مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

ایک بار پھر ایران پر اقتصادی پابندیاں

اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکی سامراج نے ایران کو ختم کرنے کے لیے بے شمار سازشیں، آٹھ سالہ ایران عراق جنگ اور اقتصادی پابندیاں مسلط کیں، جبکہ اسرائیل کے ساتھ مل…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

اسلامی انقلاب کے بعد سے امریکی سامراج اور اس کی اتحادی حکومتوں نے ایران کے خلاف اتنے جنگی محاذ کھول دیئے کہ ہر نئے دن ایک نئی سازش سننے کو ملتی ہے۔ امریکہ ہر سال اپنے بجٹ کا ایک حصہ علماء کی قیادت میں جاری اسلامی انقلابی حکومت کو ختم کرنے کے لئے صرف کرتا ہے۔ جس سے دنیا بھر میں فرقہ وارانہ فسادات، لاحاصل فضول مباحثے،گالم گلوچ اور اقدامات اسی ساز ش کا حصہ لگتے ہیں۔ ایران عراق جنگ شروع ہوئی توعراق کی حمایت میں تقریباًتمام عرب ممالک کا اسلحہ اور وسائل ایران کی مخالفت میں یکجا تھے۔ یہ جنگ آٹھ سال تک لڑی گئی۔ ایران نے شدید مالی اور جانی نقصان برداشت کیا مگر صدام حسین کو ایک انچ زمین پر بھی قبضہ کرنے نہیں دیا۔ میں توحیرت زدہ ہوں کہ اسلامی انقلاب بحیثیت ملک امریکہ کے خلاف تو نہیں تھا،بادشاہت کو نکال باہر کیا گیا جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان زمینی فاصلہ بھی بہت زیادہ ہے تو ڈائریکٹ تناؤ بھی نہیں تھا۔نام کچھ بھی دیں اور اقدامات جو بھی ہوں،اب واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست اسرائیل نے اپنی بقا کے لئے ایران اور خلیجی ممالک کو آمنے سامنے کردیا ہے۔یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ جب شاہ ایران کے فرار کے بعدامام خمینی ؒ فرانس سے تہران ایئرپورٹ پر اُترے تو چند ہی دنوں میں اسلامی حکومت کے خدوخال،قواعد و ضوابط،عوامی ریفرنڈم کے نتیجے میں ایک اسلامی جمہوری آئین تیار کیا گیا۔ اس آئین میں کسی جگہ بھی ایران کے عوام اور حکومت کو اکسانے کی کوشش نہیں کی گئی کہ وہ کسی ہمسایہ ملک پر حملہ کریں اورنہ ہی اپنی ایرانی حدود کو وسیع تر کرنے کا کوئی عندیہ دیا گیا۔ لیکن پھر بھی بانی انقلاب اسلامی خمینی صاحب کا بیت المقدس کی آزادی کی جدوجہد کا نعرہ اور فلسطین کی آزادی تک، جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان اسرائیلی حکومت کو کھٹک رہا تھا۔ اس نعرے کے اثرات پوری دنیا میں رمضان المبارک کے آخری جمعہ، یعنی جمعتہ الوداع کویوم القدس کی شکل میں دیکھے جاتے ہیں۔روزے کی حالت میں لوگ سڑکوں پر نکل کر فلسطین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ گویا اسلامی نظام حکومت کے نظریہ ”ولایت فقیہہ“ کو اسرائیل اپنی بقا اور سلامتی کے لئے خطرہ سمجھتاہے۔ اس طرح امریکہ کے ساتھ مل کر کئی بار ایرانی عوام کو رجیم چینج کے لئے اُکساتا رہا اورسرمایہ کاری بھی کرتا رہا ہے۔ اس سازش کو پروان چڑھانے میں ایران کے تاجر اور کچھ انقلاب مخالف قوتوں کو بھی ہم نوا بنا کر کئی بار امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی، جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ پھر اسرائیل اور امریکہ نے پاسداران انقلاب کے کمانڈروں، سائنسدانوں اور اہم شخصیات کو نشانہ بنایا، تاکہ دفاعی لحاظ سے حکومت کو کمزور کیا جائے۔جب اس میں بھی ناکامی ہوئی تو رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کو ہوائی حملہ کر کے شہید کر دیا گیا۔ان کی شہادت کے بعد ایرانی قوم میں اتحاد و اتفاق کا ایک نیا جذبہ پیدا ہوا،جس کا ثبوت شہید رہبر انقلاب اسلامی کے جنازے میں کروڑوں افراد کی شرکت کی صورت میں نظر آتا ہے لیکن اس کے اثرات بھی امریکہ اور اسرائیل کی ناکامی کی صورت میں نظر آئے اور آخری حربے کے طور پر امریکی صدر نے دلبرداشتہ ہوکر ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔ حیرت ہے کہ ایسے احمقانہ اور غیر انسانی اقدامات کرنے والے شعب ابی طالب کی مثال رکھنے والے ایران کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے یا وہ بیوقوفانہ ضد کی مرض کا شکار ہیں۔ امید ہے کہ امریکہ کے یہ حربے بھی ناکام ہوں گے۔ ایرانی قوم کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے استقامت اور پامردی کا مظاہرہ کیا ہے۔کون نہیں جانتا کہ ایران پر انقلاب اسلامی کے بعد سے اقتصادی پابندیاں عائد ہیں، جنگ مسلط اور مختلف محاصرے بھی جاری ہیں لیکن ایران نے ان اقتصادی پابندیوں سے جو حاصل کیا ہے وہ ان کی اقتصادی اوردفاعی معاملات میں خود انحصاری کی پالیسی ہے۔امریکہ ایٹم بم اور یورینیم کی افزودگی کا بہانہ بنا کر ایران کے لئے مشکلات پیدا کررہا ہے لیکن 28 فروری سے جاری جنگ کے نتائج بتارہے ہیں کہ ایٹمی اسلحہ تو بہت کمزور سی چیز ہے، ایران نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو جس اسلحہ سے ناکوں چنے چبوائے ہیں، اسے ایٹم بم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ایران کا اقتصادی رابطہ چین اور روس کے ساتھ کیپسین سی کے ذریعے جاری ہے، 1990ء کی دہائی میں، میں یہاں دو دن رہ کر آیا ہوں۔ اس سمندر کا دوسرا کنارہ روس سے جا لگتا ہے اسی کے ذریعے ایران یوکرائن کے حوالے سے جنگی سامان اورڈرون وغیرہ بھی بیچتا رہا ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس امریکی بائیکاٹ کو ناکام کرنے کی کوشش میں روس اور چین پیچھے رہیں گے، یقینایہ دونوں ممالک ایران کو تحفظ دیں گے۔اس کے بعد سب سے اہم بات یہ ہے کہ چین جو ایران کا دوست ملک ہے اور کافی عرصہ پہلے سے ایران میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کر چکا ہے اور اب بھی کر رہا ہے، اس کابارڈر پاکستان کے ساتھ ملتا ہے۔پاکستان کی زیادہ تر تجارت چین سے اسی بارڈر کے ذریعے ہوتی ہے۔ چین خوراک حصہ بیچ سکتا ہے۔پاکستان کی گہری بندرگاہ گوادرکے قریب ترین راستہ ایران کو جاتا ہے،یہاں سے آبنائے ہرمز بھی قریب ہے تو یہ تجارتی سلسلہ چین سے پاکستان اور پاکستان سے ایران سے، تجارتی مشکلات ختم کرنے کے لیے معاملات طے ہو چکے ہیں۔ایسے ہی جیسا کہ آٹا، گندم مشروبات چاول وغیر ہ سمیت ضروریات زندگی کی تمام اشیاء پاکستان سے افغانستان جاتی ہیں۔ اسی طرز پر چین سے پاکستان گوادر اور ایران ہر قسم کی اشیاء جائیں گی جس کا اظہار اہم ایرانی عہدیداران بھی کرچکے ہیں۔گویا پاک ایران تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ انشاء اللہ چین روس اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے تجارت میں کامیابی ہو گی۔ تازہ امریکی پابندیوں میں کہا گیا ہے کہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کیخلاف بھی کارروائی کی جائے گی تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹرمپ کی بوکھلاہٹ ہے جس کی وجہ سے وہ پابندیاں عائد کر رہا ہے اور یہ امریکہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔امریکی صدر ٹر مپ ایران کی استقامت اور جوابی حملوں سے سخت مایوسی اور ذہنی دباو کا شکار ہیں، اس لئے انہوں نے اپنی مخصوص ذہنی کیفیت کو استعمال کرتے ہوئے کینیڈا کے ساتھ بھی پھڈا لے لیا ہے، جس پر کینیڈین حکومت نے امریکہ کو بجلی کی فراہمی بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ امریکی سامراج اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی جنگی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے،جس سے آنے والے دنوں میں امریکی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔مجھے امید ہے کہ امریکی عوام جلد اس نااہل اور ابنارمل صدر کو آنے والے انتخابات میں ووٹ نہ دے کر سخت مایوسی سے دو چار کریں گے اور ملکی اور بین الاقوامی حالات جو درست سمت آنا شروع ہوں گے۔

اس مضمون کے مصنفین

سید منیر حسین گیلانی

سید منیر حسین گیلانی

کالم نگار رونامہ پاکستان ، سابق وفاقی وزیر تعلیم ، سیکریٹری اطلاعات تحریک جعفریہ پاکستان

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔