہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے مگر سی این این سے بات کرتے ہوئے پاکستانی دستوں،فضائی اور ایئر ڈیفنس اثاثوں کی سعودی سرزمین پر موجودگی کو معمول کی بات قرار د یتے ہوئے یمن کے اندر پاک فضائیہ کے طیاروں کی کسی کاروائی کی سختی سے تردید کی ہے۔ پاکستان نے بڑی صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ وہ یمن کے اندر اپنے دستوں کو اتارے بغیرصرف سعودی سٹریٹجک اثاثوں بشمول تیل کی تنصیبات کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ دوسری جانب معاہدے کے تیسرے فریق ترکیہ کے وزیر خارجہ نے معاہدے کو ’دفاعی‘ قرار دیتے ہوئے کسی قسم کی عسکری کاروائیوں میں اپنے دستوں کی شمولیت کے امکان کو رد کر دیا ہے۔تازہ ترین حملوں میں انصاراللہ کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سوال اٹھتا ہے کہ معاہدے کا ’تزویراتی ابہام‘ کیا اب بھی باقی ہے، یا نہیں؟ رائٹر کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اب حوثیوں اور بشار الاسد کے خلاف برسرِ پیکار رہنے والی قریباََ دو لاکھ افراد پر مشتمل شامی فوج سے زمینی دستوں کی فراہمی کیلئے بات چیت کر رہا ہے۔ یہ بہت بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کہ جسے بجا طور پر مسلم دنیا کا روحانی و اقتصادی مرکزکہا جا سکتا ہے، آمرانہ رویوں ، ظلم و جبر،خونریزی اور بقاء واثرورسوخ کی دائمی کش مکش کا شکار ہے۔ صورتحال کا فائدہ مفاد پرست عالمی کھلاڑی اور ان کا بغل بچہ اسرائیل اٹھا رہے ہیں۔عمار علی جان نے حال ہی میں بیرونی طاقتوں کی یمن میںمداخلت کی تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے ان طاقتوں کے خود غرضانہ رویوں کو دنیا کے غریب ترین ملک کو درپیش صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ نوجوان اشتراکی رہنماء نے بجا طور پرحکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس کشمکش سے دور رہے۔جنرل مشرف جب امریکہ کے اتحادی کے طور پردہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے تھے تو’ڈیموکریسی اور ڈویلپمنٹ‘ کے عنوان سے دہلی میں منعقدہ ایک عالمی کانفرنس میں پڑھے جانے والے اپنے مقالے میں سیداکبر زیدی نے اندرونی اور علاقائی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لئے پاکستان کی امریکی چھتری تلے عالمی اتحادوںمیںشمولیت کی روش کومعکوسی اور خطرناک طرزِ عمل قرار دیا۔زیدی صاحب کے مطابق ان مفاد پرست عالمی طاقتوں کی جانب سے پاکستان کے اندر آمرانہ حکومتوں کی حمایت کا نقصان جمہوریت اور بالآخر ملک کی دیرپا معاشرتی اور معاشی ترقی کو پہنچتا ہے۔ بدقسمتی سے ان معاہدوں کے نگران عالمی کھلاڑی دنیا بھر میں توجمہوریت کا راگ الاپتے رہتے ہیں مگراپنی ’کلائنٹ‘ ریاستوں میںجمہوریت کے ارتقاء اور مضبوطی سے زیادہ انہیں ’ آمرانہ استحکام ‘ زیادہ عزیز ہوتا ہے۔ زیدی صاحب نے جمہوریت کا اقتصادی ترقی کے ساتھ گہرا تعلق ثابت کرتے ہوئے اعداد و شمار کی مدد سے بتایاکہ کس طرح ہمارے ہاں ہر آمرانہ دور میں غیر ملکی امداد کی فراوانی اور عالمی معاشی اداروں کی اچانک نظر ِکرم کے باعث معاشی ترقی کی شرح یکا یک آسمانوں کو چھونے لگتی ہے۔ لیکن ان ادوار کے انجام کو پہنچتے اور امداد کے سوتے خشک ہوتے ہی ملکی معیشت کی صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ ابتر ہو جاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ ریاست ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے اس بارعالمی کھلاڑیوں کی آشیرباد، امداد اور عالمی مالی اداروں کی شاباشی کی بجائے اپنے لوگوں کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنائے۔ ملک میں جمہوریت کے استحکام، آزاد اور کثیر الجہت جمہوری اور معاشی اداروں کے قیام سمیت عدلیہ اور پارلیمنٹ کومضبوط بنائے جانے پر توجہ دے۔ اس وقت چین کے ساتھ مختصر سرحدی پٹی کے سوا پاکستان کی اپنے تمام ہمسائیوں کے ساتھ سرحدیں تجارت اور آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔محض ایک عشرہ قبل بھارت پاکستان کا نواں بڑا ’تجارتی پارٹنر‘ تھا۔ آج صرف بھارت ، افغانستان اور ایران ہی نہیں، پورا سینٹرل ایشیا ہم سے کٹا پڑاہے۔ ڈاکٹر عنصر جمیل نے اپنے مقالے میں معاہدے کے جس ’ ابہام ‘کو اس کی طاقت قرار دیا ، کئی ’مالی اور دیگر مجبوریوں‘کے پیش نظراِسی ابہام کو برقرار رکھتے ہوئے ہمیں دور دراز بھڑکتی پرائی آگ میں اپنے ہاتھ جلانے کی بجائے اپنے خطے میں تعاون و تجارت کے فروغ کے لئے کام کرنا چاہیئے۔ تاہم اس سب کے لئے ہمیں داخلی خلفشار کے تمام عوامل کا تدارک کرتے ہوئے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اپنے لوگوں کے ساتھ انصاف، دیانتداری اورقانون کی عملداری پر استوارریاستی طرز عمل اپنائے بغیرمگر ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔

مصنف کے بارے میں

فیصل مسعود

فیصل مسعود

فیصل مسعود فراہم کردہ معلومات کے مطابق ۹۲ نیوز کے کالم نگار ہیں۔ ان کی زندگی، قومیت یا رتبے کے بارے میں ان پٹ میں مزید تفصیلات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

فیصل مسعود. «مکہ دفاعی معاہدہ: تزویراتی ابہام اور زمینی حقائق!.» اقبال فورم، 12 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=51570.

حوالہ دینے کے انداز

فیصل مسعود. (12 اکتوبر 2026). مکہ دفاعی معاہدہ: تزویراتی ابہام اور زمینی حقائق!. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=51570

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔