مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

*20* *سالہ جنگ کا اختتام، عراق میں طاقت کا نیا توازن*

عراق سے امریکی فوج کے انخلا کو صرف امریکا کی واپسی یا ایران کی فتح کے مختصر نعروں کے بجائے طاقت کی پیچیدہ منتقلی کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ 2003ء…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

عراق میں طاقت کا نیا توازن

عراق سے امریکی فوج کا آخری فوجی اڈوں سے انخلا محض چند فوجی گاڑیوں، بیرکوں اور وردیوں کے ایک ملک سے نکل جانے کا نام نہیں، یہ مشرقِ وسطیٰ کی اس طویل داستان کا ایک ایسا باب ہے جسے اگر صرف ’’امریکا کی واپسی‘‘ یا ’’ایران کی فتح‘‘ کے دو مختصر جملوں میں سمیٹ دیا جائے تو تاریخ، سیاست اور طاقت کے پیچیدہ رشتوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ قبل جس سرزمین پر امریکا نے صدام حسین کی حکومت ختم کرنے، عراق کی سیاسی ساخت ازسرِنو ترتیب دینے اور خطے میں ایک نئے سیاسی نظام کی بنیاد رکھنے کے دعوے کے ساتھ قدم رکھا تھا، آج اسی عراق سے امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے کا منظر سامنے ہے اور اس پورے سفر کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ امریکی فوج چلی گئی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ امریکی مداخلت نے عراق کو آخر کس مقام پر پہنچایا اور اس انخلا کے بعد طاقت کا خلا کس طرح پُر ہوگا؟
2003ء میں امریکی قیادت میں عراق پر حملہ محض ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست کے اس تصور کا عملی اظہار تھا جس کے تحت ایک طاقتور ریاست اپنی عسکری قوت کے ذریعے کسی دوسرے ملک کے سیاسی مستقبل کی تشکیل کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہوا، بعث پارٹی کی گرفت ٹوٹی، سیاسی نظام تبدیل ہوا اور شیعہ اکثریت کی قیادت میں ایک نیا حکومتی بندوبست وجود میں آیا، مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ حکومت تبدیل کرنا ریاست کو مستحکم کرنے کے مترادف نہیں ہوتا۔ ایک آمرانہ نظام کے خاتمے کے بعد اگر ریاستی ادارے کمزور ہوں، سیاسی تقسیم گہری ہو، معاشرہ فرقہ وارانہ کشمکش میں مبتلا ہو اور بیرونی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے میدان میں موجود ہوں تو اقتدار کی تبدیلی استحکام کے بجائے ایک طویل عبوری بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ عراق کی گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ اسی پیچیدگی کی ایک نمایاں مثال ہے۔
امریکی افواج نے 2011ء کے اختتام پر عراق سے انخلا کیا، مگر تاریخ نے چند ہی برس بعد انہیں دوبارہ اسی سرزمین پر واپس آتے دیکھا۔ اس مرتبہ داعش کے خلاف جنگ نے امریکی واپسی کو ایک نئی قانونی، سیاسی اور عسکری بنیاد فراہم کی۔ 2014ء سے 2017ء کے دوران داعش کے خلاف لڑائی میں عراقی فورسز کو امریکی اور اتحادی تعاون حاصل رہا اور اس جنگ نے عراق کے داخلی سلامتی کے بحران کو ایک عالمی نوعیت کے انسدادِ دہشت گردی کے مسئلے میں تبدیل کردیا۔ یوں عراق میں امریکی موجودگی کا جواز صدام حسین کے خلاف جنگ سے داعش کے خلاف جنگ تک پہنچا، مگر ایک سوال بدستور اپنی جگہ قائم رہا کہ کیا بیرونی فوجی موجودگی کسی ملک میں مستقل سیاسی استحکام پیدا کرسکتی ہے یا وہ صرف ایک مخصوص خطرے کو وقتی طور پر قابو میں رکھ سکتی ہے؟
اب جب امریکی فوجی موجودگی اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہے تو عراق کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئی حقیقت نمایاں ہو رہی ہے: امریکا کی عسکری موجودگی کم ہوئی ہے مگر طاقت کی سیاست ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ بعض حوالوں سے طاقت کے اصل مراکز زیادہ واضح ہوگئے ہیں۔ ایران، جس نے عراق کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی، معاشی اور سیاسی سطح پر گہرے تعلقات برقرار رکھے ہیں، امریکی انخلا کے بعد اپنے اثرورسوخ کے لیے نسبتاً وسیع میدان دیکھ سکتا ہے۔ تاہم یہاں بھی ’’ایران کی مکمل فتح‘‘ کا نعرہ حقیقت کے تمام پہلوؤں کا احاطہ نہیں کرتا، کیونکہ عراق کوئی ایسا غیر فعال میدان نہیں جس پر صرف تہران یا واشنگٹن اپنی مرضی مسلط کرسکیں۔ عراقی ریاست، پارلیمان، سیاسی جماعتیں، مذہبی قیادت، سکیورٹی ادارے، عوامی رائے اور مختلف مسلح و سیاسی گروہ سب اپنی اپنی جگہ طاقت کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔
ایران نواز عراقی دھڑوں کی جانب سے امریکی انخلا کو تاریخی فتح قرار دینا ان کے سیاسی بیانیے کا حصہ ہے۔ ان کے نزدیک غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ قومی خودمختاری کی بحالی اور مزاحمت کی کامیابی ہے۔ دوسری طرف بعض عراقی سکیورٹی ماہرین کی تشویش یہ ہے کہ امریکی فوجی موجودگی کے خاتمے سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے لیے عراق میں اثرانداز ہونے کی گنجائش بڑھ سکتی ہے۔ دونوں زاویوں کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ ایک ہی واقعہ مختلف سیاسی قوتوں کے لیے مختلف معنی رکھتا ہے۔ کسی گروہ کے لیے یہ مزاحمت کی کامیابی ہوسکتی ہے، کسی دوسرے کے لیے طاقت کے توازن میں تبدیلی اور کسی تیسرے کے لیے عراق کی خودمختاری کے ایک نئے مرحلے کا آغاز۔
اصل سوال یہ ہے کہ عراق اپنی خودمختاری کو کس تعریف کے ساتھ دیکھتا ہے۔ کیا خودمختاری کا مطلب صرف غیر ملکی فوج کا انخلا ہے یا اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی ہے کہ ریاست کے اندر کوئی مسلح گروہ ریاستی اداروں سے بالاتر طاقت نہ بنے، قومی خارجہ پالیسی کسی بیرونی دارالحکومت کے اشارے پر نہ چلے، قومی وسائل اور معاشی فیصلے داخلی مفاد کے تابع ہوں اور سکیورٹی کا بنیادی اختیار ریاست کے پاس رہے؟ اگر خودمختاری کو صرف غیر ملکی فوج کے انخلا تک محدود کردیا جائے تو تصورِ خودمختاری ادھورا رہ جاتا ہے۔ حقیقی خودمختاری اس وقت معنی خیز بنتی ہے جب ریاست بیرونی دباؤ اور داخلی مسلح طاقت، دونوں کے مقابلے میں اپنے فیصلے خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
عراق کی موجودہ صورتحال میں ایک اور تاریخی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ امریکا نے اگرچہ عراق سے صدام حسین کا نظام ختم کردیا، لیکن اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا، فرقہ وارانہ کشیدگی، مسلح مزاحمت اور دہشت گردی کے سلسلے نے پورے خطے کے طاقت کے توازن کو متاثر کیا۔ ایران نے اسی بدلتے ہوئے ماحول میں عراق میں اپنے روابط اور اثرورسوخ کو وسعت دی۔ یوں 2003ء میں جس مداخلت کا ایک مقصد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثرورسوخ کو مضبوط کرنا تھا، وقت گزرنے کے ساتھ اسی مداخلت کے نتیجے میں عراق میں ایرانی اثرورسوخ کے لیے بھی نئی گنجائش پیدا ہوئی۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہی ہے کہ بین الاقوامی طاقتیں اکثر اپنے فوری مقاصد حاصل کرلیتی ہیں مگر ان مقاصد کے طویل المدتی نتائج ہمیشہ ان کے منصوبے کے مطابق نہیں نکلتے۔
امریکی جنگ میں ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور بھاری مالی و انسانی قیمت اس جنگ کی ایک اہم حقیقت ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں نے امریکی خارجہ پالیسی کے لیے بھی بنیادی سوالات پیدا کیے کہ بیرونِ ملک فوجی مداخلت کی حدود کیا ہونی چاہئیں، کسی حکومت کو گرانے کے بعد ریاست کی تعمیر کی ذمہ داری کہاں تک قبول کی جاسکتی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور طویل فوجی قبضے کے درمیان حدِ فاصل کہاں قائم ہوتی ہے۔ افغانستان سے 2021ء کا امریکی انخلا اور اب عراق میں فوجی موجودگی کے خاتمے کا عمل ایک ہی تاریخی سوال کے مختلف ابواب معلوم ہوتے ہیں: کیا فوجی طاقت کسی ملک میں مطلوبہ سیاسی حقیقت کو مستقل طور پر قائم کرسکتی ہے؟
دوسری جانب ایران کے لیے بھی عراق کوئی معمولی ہمسایہ ملک نہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل سرحد، مذہبی روابط، تجارت، توانائی، زیارت، سیاسی جماعتوں اور سکیورٹی کے معاملات نے عراق کو ایرانی علاقائی پالیسی کا اہم حصہ بنا رکھا ہے۔ امریکی موجودگی ایران کے لیے ایک مستقل تزویراتی دباؤ تھی، اس لیے امریکی انخلا تہران کے لیے اس لحاظ سے اہم ضرور ہے کہ اس کا ایک بڑا علاقائی حریف عراقی سرزمین پر اپنی سابقہ سطح کی فوجی موجودگی برقرار نہیں رکھ رہا۔ لیکن یہاں بھی یہ سمجھنا ضروری ہے کہ امریکی فوج کے نکل جانے کا مطلب عراق میں ایران کے لیے غیر محدود اختیار کا خودکار قیام نہیں۔ عراق میں عرب قومیت، مذہبی سیاست، داخلی سیاسی مفادات اور قومی خودمختاری کا احساس بھی طاقتور عوامل ہیں۔
اس تمام صورتِ حال میں عراق کے عوام کا سوال شاید سب سے اہم مگر اکثر سب سے کم زیرِ بحث رہتا ہے۔ ایک عام عراقی کے لیے یہ بحث صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان طاقت کا مقابلہ نہیں۔ اس کے لیے اصل سوال امن، روزگار، بجلی، پانی، تعلیم، صحت، محفوظ سڑکیں، مضبوط ادارے اور ایسا سیاسی نظام ہے جس میں ریاستی طاقت عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے استعمال ہو۔ اگر غیر ملکی فوجی انخلا کے بعد عراق زیادہ خودمختار تو ہوجائے لیکن داخلی سیاسی کشمکش، مسلح گروہوں کی طاقت یا بیرونی اثرورسوخ میں اضافہ عوامی زندگی کو مزید غیر یقینی بنادے تو صرف فوجی انخلا کو مکمل کامیابی کہنا بھی حقیقت کا نصف حصہ بیان کرنا ہوگا۔
اسی لیے عراق سے امریکی فوجی انخلا کو ’’فتح‘‘ اور ’’شکست‘‘ کی روایتی لغت سے نکال کر ’’طاقت کی منتقلی‘‘ کے تناظر میں دیکھنا زیادہ معنی خیز ہے۔ جنگوں میں کبھی کبھی فوج میدان سے چلی جاتی ہے مگر اس جنگ کے سیاسی، معاشی اور تزویراتی اثرات برسوں باقی رہتے ہیں۔ امریکا عراق سے فوجی طور پر نکل سکتا ہے، لیکن اس کا سفارتی، معاشی اور سیاسی اثر لازماً اسی دن ختم نہیں ہوجاتا۔ اسی طرح ایران کا اثرورسوخ بڑھ سکتا ہے، مگر اسے عراق پر مکمل اختیار قرار دینا بھی سیاسی حقیقت کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنانا ہوگا۔
عراق کی تاریخ نے ایک تلخ سبق ضرور دیا ہے کہ کسی ملک کی تقدیر بیرونی طاقتوں کے فوجی نقشوں سے مستقل طور پر نہیں لکھی جاسکتی۔ صدام حسین کا زوال، امریکی قبضہ، مزاحمت، امریکی انخلا، داعش کا عروج، دوبارہ امریکی واپسی اور اب ایک مرتبہ پھر امریکی فوجی موجودگی کا اختتام—یہ تمام واقعات ایک ہی سوال کے گرد گھومتے ہیں: عراق کب اپنے فیصلے خود کرے گا؟ شاید اس سوال کا جواب کسی ایک فوج کے انخلا میں نہیں بلکہ مضبوط عراقی ریاست کی تشکیل میں پوشیدہ ہے۔
امریکا کے لیے عراق کی داستان اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ عسکری طاقت کسی ملک میں داخل ہونے کا راستہ کھول سکتی ہے مگر تاریخ سے نکلنے کا راستہ ہمیشہ اتنا آسان نہیں ہوتا۔ ایران کے لیے یہ مرحلہ علاقائی اثرورسوخ کے اعتبار سے اہم ہوسکتا ہے، مگر بڑھتا ہوا اثرورسوخ ذمہ داری بھی پیدا کرتا ہے کہ عراق کو کسی پراکسی میدان میں تبدیل نہ ہونے دیا جائے۔ اور عراق کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طاقت کے شطرنجی تختے کے بجائے اپنی قومی ترجیحات کا خود مختار مرکز بنے۔ اگر امریکی انخلا کے بعد عراق اپنی ریاستی قوت، سیاسی اداروں اور قومی سلامتی کے فیصلوں کو مضبوط بنانے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ واقعہ محض امریکی فوج کے انخلا کی خبر نہیں رہے گا بلکہ عراقی ریاست کی ایک نئے دور میں منتقلی کی علامت بن سکتا ہے؛ لیکن اگر بیرونی طاقت کی جگہ داخلی مسلح قوتوں اور علاقائی مفادات کا غلبہ بڑھ گیا تو تاریخ صرف کھلاڑی بدلے جانے کو خودمختاری کی تکمیل قرار نہیں دے گی۔ اصل فتح اس دن ہوگی جب عراق میں فیصلے نہ واشنگٹن کے خوف سے ہوں، نہ تہران کی خواہش سے، بلکہ بغداد کی قومی ترجیحات، آئینی اداروں اور عراقی عوام کی مرضی سے ہوں۔

مصنف کے بارے میں

پروفیسر رائے غلام رسول فہیم کھرل

پروفیسر رائے غلام رسول فہیم کھرل

اقبال فورم پر پروفیسر رائے غلام رسول فہیم کھرل کی ایک تحریر شائع ہو چکی ہے، جن کا محور سیاست ہے۔

  • سیاست
پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

پروفیسر رائے غلام رسول فہیم کھرل. «*20* *سالہ جنگ کا اختتام، عراق میں طاقت کا نیا توازن*.» اقبال فورم، 3 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/20-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c/.

حوالہ دینے کے انداز

پروفیسر رائے غلام رسول فہیم کھرل. (3 اکتوبر 2026). *20* *سالہ جنگ کا اختتام، عراق میں طاقت کا نیا توازن*. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/20-%d8%b3%d8%a7%d9%84%db%81-%d8%ac%d9%86%da%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ae%d8%aa%d8%aa%d8%a7%d9%85%d8%8c-%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%b7%d8%a7%d9%82%d8%aa-%da%a9%d8%a7-%d9%86%db%8c/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔