مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
عالمی سیاست میں بعض معاہدے صرف کاغذ پر دستخط نہیں ہوتے، وہ طاقت کے بدلتے ہوئے نقشے پر نئی لکیریں کھینچتے ہیں۔ مکہ میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی ایسی ہی پیش رفت دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر یہ تین ممالک کے درمیان ایک دفاعی سمجھوتہ ہے، لیکن اس کے مضمرات اس سے کہیں وسیع ہیں۔ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطی، جنوبی ایشیا اور وسیع تر مسلم دنیا میں سلامتی کے روایتی تصورات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور عالمی طاقتوں پر انحصار کے ساتھ ساتھ علاقائی طاقتیں بھی اپنے تحفظ اور مفادات کے لیے نئے راستے تلاش کر رہی ہیں۔معاہدے کی بنیادی روح یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔ تاہم اس شق کو کسی خودکار جنگی ضمانت کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کا بنیادی مقصد جارحیت کی حوصلہ شکنی، اجتماعی بازداریت کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ حملہ آور کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایک ملک کے خلاف کارروائی کے اثرات ایک وسیع تر تزویراتی ردعمل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ ترکیہ کی جانب سے اس فریم ورک کو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے تکنیکی طور پر مشابہ قرار دیا گیا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک، بشمول ایران، کے خلاف نہیں ہے۔یہی نکتہ اس معاہدے کی اصل نوعیت کو سمجھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔پاکستان کے لیے اس شراکت داری کی اہمیت محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں۔ یہ اسلام آباد کو ایک ایسے ابھرتے ہوئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک کے مرکز میں لا رہی ہے جس کے تینوں ستون اپنی اپنی منفرد طاقت رکھتے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس مالی وسائل، توانائی کی طاقت اور مسلم دنیا میں غیر معمولی سیاسی اثر و رسوخ ہے۔ ترکیہ دفاعی ٹیکنالوجی، صنعتی صلاحیت اور جدید فوجی استعداد کے اعتبار سے تیزی سے ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس طویل فوجی تجربہ، ایک مثر دفاعی نظام، خطے کی پیچیدہ سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کا تجربہ اور قابلِ ذکر تزویراتی بازداریت موجود ہے۔اگر ان تینوں صلاحیتوں کو ایک مربوط حکمتِ عملی میں ڈھال دیا جائے تو یہ شراکت داری محض دفاعی اتحاد نہیں رہے گی بلکہ وسیع تر تزویراتی طاقت بن سکتی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بناتے ہوئے اسلام آباد کو تہران کے ساتھ اپنے تاریخی، جغرافیائی اور تزویراتی تعلقات کو بھی متوازن رکھنا ہوگا، پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام نہ صرف دوطرفہ ضرورت بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔اس لیے مکہ معاہدے کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہوگا کہ آیا یہ علاقائی استحکام کا پلیٹ فارم بنتا ہے یا مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود تقسیم کو مزید گہرا کرنے والا ایک نیا بلاک۔اگر مستقبل میں ایران، مصر، قطر یا دیگر اہم مسلم ممالک بھی کسی نہ کسی شکل میں اس وسیع تر سکیورٹی فریم ورک سے وابستہ ہوتے ہیں تو صورتحال مزید دلچسپ ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں موجودہ تین ملکی معاہدہ ایک وسیع علاقائی سکیورٹی architecture کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں مختلف ممالک اپنی اپنی دفاعی، معاشی اور سفارتی صلاحیتوں کے ساتھ کردار ادا کریں۔لیکن یہاں ایک بنیادی اصول کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: علاقائی طاقت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنی عسکری قوت ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس قوت کو امن میں کس حد تک تبدیل کر سکتی ہے۔افغانستان بھی اس بدلتے ہوئے منظرنامے سے متاثر ہوگا۔ ایک زیادہ مضبوط اور علاقائی طور پر مثر پاکستان کابل کے ساتھ تجارت، رابطہ کاری اور سکیورٹی کے معاملات میں زیادہ وزن رکھ سکتا ہے۔ افغانستان کے لیے بہتر راستہ یہ ہوگا کہ وہ علاقائی کشمکش کا میدان بننے کے بجائے علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کا پل بنے۔ پاکستان کے مغربی راستے، خصوصا گوادر، خلیج کو افغانستان، وسطی ایشیا اور اس سے آگے جنوبی و وسطی ایشیائی منڈیوں سے جوڑنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہی وہ مقام ہے جہاں دفاع اور معیشت ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔اگر پاکستان اپنی نئی تزویراتی اہمیت کو معاشی مواقع میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو مکہ معاہدہ ملک کے لیے بہت بڑے معاشی دروازے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سکیورٹی شراکت داری مشرق وسطی کے طاقت کے توازن میں ایک نیا عنصر شامل کرتی ہے۔ اگر مستقبل میں مزید بڑی مسلم ریاستیں اس فریم ورک سے وابستہ ہوتی ہیں تو خطے کی تزویراتی حرکیات مزید تبدیل ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس شراکت داری کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے محاذ آرائی کے بجائے علاقائی استحکام کے لیے کس حد تک استعمال کیا جاتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی یہ تعاون پاکستان کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ، جدید دفاعی ٹیکنالوجی، تربیت، نگرانی اور مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف علاقائی تعاون کو زیادہ مثر بنا سکتا ہے۔ لیکن اس تعاون کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب اس کا مرکز مشترکہ سلامتی ہو، کسی مخصوص ملک یا گروہ کے خلاف محاذ آرائی نہیں۔اس تمام منظرنامے کا ایک داخلی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا بڑھتا ہوا علاقائی سکیورٹی کردار تزویراتی فیصلہ سازی میں دفاعی اداروں کے کردار کو مزید مضبوط کر سکتا ہے۔ دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، تزویراتی سرمایہ کاری اور حساس قومی اثاثوں سے متعلق پالیسیوں میں پیش رفت کے ساتھ ریاستی سکیورٹی اداروں کا اثر و رسوخ بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔لیکن پاکستان کی پائیدار طاقت کا انحصار صرف مضبوط دفاع پر نہیں۔ مضبوط معیشت، مستحکم سول ادارے، مثر سفارت کاری، قانون کی حکمرانی اور قومی اتفاقِ رائے بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔یہاں اسلام آباد کے سامنے اصل چیلنج واضح ہے: سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ شراکت داری کو نئی بلندیوں تک پہنچانا، ایران کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا، بھارت کے ساتھ کشیدگی کو قابو میں رکھنا، افغانستان میں استحکام کی کوشش کرنا اور ساتھ ہی اپنی معاشی بنیاد کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ آسان توازن نہیںلیکن تاریخ میں بڑے مواقع ہمیشہ بڑے چیلنجز کے ساتھ آتے ہیں۔مکہ معاہدہ پاکستان کے لیے صرف دفاعی دستاویز نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ایک ایسے وسیع تر وژن کا نقط آغاز بننا چاہیے جس میں دفاعی تعاون کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، توانائی، تعلیم، صنعتی پیداوار اور علاقائی رابطہ کاری بھی شامل ہو۔سعودی عرب اگر سرمایہ فراہم کرتا ہے، ترکیہ ٹیکنالوجی اور صنعتی تجربہ فراہم کرتا ہے اور پاکستان اپنی دفاعی صلاحیت، افرادی قوت، جغرافیائی محل وقوع اور مارکیٹ پیش کرتا ہے تو تینوں ممالک ایک ایسا تعاون تشکیل دے سکتے ہیں جو صرف فوجی طاقت نہیں بلکہ معاشی طاقت بھی پیدا کرے بالآخر پاکستان کے لیے سوال یہ نہیں کہ مکہ معاہدہ اسے کتنا طاقتور بناتا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت سے کتنا فائدہ اٹھاتا ہے۔اگر اسلام آباد اس موقع کو دوراندیش سفارت کاری، مضبوط معیشت، علاقائی رابطہ کاری اور متوازن خارجہ پالیسی کے ساتھ جوڑنے میں کامیاب ہو گیا تو مکہ معاہدہ صرف ایک نئے دفاعی بندوبست کی علامت نہیں رہے گا، بلکہ پاکستان کے ایک زیادہ موثر، بااعتماد اور معاشی طور پر مضبوط علاقائی کردار کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس مضمون کے مصنفین