نیتن یاہو کے بعد ٹرمپ کی شرمناک شکست
امریکی اور اسرائیلی سیاست میں مذہبی بنیادوں پر اسرائیل کی پشت پناہی، 28 فروری 2026ء سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ، اور غزہ میں تباہی کے باوجود ایران کی ثابت قدمی…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
اسرائیل برطانیہ کا تخلیق کردہ ناجائز بچہ ہے جو عربوں کے سینے پر خنجر کی شکل میں پیوست کیا گیا۔ اس وقت برطانیہ سپریم عالمی طاقت تھی اس نے اسرائیل کے ناجائز بچے کی ولادت کرائی۔ یہ پیدائش خالصتاً مذہبی جذبے کے تحت کی گئی ایک طرف بائبل کے مندرجات کے مطابق یہودی اللہ کی چنیدہ قوم ہیں اور اللہ نے انہیں یہ سرزمین عطا کی تھی اور ان سے وعدہ کیا گیا کہ لہواہ انہیں ایک بار پھر وہاں اکٹھا کرے گا۔ ریاست اسرائیل انہیں اکٹھا کرنے کے خدائی وعدے کی تکمیل تصور کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب برطانوی افواج نے جنگ عظیم میں شہر مقدس پر قبضہ کیا اور عربوں کو وہاں سے بے دخل کیا تو برطانوی جرنیل ایلن بی ننگے پاؤں اس شہر میں اسی دروازے سے داخل ہوا جہاں سے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام داخل ہوا کرتے تھے پھر یہ مذہبی جذبہ بھی تھا جس کے تحت انہوں نے اس شہر کی کنجی اسرائیلیوں کے حوالے کی۔ دوسرا مذہبی جذبہ مسلمانوں سے نفرت کا تھا صلیبی دور کی نفرت، جس نے انگریزوں و دیگر یورپی عیسائی اقوام کو عثمانیوں کے خلاف متحرک کیا تھا۔ پھر امریکہ عالمی طاقت بنا تو اس نے اسرائیل کو اسی جذبے کے تحت گود لے لیا اور اس کی حفاظت و تعمیر و ترقی کا فریضہ سنبھالا۔ اسرائیل کی حفاظت امریکی ریاستی پالیسی کا حصہ ہے اسی کے تحت ہر امریکی صدر اسرائیل کی حفاظت کے لئے ہر طرح کے اقدامات کرتا ہے۔ اسرائیل ہر سال 4ارب ڈالر بطور امداد امریکہ سے وصول کرتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل وزیراعظم نیتن یاہو کے ”تاریخی تعلقات“ کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کٹر سفید فام نسل پرست متعصب صہیونی عیسائی ہے جو آسمانی بادشاہت کے صلیبی عقیدے کے تحت تھرڈ ہیکل کی تعمیر اور مسیح کی آمد ثانی پر ایمان رکھتا ہے جس کے مطابق ریاست اسرائیل کی تعمیر و تقدیس عقیدے کا حصہ ہے۔ نیتن یاہو ایک کٹر صہیونی یہودی ہے جس نے آسمانی بادشاہت کے بائیبلی عقیدے کے تحت عظیم اسرائیل کی تعمیر کے نظریے کے تحت عربوں و فلسطینیوں پر آتش و آہن کا جہنم کھول رکھا ہے۔2023ء میں غزہ سے حماس کے اسرائیل پر حملوں کے جواب میں جو ضربی جنگ شروع کی تھی اس میں ہزاروں نہیں لاکھوں فلسطینی شہید، زخمی اور بے گھر ہو چکے ہیں۔80فیصد سے زائد رہائشی عمارتیں مکمل طور پر ناقابلِ رہائش بنا دی گئی ہیں۔ صحت و صفائی کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔ مساجد و دیگر عبادت گاہوں کا کہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے کیونکہ وہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ مٹا دی گئی ہیں۔ 28 فروری 2026ء کو اسرائیل و امریکہ نے مل جل کر ایران پر خوفناک جنگ مسلط کی جو ہنوزجاری ہے اس جنگ میں عالمی تیل و اشیاء کی تجارت تباہی کا شکار ہوئی۔ عرب ممالک پر تباہی نازل ہوئی اس جنگ میں ایران نے جس ثابت قدمی اور مقاومتی جنگی حکمت کا مظاہرہ کیا اس نے امریکہ و اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کا تصور ہی پاش پاش نہیں کیا بلکہ ان کی حربی و ضربی برتری کا بت پاش پاش کر دیا ہے۔ ایران اور اس کی پراکسیزبشمول حوثی، حزب اللہ و دیگر نے جس طرح امریکی، اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے اس سے جنگ نے کچھ اور ہی شکل اختیار کرلی ہے۔ عرب تباہی کا شکار ہو رہے ہیں۔ نیتن یاہو انتخابات میں شکست کھا چکا ہے اس کا طویل دور اقتدار ختم ہونے کے قریب ہے۔ ریاست اسرائیل کے عوام نے نیتن یاہو کی عرب دشمن پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ اسرائیل کی 22لاکھ عرب آبادی نے 19نشستیں جیت کر ایک بالکل نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اسرائیل کے عرب ووٹرز نے بھی نیتن یاہو کی فلسطین و عرب دشمن پالیسیوں پر مکمل طور پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ نیتن یاہو کے مقابل آئزن کوٹ بھی نظری و فکری طور پر صہیونی اور فلسطینیوں کا دشمن ہے بلکہ کسی حد تک نیتن یاہو سے بھی زیادہ فلسطینی عرب دشمن۔ دوسری طرف وسط مدتی انتخابات میں امریکی عوام نے بڑی وضاحت کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے امیدوار بری طرح پٹ گئے ہیں۔ ڈیموکریٹس ہاؤس آف ریپریذنیٹیٹو اور سینیٹ میں واضح اکثریت حاصل کر گئے ہیں۔ ٹرمپ پارٹی کو بُری طرح شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ عوامی زبان میں ٹرمپ پارٹی کا صفایا ہو گیا ہے۔ امریکیوں نے ٹرمپ پالیسیوں پر مکمل طور پر عدم اظہار کر دیا ہے، لیکن ہمیں ذرا مستقبل قریب میں پیش آئند حالات پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ نیتن یاہو کی شکست کے بعد جو بھی حکومت بنے گی کیا وہ فلسطینیوں و عربوں کے لئے امن کا پیغام لائے گی۔
امریکہ میں ڈیموکریٹس جیت چکے ہیں۔ ٹرمپ پارٹی ہار گئی ہے کیا ایران کے ساتھ جاری جنگ رک جائے گی؟ کیا دنیا میں امن آ جائے گا؟ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ ڈیموکریٹس جنگ باز ہیں جنگوں کو فروغ دیتے رہے ہیں۔ ایٹم بم کی تیاری ہو یا جاپان پر ایٹم بم گرائے جانے کی کہانی۔ سب ڈیموکریٹس صدور کے ادوار میں ہوا۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے وقت بھی امریکہ پر ڈیمو کریٹس صدور فائز تھے۔ جنگِ ویتنام شروع کرنے میں بھی ڈیموکریٹ صدر کا ہی نام آتا ہے۔ نیتن یاہو کے مخالف آئزن کوٹ، عرب پارٹیوں کے تعاون سے اسرائیلی حکومت بنانے جا رہے ہیں تو کیا نیتن یاہو کے جانے کے بعد فلسطینی سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ غزہ میں جاری تباہی رک جائے گی، اس کا جواب بھی نفی میں ہے کیونکہ آئزن کوٹ، اپنے مذہبی و سیاسی خیالات میں نیتن یاہو سے بڑھ کر صہیونی اسرائیلی ہے اور فلسطینیوں کے حق حکمرانی کا دشمن ہے۔ چہروں کی تبدیلی سے جاری حالات میں بہتری کے امکانات نظر نہیں آ رہے، ہاں طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے امریکی اسرائیلی حکمت عملی میں تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ٹرمپ اور یاہوایران پر کاری ضرب نہیں لگا سکے۔ ایران سے ہرمز کا کنٹرول واپس نہیں لے سکے بلکہ باب المندب پر بھی حوثیوں کا کنٹرول بڑھا چکے ہیں۔ طے شدہ اہداف کے حصول کے لئے وہ درست حکمت عملی اختیار نہیں کر سکے جس کے باعث ایران میں نہ تو رجیم تبدیل ہو سکی نہ ہی اس کی قوت مقاومت کمزور کی جا سکی اور نہ ہی عالمی تجارت پر اس جنگ کے ساؤں کی نحوست کو ختم کرسکے دیکھے ہیں کہ آئندہ حالات و واقعات دنیا کے لئے کیا پیغام لاتے ہیں۔
مصنف کے بارے میں
اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
مصطفی کمال پاشا. «نیتن یاہو کے بعد ٹرمپ کی شرمناک شکست.» اقبال فورم، 7 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54498.
تبصرے