ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت کے شرحِ مبادلہ (کرنسی ریٹ) اور افراطِ زر پر اثرات؛ معاشی ترقی کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچے گا
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
دنیائے اقتصاد (دنیای اقتصاد):
ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی مفاہمت کے حتمی ہونے کی صورت میں، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا تیل کی برآمدات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
یہ توقع کی جا رہی ہے کہ کرنسی کی سٹہ بازی (speculative demand) میں کمی آئے گی اور ڈالر کی قیمت 1 لاکھ 50 ہزار سے 1 لاکھ 80… ہزار تومان کے درمیان نسبتاً مستحکم ہو جائے گی۔
نقطہ بہ نقطہ (point-to-point) افراطِ زر (مہنگائی) اب بھی 80 فیصد سے اوپر رہے گی، لیکن اس کے بڑھتے ہوئے رجحان کو بریک لگ جائے گی۔
معاشی ترقی (اقتصادی نمو)، جسے بعض بین الاقوامی اداروں نے منفی 6 سے منفی 10 فیصد تک گرنے کی پیشگوئی کی ہے، اس خوش آئند منظر نامے میں بہتر ہو کر تقریباً منفی 4 فیصد تک آ جائے گی۔
تاہم، معاہدے کے پائیدار اثرات کا دارومدار ساختی اصلاحات (structural reforms)، زرِ گردش (لیکویڈیٹی) کے کنٹرول اور تناؤ میں مسلسل کمی لانے پر ہے
اس مضمون کے مصنفین