مرکزی مواد پر جائیں

امریکی عوام کا ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی تاریخی کامیابی اور کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنا ووٹرز کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر واضح عدم اعتماد ہے۔ ان انتخابات میں…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی کو جس سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ امریکی سیاست میں پیدا ہونے والی گہری تبدیلیوں کا اظہار ہے۔ ڈیموکریٹس نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ کامیابی اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ 2006ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی صدر کی مخالف جماعت نے ایک ہی انتخابی عمل میں کانگریس کے دونوں ایوانوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے۔ ٹرمپ نے خود کو ان انتخابات کا مرکزی کردار بنایا تھا اور اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ انتخاب کو ایسے سمجھیں جیسے صدر بھی امیدوار ہوں۔ امریکی ووٹرز نے واقعی اسے ٹرمپ کی پالیسیوں پر ریفرنڈم بنا دیا۔ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے سینیٹ میں 51 نشستوں کی اکثریت حاصل کر لی، جبکہ ایوانِ نمائندگان میں بھی کم از کم 219 نشستوں کے ساتھ اکثریت ان کے حصے میں آئی۔ ڈیموکریٹس نے مشی گن، مین، آئیووا، کنساس، اوہائیو، شمالی کیرولائنا، جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس جیسی ریاستوں میں ری پبلکن امیدواروں کو شکست دی۔ بعض ریاستیں ایسی تھیں جہاں دو سال پہلے ٹرمپ نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔ایکایگزٹ پول کے مطابق 43 فیصد ووٹرز نے بتایا کہ ٹرمپ کی مخالفت ان کے ووٹ دینے کی وجوہات میں شامل تھی، جبکہ 71 فیصد ووٹرز، جن میں 41 فیصد ری پبلکن بھی شامل ہیں، سمجھتے ہیں کہ کانگریس صدر کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اپنا کردار مناسب طور پر ادا نہیں کر رہی۔ابتدائی ایگزٹ پول میں ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح صرف 38 فیصد رہی۔ان نتائج کا ایک اہم پہلو امریکی سیاست میں مسلم نمائندگی کا تاریخی اضافہ بھی ہے۔ مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسلام السیدنے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی کامیابی اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے انتخابی مہم میں ٹرمپ کی پالیسیوں، ایران جنگ اور اسرائیل کی حمایت پر تنقید کی تھی۔ انہیں انتخابی مہم کے دوران مذہبی شناخت کی بنیاد پر بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود ان کی کامیابی امریکی معاشرے میں مسلم امریکیوں کی سیاسی شرکت اور نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ اب سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کانگریس کا کنٹرول کھونے کے بعد ٹرمپ کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟ امریکی آئین کے تحت صدر انتظامیہ کا سربراہ ضرور ہے، لیکن قانون سازی، بجٹ، تقرریوں اور جنگی اختیارات پر کانگریس کا بھی اہم کردار ہے۔ ڈیموکریٹس کو جنوری میں نئی کانگریس کے آغاز کے بعد صدارتی انتظامیہ کے خلاف تحقیقات، سماعتوں اور دستاویزات طلب کرنے کے اختیارات حاصل ہوں گے۔ ٹرمپ کے خاندان کے کاروباری معاملات، انتظامیہ کے اخراجات، امیگریشن ادارے ICE کی کارروائیوں اور سرکاری اختیارات کے استعمال پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ ایران جنگ ان انتخابات کے اہم ترین سیاسی عوامل میں شامل رہی۔ فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی اور تیل و پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے امریکی عوام کی معاشی مشکلات کو مزید بڑھایا۔ پیو ریسرچ کے مارچ 2026ء کے سروے میں 59 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے کو غلط قرار دیا تھا، جبکہ 61 فیصد نے جنگ سے نمٹنے کے ٹرمپ کے طریقہ کار سے عدم اطمینان ظاہر کیا۔ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیاں ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کا اہم حصہ تھیں، لیکن بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، ملک بدری اور ICE کی کارروائیوں نے امریکی معاشرے میں نئی بحث پیدا کی۔ لہٰذا نئی کانگریس کے سامنے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ سرحدی سلامتی اور انسانی حقوق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جائے۔ان انتخابات نے امریکہ کی داخلی تقسیم کی کئی شکلیں نمایاں کی ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ کے حامیوں کا قوم پرستانہ اور سخت امیگریشن پالیسیوں پر مبنی سیاسی حلقہ ہے، دوسری طرف شہری آزادیوں، جمہوری اداروں اور سماجی تنوع کے حامی ووٹرز ہیں۔ معاشی عدم مساوات، مہنگائی، نسلی شناخت، مذہبی نمائندگی اور خارجہ پالیسی پر اختلافات نے اس تقسیم کو مزید گہرا کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکی عوام نے یکساں طور پر ان کی جماعت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایککے سروے کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے بارے میں منفی رائے رکھنے والے ووٹرز کی تعداد بھی خاصی زیادہ ہے۔ امریکی جمہوریت کی اصل آزمائش اب شروع ہوگی۔ ایک منتخب صدر اور اس کی مخالف کانگریس کے درمیان اختیارات کی کشمکش، سیاسی تصادم اور ممکنہ قانون سازی کا تعطل بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی صورت حال امریکی آئینی نظام کے اس بنیادی اصول کو دوبارہ نمایاں کرتی ہے کہ اقتدار کسی ایک فرد یا جماعت کی مستقل ملکیت نہیں۔پاکستان امریکی سیاست میں ابھرنے والی تبدیلیوں پر نگاہ رکھے تو اسے کئی امور پر داخلی طور پر اصلاحات درکار ہو سکتی ہیں،امید ہے کہ پاکستانی قیادت ان تقاضوں کو احسن طور پر پورا کر لے گی۔جہاں تک سوال نتائج کا ہے تو امریکی انتخابات نے ووٹروں کی جمہوریت ، انسانی حقوق اور عالمی امن کی خوہش کو نمایاں کیا وہاں ایسی حکمرانی کی حمایت کی ہے جس میں جوابدہی کا نظام مستعد رہے۔صدر ٹرمپ سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم بھی اپنے ووٹروں کی حمایت کھو چکے ہیں۔ان دونوں نے اصول ، عالمی امن اور قانون کو فراموش کر کے تعصب اور ہٹ دھرمی سے ذاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جسے رائے عامہ نے مسترد کیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ ۹۲ نیوز

اداریہ ۹۲ نیوز

اداریہ ۹۲ نیوز اس مصنف کے پروفائل میں درج نام ہے۔ اس کی سوانح، قومیت اور درجہ بندی کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ ۹۲ نیوز. «امریکی عوام کا ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد.» اقبال فورم، 5 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54190.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ ۹۲ نیوز. (5 نومبر 2026). امریکی عوام کا ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اعتماد. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=54190

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔