طویل اور شدید مذاکرات کے بعد، ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔

طویل اور شدید مذاکرات کے بعد، ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر روکنے کا اعلان کیا ہے۔

 باقاعدہ دستخطوں کی تقریب جمعہ، 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔

 ہم ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انہوں نے اس تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم اس ثالثی کی کوششوں میں اپنے بھائیوں، یعنی دولتِ قطر کی عظیم قیادت کا بھی اس معاہدے کے حصول میں تعاون پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، میں مملکتِ سعودی عرب اور جمہوریہ ترکیہ کی دور اندیش قیادت کا بھی خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس سلسلے میں گرانقدر کردار ادا کیا۔

 اس معاہدے کے طے پانے کے ساتھ ہی، ثالثی کرنے والے ممالک اس ہفتے ملاقاتوں کے ایک سلسلے کا انعقاد کریں گے۔ معاہدے پر عمل درآمد سے پہلے ہونے والی یہ بحث تکنیکی بات چیت اور دستخطوں کی باقاعدہ تقریب کے لیے بنیاد فراہم کرے گی۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ حتمی ہو گیا ہے۔ سب کو مبارک ہو! میں اس کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹیکس/محصول (ڈیوٹی) کے مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی اجازت دیتا ہوں، اور ساتھ ہی ریاستہائے متحدہ (امریکہ) کے بحری محاصرے کو فوری طور پر ختم کرنے کا حکم جاری کرتا ہوں۔   امن کے جہازو، اپنے انجن اسٹارٹ کرو۔ تیل کو بہنے دو! — صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔