مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
سعودی عرب نے اس بحران میں ایک محتاط، متوازن اورسفارتی رویہ اپنایاجبکہ امارات کبھی خاموشی اورکبھی متضاد بیانات کے ذریعے ایک غیرواضح پالیسی کامظاہرہ کرتارہا۔سعودی عرب نے نہ ایران کے خلاف کھل کرمحاذآرائی کی اورنہ ہی اسرائیل کے ساتھ کھل کرصف بندی کی۔اس کے برعکس امارات کی پالیسی زیادہ متحرک مگرغیرواضح رہی کبھی خاموشی، کبھی تردید، اور کبھی غیر اعلانیہ تعاون۔یہی فرق دونوں ممالک کی علاقائی حیثیت کوبھی مختلف اندازمیں متعین کرتاہے۔یہی فرق دونوں ممالک کی علاقائی حیثیت کوبھی مختلف انداز میں متعین کرتاہے۔
نیتن یاہوکے ممکنہ دورے کومحض ایک سفارتی ملاقات سمجھناسادہ لوحی ہوگی۔یہ ممکنہ دورہ دراصل ایک سیاسی ضرورت اورایک جنگی حکمت عملی کاحصہ بھی ہوسکتاہے،جس کے ذریعے اسرائیل ایسے اتحادیوں کو مضبوط کرناچاہتاہے جوایران کے خلاف اس کی پوزیشن کوتقویت دیں۔داخلی دبااور جنگی حکمت عملی نے انہیں ایسے اتحادیوں کی تلاش پرمجبورکیاجواس جنگ کوجاری رکھنے میں مددگار ثابت ہوں۔امارات،اپنی معاشی طاقت اور جغرافیائی اہمیت کے باعث،اس مقصد کے لئے جہاں ایک ایک موزوں اوراہم شراکت داربن سکتاہے وہاں جغرافیائی لحاظ سے تزویراتی مقام بھی ہے۔
ایران نے امارات ک بطورہدف منتخب کرکے دراصل ایک واضح پیغام دیاکہ اسرائیل کے قریب آنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔میزائلوں اور ڈرونز کی بارش اس حکمت عملی کاعملی اظہارتھی۔551 بیلسٹک میزائل، 29 کروز میزائل اور2000 سے زائد ڈرون حملے محض اعداد نہیں بلکہ ایک منظم عسکری حکمت عملی کااظہار ہیں،جس کامقصد امارات کودبا ؤمیں لاناتھا۔بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امارات کی جانب سے ایران پرخفیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب صرف اعلانیہ نہیں رہی بلکہ سایوں میں بھی لڑی جا رہی ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق امارات نے بھی ایران کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیں،مگران کااعتراف نہیں کیا۔یہ جدید جنگ کاوہ رخ ہے جہاں اعلان سے زیادہ انکاراہم ہوتاہے اور کارروائی سے زیادہ اس کی تردید۔
ٹرمپ کی ایران مخالف پالیسیوں نے امارات کوامریکاکے مزیدقریب کردیا۔چارکھرب ڈالرکی سرمایہ کاری کاوعدہ محض اقتصادی اقدام نہیں بلکہ ایک سیاسی وعسکری وابستگی کااظہار تھا،جس نے امارات کوایک واضح کیمپ میں لاکھڑاکیا۔ گویا سرمایہ کاری اوردفاعی تعاون کے ذریعے امارات نے اپنی سلامتی کوامریکی حمایت سے جوڑلیا، جو اسے ایران کے مزید قریب لانے کے بجائے دورلے گیا۔
ابو موسی،تنبِ بزرگ اورتنبِ کوچک کے جزائر کاتنازعہ اس کشیدگی کی بنیادہے جوایران اور امارات کے تعلقات میں ایک مستقل کانٹے کی حیثیت رکھتاہے۔یہ محض زمین کاٹکڑا نہیں بلکہ خودمختاری، وقار اور تاریخ کامسئلہ ہے،جوآج بھی دونوں ممالک کے تعلقات کومتاثر کررہاہے بلکہ یہ مسئلہ نہیں بلکہ خودمختاری، وقار اورتاریخی حق کاسوال بن چکاہے اوریہی وہ بنیادہے جس پرموجودہ کشیدگی کی عمارت کھڑی ہے۔
ایران کے اسلامی انقلاب نے محض ایک سیاسی نظام کوتبدیل نہیں کیابلکہ اس نے پورے خطے کے فکری توازن کوجھنجھوڑکررکھ دیا۔ یہ انقلاب ایک ایسے نظریے کاحامل تھاجو بادشاہتوں کے لئے ایک خاموش مگر گہرا چیلنج بن گیا۔متحدہ عرب امارات، جوخودایک موروثی نظمِ اقتدارکانمائندہ ہے،ایران کی اس انقلابی فکرکومحض ایک داخلی تبدیلی نہیں بلکہ ایک برآمدی نظریہ سمجھتاہے۔حزب اللہ،حماس اور حوثیوں جیسے گروہوں کی حمایت نے اس خدشے کو مزید تقویت دی کہ ایران اپنے اثرورسوخ کو سرحدوں سے ماوراپھیلانا چاہتاہے ۔ یوں امارات کی نگاہ میں ایران ایک ہمسایہ ملک سے بڑھ کرایک نظریاتی حریف بن گیاایساحریف جونہ صرف جغرافیہ بلکہ ذہنوں پربھی قبضہ جماناچاہتاہے۔
شیعہ سنی تقسیم اوراس کے گردگھومتی سیاست نے خطے میں بداعتمادی کوجنم دیا،جوآج بھی مختلف شکلوں میں موجودہے۔خطہ کی سیاست میں فرقہ واریت ایک ایسا زیرزمین نفرت کا دریاہے جو بظاہر خاموش رہتاہے مگر وقت آنے پرطغیانی اختیارکرلیتاہے۔ شیعہ سنی تقسیم،جسے بیرونی قوتوں نے بھی اپنے مفادات کے لئے ہوا دی، خطے میں بداعتمادی کی ایک مستقل فضاء پیداکرچکی ہے۔ بحرین،عراق اور دیگرخطوں میں اس تقسیم نے سیاسی کشمکش کوجنم دیا،جس کے اثرات امارات کی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوئے۔امارات کے لئے یہ صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ سلامتی کاسوال بن گیاکہ کہیں داخلی استحکام بیرونی اثرات سے متزلزل نہ ہوجائے۔
بین الاقوامی تعلقات میں نظریات سے زیادہ مفادات اہم ہوتے ہیں اورعالمی سیاست میں نظریات اکثرمفادات کے آگے سرنگوں ہو جاتے ہیں۔امارات کی پالیسی اسی عملیت پسندی کی عکاس ہے،جہاں بقاء اور ترقی کواولین ترجیح دی جاتی ہے۔امارات اور سعودی عرب دونوں نے اپنی بقا کے لئے مختلف حکمت عملیاں اختیارکیں،مگر امارات نے زیادہ جرأت مندانہ راستہ چنا۔ اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون،جدید ٹیکنالوجی کاحصول اور امریکا کے ساتھ قریبی تعلقات،یہ اس بات کی علامت ہیں کہ امارات نے جذبات کے بجائے مفاد کواپنارہنمااصول بنایاہے۔یہ وہی فلسفہ ہیجسے تاریخ نے بارہا دہرایاہے کہ ریاستیں دوست یادشمن نہیں رکھتیں،بلکہ صرف مفادات رکھتی ہیں۔
ابراہم اکارڈ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک نئی سفارتی فکر کا مظہر ہے، جس نے عرب دنیا کے روایتی بیانیے کو چیلنج کیا۔ اس معاہدہ کے بعد امارات اور اسرائیل کے تعلقات نے غیر معمولی رفتار پکڑی، جس نے خطے میں طاقت کے توازن کو بدل دیا۔
اس مضمون کے مصنفین