اداریہ
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیںرات گئے امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کر دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی فوج نے اس جزیرے پر موجود دو ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا۔ ایک امریکی عہدے دار نے بھی اس کی تصدیق کی ہے کہ امریکی افواج نے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں کئی ایرانی اہلکار اور عام شہری شہید و زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے اپنے ردعمل میں کہا کہ اس امریکی حملے کا بھرپور جواب دیں گے۔ دوسری جانب امریکی حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب آبنائے ہرمز میں راکٹ داغنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس سلسلہ میں ایرانی وزیر دفاع بریگیڈئر جنرل سید مجید ابن الرضا کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کا عمل جاری رکھے گا۔ اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی باور کرایا کہ دنیا میں امن و استحکام قائم کرنا ہے تو یہ ہمارے خطے ہی سے ابھرے گا۔ ایران دھمکیوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنائی نے سوشل میڈیا پر جاری کئے گئے اپنے بیان میں خلیجی ممالک کے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حقیقی دشمن کو پہچانیں اور اس کا مقابلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اتحاد قائم کرتے ہوئے دشمنوں کے خلاف باہمی دفاع اور تعاون بڑھائیں۔ یہ امر واقع ہے کہ ایران کے آبنائے ہرمز میں واقع لارک جزیرے پر امریکی حملہ خطے میں جاری جنگ کو ایک بار پھر خطرناک موڑ پر لے آیا ہے۔ اس کا عندیہ اس امر سے بھی ملتا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فریقین کے مابین کشیدگی دوبارہ خطرناک سطح پر پہنچ رہی ہے۔ اس تناظر میں ایرانی قیادت کا یہ مؤقف قابلِ فہم ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حکمران امت مسلمہ کے دشمن ہیں اور خلیجی ممالک کو ان کے عزائم کو سمجھ کر ان کا مقابلہ کرنا چاہیے تاہم اس صورتحال کا آج یہی تقاضا ہے کہ خطے کے تمام ممالک جذباتی فیصلوں کے بجائے جنگ کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں بروئے کار لائیں۔ خلیج میں درحقیقت کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا دائرہ محدود رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ بالخصوص آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی اور تجارت کی انتہائی اہم گزرگاہ ہے جہاں کسی بڑے تصادم سے تیل کی ترسیل اور پہلے ہی دباؤ کا شکار معیشتوں کو سخت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ موجودہ جنگ نے پہلے ہی توانائی کی قیمتوں اور عالمی منڈیوں میں بے یقینی پیدا کر رکھی ہے چنانچہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بقول امریکہ جنگ کو طول دینے کی کوشش کر رہا ہے تو اس کا منطقی انجام دنیا کی تباہی کی صورت میں ہی سامنے آئے گا۔ اگرچہ واشنگٹن لارک جزیرے پر کارروائی کو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی مبینہ تیاری روکنے کی درست کارروائی قرار دے رہا ہے تاہم کسی بھی فوجی حملے کا جواب مزید حملے سے دے کر امن کو مزید خراب ہی کیا جائے گا۔ یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی جنگی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے ملک کے اندر سے بھی سخت مخالفت اور تنقید کا سامنا ہے اس لئے امریکی انتظامیہ کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جنگیں محض میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، ان کے اثرات معیشتوں، عوام، عالمی تجارت اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ اس تناظر میں اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں اور بالخصوص مسلم ممالک کو جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنا ہوگا کیونکہ دنیا مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل سمیت تمام فریقوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کی جانے والی جنگ کا انجام پورے خطے اور عالمی معیشت کی تباہی والا بھی ہو سکتا ہے اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ اسلحے کی زبان بند کرکے مذاکرات کی میز سجائی جائے اور اسلام آباد مفاہمتی یاد داشت کو پیشِ نظر رکھ کر دنیا کو ایک ایسی جنگ سے بچایا جائے جس کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب