مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

جنگ کہیں بھی ہو، قیمت ہم بھی دیتے ہیں (قسط اول)

آبنائے ہرمز اور باب المندب کی جغرافیائی اہمیت عالمی تجارت کے لیے انتہائی حساس ہے اور ایران و امریکہ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی سے اگر یہ راستے غیر محفوظ ہوتے ہیں تو…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

دنیا کے نقشے پر بعض مقامات اتنے چھوٹے ہیں کہ انگلی رکھیں تو چھپ جائیں، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی کبھی پوری دنیا کی معیشت انہی چند میل پانی میں پھنس جاتی ہے آبنائے ہرمز ایسا ہی ایک مقام ہے، باب المندب دوسرا۔
آج مسئلہ یہ ہے کہ خطرے کی لکیر ایک سے دوسرے کی طرف بڑھ رہی ہے پاکستان میں بیٹھ کر ایران اور امریکہ کی کشیدگی کو ایک دور کی جنگ سمجھنا آسان ہے۔ میزائل کہیں اور گرتے ہیں، جنگی جہاز کسی اور سمندر میں کھڑے ہیں، مذاکرات عمان میں ہوتے ہیں اور دھمکیاں واشنگٹن اور تہران سے آتی ہیں۔ لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ کے عام آدمی کو بظاہر اس سے کیا لینا دینا؟ جنگ کی آواز شاید ہمارے شہروں تک نہ پہنچے، لیکن اس کا بل ضرور پہنچ سکتا ہے وہ بل پٹرول پمپ پر آئے گا ، بجلی کے نرخوں میں آئے گا ، بس اور ٹرک کے کرائے میں آئے گا ، کھاد اور زرعی لاگت میں آئے گا ، کارخانے کی پیداوار میں آئے گا اور آخرکار باورچی خانے تک پہنچے گا۔
یہ جنگ سمجھنے کے لیے پہلے صرف دو دروازے سمجھ لیجیے خلیج کے دہانے پر آبنائے ہرمز ہے، ایک طرف ایران، دوسری طرف عمان۔ دنیا کے تیل کی تجارت کا ایک غیر معمولی بڑا حصہ اس تنگ راستے سے گزرتا ہے۔ سعودی عرب، عراق، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات اور خود ایران کی توانائی برآمدات کسی نہ کسی درجے میں اس خطے کے امن سے وابستہ ہیں۔
اب نقشے پر جنوب مغرب کی طرف چلیں۔یمن اور افریقہ کے درمیان باب المندب ہے یہاں سے جہاز بحیرہ احمر، پھر نہرِ سویز اور آگے یورپ جاتے ہیں اگر یہ راستہ خطرناک ہو تو بہت سے جہازوں کو افریقہ کے گرد طویل چکر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ چکر لمبا ہو تو وقت بڑھتا ہے وقت بڑھے تو ایندھن بڑھتا ہے خطرہ بڑھے تو بیمہ مہنگا ہوتا ہے اور جب نقل و حمل مہنگی ہوتی ہے تو آخر میں سامان بھی مہنگا ہوتا ہے یعنی ہرمز اور باب المندب محض سمندر کے دو تنگ راستے نہیں یہ عالمی تجارت کے جسم کی دو اہم شریانیں ہیں اور اس وقت دونوں پر دباؤ ہے۔
13 ستمبر 2026 تک صورت حال یہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی شدید خطرات کا سامنا کر رہی ہے اسی روز ایک تجارتی جہاز کو نامعلوم projectile لگنے، آگ بھڑکنے اور عملے کو نکالنے کی اطلاع سامنے آئی حملہ کس نے کیا، اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی اس لیے کسی فریق کا نام محض قیاس کی بنیاد پر لکھ دینا خبر نہیں ہوگا۔
دوسری طرف سعودی عرب کی اہم East-West تیل پائپ لائن بھی حملے کے بعد متاثر ہوئی ہے اس پائپ لائن کی اہمیت ہی یہ ہے کہ سعودی تیل کا ایک حصہ آبنائے ہرمز سے گزارے بغیر بحیرہ احمر تک پہنچایا جاسکتا ہے اور یمن میں جاری لڑائی باب المندب کو الگ خطرے میں ڈال رہی ہے گویا مسئلہ اب یہ نہیں رہا کہ ایران اور امریکہ میں کون زیادہ طاقتور ہے اصل سوال یہ ہے اگر توانائی اور تجارت کے راستے غیر محفوظ ہوگئے تو قیمت کون ادا کرے گا؟ مختصر جواب ہے: تقریباً پوری دنیا۔ پاکستان شاید دوسروں سے کچھ زیادہ۔
ایران کے پاس طاقت بھی، مشکل بھی، ایران کو سمجھنے کے لیے جذبات سے زیادہ جغرافیہ دیکھنا ہوگا آبنائے ہرمز کے کنارے ایران کی موجودگی اسے ایسی اسٹریٹجک اہمیت دیتی ہے جسے دنیا کی بڑی طاقت بھی نظر انداز نہیں کرسکتی۔ تہران جانتا ہے کہ اس پر عسکری یا معاشی دباؤ بہت بڑھایا جائے تو ہرمز میں پیدا ہونے والی بے یقینی عالمی توانائی منڈی کو ہلا سکتی ہے یہ ایران کی طاقت ہے مگر یہی اس کی کمزوری بھی بن سکتی ہے اگر خلیج مستقل میدانِ جنگ بنے ، تجارت متاثر ہو ، پابندیاں سخت ہوں اور سرمایہ کاری مزید سکڑے تو اس کی قیمت صرف ایران کے مخالف نہیں دیتے۔ ایرانی معیشت اور ایرانی شہری بھی دیتے ہیں
اس لیے تہران کے سامنے بھی کوئی آسان راستہ نہیں، خاموش رہے تو دباؤ، جواب دے تو بڑی جنگ کا خطرہ، امریکہ کی طاقت کی بھی ایک قیمت ہے امریکہ عسکری اعتبار سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ اس کے پاس بحری بیڑے ، فضائی قوت ، خطے میں اڈے ، اتحادی اور عالمی مالیاتی اثرو رسوخ موجود ہے لیکن بڑی طاقت ہونا اور ہر نتیجے کو قابو میں رکھنا ایک ہی بات نہیں۔
واشنگٹن ایران پر دباؤ بڑھاتا ہے تو اسے ساتھ یہ حساب بھی کرنا پڑتا ہے کہ تیل کتنا مہنگا ہوگا ، خلیجی اتحادی کتنے غیر محفوظ ہوں گے ، امریکی اڈوں پر خطرہ کتنا بڑھے گا اور جنگ کتنے نئے محاذ کھول سکتی ہے میزائل کا جواب میزائل سے دیا جاسکتا ہے عالمی منڈی میں خوف کا جواب کسی میزائل سے نہیں دیا جاسکتا یہ امریکہ کی مشکل ہے
سعودی عرب کے لیے معاملہ وجودی نوعیت کا ہے سعودی عرب کی معیشت، عالمی حیثیت اور ریاستی آمدن کا بڑا تعلق توانائی سے ہے ہرمز غیر محفوظ ہو تو متبادل راستے اہم ہوجاتے ہیں اگر انہی متبادل راستوں کو نشانہ بنایا جانے لگے اور دوسری طرف باب المندب بھی خطرے میں آجائے تو ریاض کے لیے معاملہ محض ایران یا حوثیوں سے اختلاف کا نہیں رہتا یہ اپنی اقتصادی شہ رگوں کے تحفظ کا سوال بن جاتا ہے اور عین یہاں پاکستان کی مشکل شروع ہوتی ہے سب سے مشکل کرسی اسلام آباد کی ہے
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئے نہیں۔ دفاعی تعاون، اقتصادی روابط، پاکستانی افرادی قوت اور دیرینہ سیاسی تعلقات نے دونوں ملکوں کو کئی سطحوں پر جوڑ رکھا ہے مگر ایران بھی کوئی دور کا ملک نہیں، وہ ہمارا ہمسایہ ہے تقریباً نو سو کلومیٹر سرحد، بلوچستان ، سرحدی سلامتی ، تجارت ، افغانستان اور داخلی فرقہ وارانہ حساسیت یہ سب ایران کے ساتھ تعلق کو محض سفارتی پسند یا ناپسند کا معاملہ نہیں رہنے دیتے
اور امریکہ؟ پاکستان عالمی مالیاتی نظام ، تجارت ، سفارت کاری اور سلامتی کے متعدد معاملات میں واشنگٹن کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتا اس لیے پاکستان کو باہر سے مشورہ دینا بہت آسان ہے ’’ایک طرف کھڑے ہوجاؤ۔‘‘ لیکن خارجہ پالیسی جلسے کی قرارداد نہیں ہوتی ہر فیصلے کے پیچھے اگلے پانچ فیصلے کھڑے ہوتے ہیں سعودی عرب کی ہر جائز سلامتی تشویش کو نظر انداز کرنا پاکستان کے مفاد میں نہیں ،ایران کو مستقل دشمن بنانا بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں، امریکہ سے غیر ضروری تصادم بھی ہمارے مفاد میں نہیں اور کسی دوسرے ملک کی جنگ کو پاکستان کی جنگ بنانا تو شاید سب سے کم ہمارے مفاد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اس بحران میں ایک ایسا توازن درکار ہے جس میں دوستوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے ، ہمسائے سے رابطہ نہ ٹوٹے ، بڑی طاقتوں سے گفتگو جاری رہے اور پاکستانی فوج کو کسی ایسے کھلے تنازع میں دھکیلنے سے بچایا جائے جس کا اختتام کسی کو معلوم نہیں اسے کمزوری نہ سمجھئے۔ (جاری)

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔