آبنائے ہْرمز کی ممکنہ بحالی

آبنائے ہْرمز کی ممکنہ بحالی

ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے گزرنے کے راستے کی جغرافیائی حدود سے متعلق اومان کے ساتھ اتفاقِ رائے ہو گیا ہے جبکہ پاکستان اور قطر کے ساتھ بھی سفارتی مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایران اور اومان آبنائے ہْرمز میں بحری راستے پر متفق ہو چکے ہیں جبکہ دونوں ممالک مشترکہ اعلامیے کی تیاری کے آخری مرحلے میں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر ”کسی تیسرے فریق“ کی طرف سے مداخلت نہ ہوئی تو جلد اِس حوالے سے مشترکہ اعلان جاری کر دیا جائے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنے ہم منصبوں کے ساتھ پاکستان اور قطر کے ذریعے مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہے تاہم فی الحال ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی یا پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کے پاکستان یا قطر کے دورے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر سفارتی رابطے بدستور جاری رہیں گے۔ متفقہ انتظام کے تحت، آبنائے ہْرمز سے خلیج میں داخل ہونے والے تمام بحری جہاز شمالی کوریڈور یعنی ایرانی حدود سے جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرہ عرب کی طرف جانے والے جہاز ایران کی مشاورت سے جنوبی کوریڈور یعنی اومانی حدود سے گزریں گے۔ آئندہ دو ماہ تک بحری جہازوں سے کوئی ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی اور اِس معاہدے میں مزید توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان آبنائے ہْرمز میں جہاز رانی کے مستقبل کے انتظامات سے متعلق کوئی معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ اہم بحری گزرگاہ فوری طور پر دوبارہ کھل جائے گی تاہم اِس کے برعکس مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آبنائے ہْرمز جلد کھول دی جائے گی۔ امریکی میڈیا کے مطابق اِسی بنیاد پر امریکی وزارتِ خزانہ نے ”پاسدارانِ انقلاب“ سے وابستہ کئی اداروں سے پابندیاں ختم کر دی ہیں۔

طویل عرصے سے شدید کشیدگی، جنگوں اور معاشی عدم استحکام کا شکار مشرقِ وسطیٰ بالآخر سفارتی کامیابیوں کے ایک نئے باب میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ نامور امریکی نیوز ویب سائٹ ”ایگزیوس“ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور امریکی وزارتِ خزانہ کی طرف سے عائد پابندیوں میں نرمی کے اقدامات اِس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ تباہی کے بادل اب چھٹ رہے ہیں اور خطے میں اَمن، استحکام اور باہمی تعاون کی ایک نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں کی طویل اور پیچیدہ بات چیت کے بعد ممکنہ باضابطہ اعلان اِس بات کی علامت ہے کہ فریقین سفارت کاری کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اِس حوالے سے ہونے والی اِس نئی پیشرفت کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور جوہری مذاکرات کو دوبارہ فعال کرنے کے لئے بات چیت کا احیاء ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اومان اور ایران مذاکرات میں قطر،پاکستان اور سعودی عرب کے علاوہ امریکی سہولت کاری بھی شامل تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور اومانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے اِس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکہ بھی اِن معاملات میں آن بورڈ تھا۔ حالیہ سفارتکاری سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے تمام فریق اگر سنجیدگی سے بیٹھ کر بات چیت کریں تو مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

خطے میں تناؤ اگرچہ برقرار ہے، حوثی عسکری ترجمان نے بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں سعودی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اِس کے برعکس سعودی عرب کا ردِعمل انتہائی دانشمندانہ رہا ہے، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے زیرصدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں امریکہ اور ایران کی جنگ کا واحد اور حتمی حل مذاکرات ہی کو قرار دیا گیا۔ یہ رویہ اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ علاقائی طاقتیں اب جذباتی اشتعال انگیزی کے بجائے پائیدار اَمن کی ضرورت کو مقدم سمجھ رہی ہیں۔ سعودی کابینہ نے غزہ میں ہتھیاروں کے خاتمے اور اَمن معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مصر، قطر، ترکیے، امریکہ اور دیگر ثالثوں کے کردار کو سراہا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ معاملات میں بہتری آ رہی ہے۔ ممکنہ امریکہ ایران معاہدے کی خبر کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی آئی جس سے دنیا نے سُکھ کا سانس لیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال تاریخی موڑ پر آن کھڑی ہوئی ہے، گولہ بارود کی برسات اور سخت دھمکیوں کے بعد معاملات ایک بار پھر بات چیت اور رعایتوں کے تبادلے کے علاوہ معاشی اور تجارتی تحفظ کی کوششوں کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں اور اُمید پیدا ہونا شرو ع ہو گئی ہے کہ بند دروازے ایک بار پھر کھلنا شروع ہو جائیں گے۔ تمام فریق اگر اِسی سنجیدگی،لچک اور مثبت رویے پر قائم رہے تو جلد ہی امریکہ اور ایران کے درمیان مستقل معاہدہ ہو جائے گا۔

اس مضمون کے مصنفین

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔