دنیا جنگ کی لپیٹ میں

دنیا جنگ کی لپیٹ میں

موجودہ عالمی صورت حال کشیدہ اور انتہائی پیچیدہ ہے جس سے مسائل بڑھ رہے ہیں- تجارت متاثر ہو رہی ہے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں- جس سے دنیا پر معاشی دباؤ بڑھ رہا ہے اور وہ بہت زیادہ خسارے اور نقصان میں ہے- آبنائے ہرمز بند ہونبے سے تیل لے جانے والے کارگو جہازوں کی آمدورفت بھی رکی ہوئی ہے- دیگر کارگو جہازوں کی نقل و حمل بھی معطل ہے-
پاکستان نے خلیجی جنگ رکوانے کے لیے حد سے زیادہ کوشش کی- کافی حد تک کامیابی بھی ملی- امن مذاکرات کے لیے ایران اور امریکہ سے اعلیٰ سطح کے وفود پاکستان آئے- جس کی میزبانی میں ’’مذاکرات‘‘ کے دو دور ہوئے- تاہم سخت شرائط کے باعث ’’مذاکرات‘‘ کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے- پاکستان نے پھر بھی امید نہ چھوڑی کیونکہ وہ سمجھتا ہے جنگ مسائل کا حل نہیں- بات چیت سے ہی امن کے راستے نکلتے ہیں- دنیا میں امن کا قائم ہونا خوش بختی کی علامت ہے-
صدر ٹرمپ اگرچہ امن کی بات کرتے ہیں- امن کے بہت بڑے داعی بھی ہیں- لیکن امن کبھی دعوؤں سے نہیں آتا- اس کے لیے عملی اقدامات کرنے پڑتے ہیں- خراب صورت حال ہو، تو اس صورت حال کو سنبھالنا پڑتا ہے- ٹرمپ سے یہ سب نہیں ہو سکا- اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر نائب صدر جے ڈی وینس کے دستخط ہونے کے باوجود ٹرمپ نے ایسی گفتگو جاری رکھی جس کا نقصان ہوا تو صرف امن کو ہوا-
ٹرمپ نے کافی بار بیان دیا کہ امریکہ نے ایران کو برباد کر دیا- نیوکلیئر پلانٹ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا- بحری فوجی قوت ختم کر دی- ایران اب لڑنے کے قابل نہیں رہا- سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو پیغام دیتے رہے کہ امریکہ ایک سپر پاور ہے اْس سے ٹکر لینا آسان نہیں ، جو ایسی کوشش کرے گا، برباد کر دیا جائے گا-
امریکہ کو زعم تھا کہ ایران کو صرف دو، تین دن میں ختم کر دے گا، اْس کا نام و نشان تک مٹا دے گا لیکن ٹرمپ کا یہ ’’زعم‘‘ ہی رہا- اگرچہ امریکہ جارحیت کر رہا تھا اور ایران اپنا دفاع- اسرائیل بھی اس ’’جارحیت‘‘ کا شریک کار تھا- ایران پر حملے ہو رہے تھے- ٹیکنالوجی کی بدولت تمام ایرانی اہداف امریکہ اور اسرائیل کے نشانے پر تھے- لیکن پاسداران انقلاب، ایرانی قوم اور قیادت نے دنیا کو بتا دیا کہ کم حربی طاقت کے باوجود وہ بہادری سے امریکہ کا مقابلہ کر سکتے ہیں- ایران نے جنگی محاذ پر واقعی امریکہ اور اسرائیل کے چھکے چھڑا دئیے- دنیا کو بھی اپنی دلیری سے حیران کیا- جدید ٹیکنالوجی اور زیادہ حربی قوت کے باوجود امریکہ اور اسرائیل ہزیمت زدہ نظر آئے-
ایرانیوں نے ہمت و بہادری کی ایک داستان رقم کی- ایسی داستان جو دہائیوں پڑھی اور سنی جاتی رہے گی- لیکن حالات آج پھر دگرگوں ہیں- امریکی فوج ایران پر حملے کر رہی ہے- جواب میں ایران بھی حملے کر رہا ہے- تاہم ایران کا اہداف عرب ممالک میں موجود امریکہ کے فوجی اڈے اور حساس تنصیبات ہیں- ایرانی میزائل اور ڈرون ان پر حملے کرتے ہیں تو دنیا کو بتاتے ہیں کہ ایرانی قوم کسی بھی صورت جھکنے اور دبنے والی نہیں-
ٹرمپ کو بھی ادراک ہو چکا ہے کہ اْس کا پالا ایک سخت جان قوم سے پڑا ہے- مطلب یہ ہوا کہ ایران سے لڑنے کا مطلب مصیبت کو دعوت دینا ہے- اگرچہ بعض ٹویٹس سے پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ خود اس جنگ سے جان چھڑانا چاہتے ہیں- تاہم یہ بھرم رکھنے کے لیے کہ امریکہ ایران پر حاوی رہا- یہ سب کچھ کہنے پر مجبور ہیں- عالمی مبصرین کا خیال ہے، بادی النظر میں امریکہ یہ جنگ ہار چکا ہے – نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے مضامین بھی نشاندہی کر رہے ہیں کہ خلیجی جنگ میں ایران کو سبقت حاصل رہی-تاہم امریکہ کی خواہش ہے کہ ایران اپنی شکست تسلیم کرلے تو وہ جنگ ختم کرنے کو تیار ہے- لیکن دنیا کے منظرنامے پر جو نظر آتا ہے اْسے دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ٹرمپ کی بات میں وزن نہیں- وہ ہلکی بات کر رہے ہیں-
جہاں تک آبنائے ہرمز کا تعلق ہے اْس پر کسی کی بھی اجارہ داری نہیں ہونی چاہیے—یہ عالمی تجارتی آبی گزرگاہ ہے- جنگ سے پہلے اس کا جو سٹیٹس تھا ، اْسے برقرار رہنا چاہیے-
سعودی عرب اور عراق کے مابین بھی ماضی کے کچھ مسائل کو لے کر کافی گرما گرمی پیدا ہوئی ہے- 1990ء کی دہائی میں عراق اور 34 ممالک کے اتحادی لشکر کے مابین ایک جنگ لڑی گئی- یہ جنگ عراق کے کویت پر حملے کے بعد شروع ہوئی- اس اتحادی لشکر کی قیادت امریکہ کر رہا تھا- جبکہ دیگر 34 ممالک اس اتحاد کا حصہ تھے- کہا جاتا ہے عراق کے کویت پر حملے، تیل کے نرخوں اور تیل کے پیداواری تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ردعمل کے جواب میں یہ جنگ لڑی گئی – اب پھر عراق کے ساتھ نئی جنگ کا آغاز ہے- وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ عراق میں ایسے مسلح ایرانی گروہ موجود ہیں جو خلیجی ممالک کے لیے خطرہ ہیں- اْن کی سرکوبی کے لیے سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ مل کر عراق کے اندر فضائی کارروائی کی ہے- دونوں ممالک کی فضائیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ٹارگٹڈ اہداف پر حملے کئے- جس میں کافی ایرانی شہری ہلاک ہو گئے- بی بی سی کے مطابق اس کارروائی میں پاسداران انقلاب کے چار کارکنوں کی بھی ہلاکت ہوئی- کارروائی کا ہدف عراق کا صوبہ ’’دیالہ‘‘ تھا- اے ایف پی کے ایک جرنلسٹ کے مطابق بغداد میں اس نے جنازہ کے وقت کچھ تابوتوں کو ایرانی پرچم میں لپٹے دیکھا-
دنیا میں جو ہو رہا ہے؟ دکھ اور کرب کی بات ہے- ایسے موقع پر، جب ہر طرف تباہی کے آثار ہیں، جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں- اقوام متحدہ کی خاموشی بہت بڑا سوالیہ نشان ہے- انسانی حقوق سے متعلق اس کا منشور ایک آفاقی منشور ہے جو تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے- انسان کے بنیادی حقوق اور آزادی کا بھی احاطہ کرتا ہے- اسے ہمیشہ امن کا پرچار کرتے دیکھا اور سنا ہے- دنیا کو اس وقت، جو حالات درپیش ہیں، اْسے جس جنگی صورت حال کا سامنا ہے- اْس تناظر میں اقوام متحدہ کا ہمیں کوئی رول نظر نہیں آتا- بادی النظر میں یہی لگتا ہے کہ اقوام متحدہ ایک بے اختیار اور محدود وسعت والا ادارہ بن چکا ہے- امریکہ، اسرائیل نے حالیہ دنوں اور مہینوں میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی جس طرح دھجیاں اڑائیں، حکم عدولی کی، اْس کی کہیں مثال نہیں ملتی- میری نظر میں اقوام متحدہ اب ایک لاحاصل ادارہ بن چکا ہے جس سے خیر کی کوئی توقع نہیں-
دنیا جس تیزی سے جنگ اور بے امنی کی طرف بڑھ رہی ہے- وہ دنیا کے لیے بڑے خوف کی علامت ہے- اندیشہ ہے اس صورت حال کا ادراک نہ کیا گیا ، پھیلتی ہوئی جنگ کو نہ روکا گیا تو دنیا پر اس کے بہت بْرے اثرات ہوں گے – عالمی نقشہ اس تناظر میں بدلتا ہوا محسوس ہو تا ہے-

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔