ٹرمپ کی ایسی جنگ جس سے نکلنا مشکل!

ٹرمپ کی ایسی جنگ جس سے نکلنا مشکل!

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک ایسی جنگ کی شکل اختیار کر چکی ہے جس نے واشنگٹن کو ایک مشکل ترین سیاسی اور عسکری امتحان میں ڈال دیا ہے۔ جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا تھا تو اسے ایک محدود اور فیصلہ کن مہم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا خیال تھا کہ چند طاقتور حملوں کے ذریعے ایران کو دباؤ میں لایا جا سکے گا، اس کے جوہری پروگرام کو روکا جا سکے گا اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے گا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ یہ تنازعہ ایک مختصر کارروائی کے بجائے ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود امریکہ اپنے بنیادی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں کر سکا۔ ایران کی سیاسی قیادت اب بھی قائم ہے، اس کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں اور خطے میں اس کے اتحادی گروہ بدستور فعال ہیں۔ دوسری طرف ایران نے بھی یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جواب دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ امریکی فوجی اڈوں، اتحادی ممالک اور خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات نے واشنگٹن کے لیے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی حکومت کے لیے یہ صورتحال اس لیے بھی مشکل ہے کیونکہ جنگ کے اثرات اب صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے بلکہ امریکی عوام تک پہنچنے لگے ہیں۔ اگر ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا سیاسی نقصان براہِ راست حکومت کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ عام طور پر جنگوں میں عوامی حمایت اس وقت تک قائم رہتی ہے جب تک اس کے اخراجات روزمرہ زندگی پر واضح اثر نہ ڈالیں، لیکن ایران کے معاملے میں معاشی دباؤ ایک اہم سیاسی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے بنیادی طور پر دو راستے موجود ہیں۔ پہلا راستہ یہ ہے کہ فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جائیں اور ایران پر زیادہ دباؤ ڈالا جائے۔ تاہم اس حکمتِ عملی میں خطرہ یہ ہے کہ جنگ مزید پھیل سکتی ہے۔ ایران کے پاس خطے میں کئی اتحادی گروہ موجود ہیں جو امریکی مفادات اور اتحادی ممالک کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اگر تنازعہ عراق، یمن، لبنان یا خلیجی ممالک تک مزید پھیلتا ہے تو اسے محدود رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔ دوسرا راستہ مذاکرات کا ہے۔ سفارتی حل ہمیشہ جنگ کے مقابلے میں کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس کے لیے دونوں فریقوں کو سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں۔ امریکہ کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ مذاکرات میں ایران کو کچھ رعایتیں دینا سیاسی طور پر کمزوری کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب ٹرمپ انتظامیہ نے سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔ دوسری طرف ایران بھی اپنی علاقائی پوزیشن اور سلامتی کے معاملات پر آسانی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔رپورٹس کے مطابق عمان کی ثالثی میں ایک عبوری سمجھوتے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ کم از کم آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو معمول پر لایا جا سکے۔ عمان ماضی میں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تاہم کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے بنیادی مطالبات کو کس حد تک قبول کرتے ہیں۔ امریکہ کے اندر بھی ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ کچھ حلقے سمجھتے ہیں کہ ایران کو دباؤ میں رکھنے کے لیے سخت فوجی اقدامات ضروری ہیں، جبکہ دوسرے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایک طویل جنگ امریکہ کے لیے افغانستان اور عراق جیسی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ امریکی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں جہاں ابتدائی فوجی کامیابی کے باوجود طویل مدتی سیاسی اہداف حاصل کرنا مشکل ثابت ہوا۔ ایران نے بھی خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے مزید بڑے حملے کیے تو وہ خطے میں امریکی اتحادیوں کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان دھمکیوں نے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ یہ ممالک ایک طرف امریکہ کے ساتھ سکیورٹی تعلقات رکھتے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ نہیں چاہتے کہ خطہ ایک ایسی جنگ کا میدان بن جائے جو ان کی معیشت اور استحکام کو نقصان پہنچائے۔ سعودی عرب کے لیے صورتحال خاص طور پر حساس ہے۔ وہ پہلے ہی یمن کے حوثی گروہ کے ساتھ طویل تنازعے کا سامنا کر چکا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی مقابلہ کئی برسوں سے جاری ہے، لیکن حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ موجودہ جنگ نے اس توازن کو دوبارہ خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ایران کے خلاف امریکی جنگ کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے کہ اس کا واضح اختتام نظر نہیں آ رہا۔ جنگ شروع کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اسے اپنے مطلوبہ نتائج کے ساتھ ختم کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ کس طرح اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسی حکمتِ عملی اختیار کرے جو امریکہ کو ایک طویل اور مہنگی جنگ سے نکال سکے۔ اگر فوجی راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں مزید تباہی، معاشی نقصان اور علاقائی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ اگر مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو سیاسی مخالفین اسے کمزوری قرار دے سکتے ہیں۔ یہی وہ مشکل صورتحال ہے جس نے ایران کے خلاف جنگ کو امریکی قیادت کے لیے ایک بڑے امتحان میں تبدیل کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس خطے میں شروع ہونے والے تنازعات اکثر اپنی ابتدائی حدود سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان موجودہ کشیدگی بھی اسی خطرے کا شکار ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو یہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور امن کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔