مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

ٹُوٹاامن

عالمی سیاست اور قوت کے پیچیدہ توازن میں ایران کا جوہری پروگرام محض ایک تکنیکی بحث نہیں بلکہ قومی خود مختاری، سائنسی ترقی اور قومی وقار کا استعارہ بن چکا ہے جس…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

عالمی سیاست کی بساط پرکبھی مہرے خاموشی سے سرکتے ہیں اورکبھی تقدیرکے فیصلے توپوں کی گھن گرج میں لکھے جاتے ہیں۔ اکیسویں صدی کایہ عہد،جسے بظاہرترقی،سفارت اور عالمی اداروں کی حکمرانی کازمانہ کہاجاتاہے،درحقیقت قوت، مفاد اورنظریاتی کشمکش کا ایک ایساپیچیدہ تاناباناہے جس میں ہردھاگہ کسی نہ کسی قومی مفادسے بندھاہوا ہے۔ایران کا جوہری پروگرام بھی اسی عالمی کشمکش کاایک مرکزی باب ہیایک ایساباب جس میں سائنس،سیاست،خودمختاری،مذہب،اورعالمی طاقتوں کی بالا دستی سب ایک دوسرے میں یوں پیوست ہیں جیسے شبِ تاریک میں بجلی کی لپک۔
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف کایہ بیان کہ ایران کوپرامن مقاصدکے لئے یورینیم افزودگی کاپوراحق حاصل ہے محض سفارتی جملہ نہیں،بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان جاری خاموش شطرنج کی ایک چال ہے۔ روس، جوخودکومغربی تسلط کے مقابل ایک متوازن قوت کے طورپرپیش کرتا ہے، اس اصول کواجاگرکرتاہے کہ معاہدہ عدم پھیلاکے تحت ہرریاست کوپرامن جوہری توانائی کے حصول کا حق حاصل ہے۔یہ موقف بظاہرقانون اور انصاف کی پاسداری کاآئینہ دارہے،مگراس کے پس منظرمیں ایک گہراسیاسی فلسفہ کارفرماہے۔ روس جانتاہے کہ اگرایران کواس کے حقوق سے محروم کیا گیاتوعالمی نظام میں طاقت کاتوازن مزیدیکطرفہ ہوجائے گااوریہی وہ نکتہ ہے جہاں اصول اورمفاد ایک دوسرے سے ہم آغوش نظر آتے ہیں۔
ایران کامؤقف نہایت دوٹوک اورغیرمبہم ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے الفاظ میں یورینیم افزودگی ہماراناقابلِ تنسیخ حق ہے اس پرنہ کوئی بات چیت ہو گی،نہ کوئی سمجھوتہ۔یہ بیان محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک تاریخی شعورکی بازگشت ہے ایران،جس نے صدیوں تک بیرونی مداخلت،استعماری دبااورداخلی انقلابات کاسامناکیا، اب اپنی خودمختاری کے ہرپہلو پرپہرہ دینااپناحق ہی نہیں بلکہ فرض سمجھتا ہے۔ یادرہے کہ قوموں کی خودی کوان کی بقاکی بنیادہوتی ہے،جس قوم نے اپنے حقِ حیات پرسوداکیا،اس نے اپنی تقدیرخود اپنے ہاتھوں سے مٹادی۔
یورینیم افزودگی بظاہرایک سائنسی عمل ہے، مگر جب یہی عمل عالمی سیاست کے دائرے میں داخل ہوتا ہے تواس کی حیثیت محض تکنیکی نہیں رہتی بلکہ وہ طاقت کی علامت بن جاتاہے۔ ایران کے لئے یہ توانائی کاذریعہ ہے،سائنسی ترقی کی علامت ہے اورسب سے بڑھ کر قومی وقارکااستعارہ ہے جبکہ امریکااوراس کے اتحادیوں کے لئے یہی عمل ممکنہ جوہری ہتھیارسازی کاپیش خیمہ،علاقائی عدم استحکام کاسبب اورعالمی سلامتی کے لئے خطرہ قرار دیا جاتاہے۔یہی تضاداس مسئلے کومحض ایک سائنسی بحث سے اٹھاکرعالمی سیاست کے مرکز میں لے آتاہے۔
ایرانی خبررساں ادارے کے مطابق امریکا نے مذاکرات کی بحالی کے لئے پانچ شرائط عائدکی ہیں،جن میں400کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی بھی شامل ہے۔یہ شرط بظاہراعتماد سازی کااقدام ہے، مگر ایران کے لئے یہ اس کی خودمختاری پرایک کاری ضرب کے مترادف ہے ۔یہاں طاقتوراقوام کی پالیسیوں کاوہ منافقانہ اندازِفکر نمایاں دکھائی دیتاہے جہاں وہ انصاف کے نام پراپنی برتری قائم رکھتے ہیں،اورامن کے نام پردوسروں کی آزادی محدودکرتے ہیں۔
ٹرمپ کا یہ اعلان کہ مشرقِ وسطیٰ کے رہنمائوں سعودی عرب،قطراورمتحدہ عرب امارات کی درخواست پرایران پرحملہ مؤخرکردیا گیا،اس خطے کی پیچیدہ سفارت کاری کاعکاس اور ایک نہایت معنی خیزسفارتی اشارہ ہے۔یہاں ایک عجیب تضادنظرآتاہے،ایک طرف یہی ممالک ایران کے اثرورسوخ سے خائف ہیں اوردوسری طرف وہ کھلی جنگ کے نتائج سے بھی لرزاں ہیں۔یہ کیفیت بالکل اس شخص کی مانندہے جوسمندرکے کنارے کھڑاہو کرلہروں سے خوفزدہ بھی ہے اورانہی میں کشتی بھی اتارناچاہتاہے۔یا اس شطرنج کی مانند ہے جہاں ہرکھلاڑی دوسرے کومات دیناچاہتاہے ،مگرخودشہ مات سے بھی بچناچاہتاہے۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق ایک ایسامعاہدہ ممکن ہے جوامریکامشرقِ وسطی اوردیگرعالمی طاقتوں سب کے لئے قابلِ قبول ہومگرتاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایسے معاہدے اکثرکاغذپر تو خوشنماہوتے ہیں،مگرعملی دنیا میں مفادات کی آندھی انہیں اڑالے جاتی ہے۔ ٹرمپ کایہ کہناکہ اگرمعاہدہ نہ ہواتوفوجی کارروائی کسی بھی وقت ممکن ہے،اس حقیقت کوعیاں کرتاہے کہ عالمی سیاست میں آج بھی قلم کی سیاہی کو تلوارکی دھارکاسایہ حاصل ہوتاہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری اپنی آخری حدوں کوچھوتی ہے اورجنگ کاسایہ افق پرنمودار ہونے لگتاہے۔
امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو کایہ بیان کہ صدرنے پاکستان کے کہنے پرپراجیکٹ فریڈم روکا،ایک نہایت اہم انکشاف ہے۔یہ بیان اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتاہے کہ پاکستان اب بھی عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کرداراداکرسکتاہے ۔ اوروہ مشرق ومغرب کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتاہے۔یہ کردار بظاہر خاموش سہی،مگراس کی گونج عالمی ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کا بیان کہ کسی بھی احمقانہ اقدام کانتیجہ سخت اورفیصلہ کن ہوگا۔ان کاسخت لب ولہجہ دراصل ایک نفسیاتی اور دفاعی حکمت عملی کااظہار ہے اور اس نفسیات کی عکاسی کرتاہے جس میں قومیں اپنی بقاکے لئے سخت لب ولہجہ اختیار کرتی ہیں اوردشمن کویہ باور کراتی ہیں کہ وہ کمزورنہیں۔یہ بیان نہ صرف دشمن کوخبردار کرتاہے بلکہ داخلی سطح پرعوامی حوصلہ بلندکرتاہے اورقومی اتحادکومضبوط بناتاہے۔یہی وہ حربہ ہے جواکثر اقوام بحران کے وقت اختیارکرتی ہیں۔
ایران کاجوہری مسئلہ محض یورینیم کی افزودگی کاسوال نہیں بلکہ قومی خودمختاری،عالمی طاقتوں کی کشمکش،علاقائی سیاست اورتہذیبی شناخت کا ایک پیچیدہ امتزاج ہے۔یہ ایک ایسا معرکہ ہے جس میں دلیل بھی ہے،طاقت بھی اورتاریخ بھی۔تاہم یہ داستان ابھی ادھوری ہے اس کے اوراق میں ابھی کئی ابواب باقی ہیں امریکی شرائط کی تفصیل، ایران کی حکمت عملی، اسرائیل کا کردار،اورعالمی طاقتوں کی صف بندی کے بعدہی نتائج کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکانے مذاکرا ت کی بحالی کے لئے جوپانچ شرائط پیش کی ہیں،وہ بظاہرسفارتی نزاکت کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں،مگران کے باطن میں طاقت کی وہی قدیم منطق کارفرماہے جسے تاریخ بارہابے نقاب کرچکی ہے۔ان شرائط میں نمایاں نکات یہ بتائے جاتے ہیں۔400کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی، افزودگی کی سطح کوایک مخصوص حد تک محدودکرنا،بین الاقوامی معائنہ کاروں کومکمل رسائی دینا،جوہری تنصیبات کی شفاف نگرانی اورعلاقائی پالیسیوں میں نرمی اورعسکری اثرورسوخ میں کمی۔یہ شرائط گویا ایک ایسے پیمان کی صورت اختیارکرجاتی ہیں جس میں ایک فریق کواپنے وسائل،اپنی سائنسی پیش رفت اوراپنی دفاعی حکمت عملی کوایک عالمی نگرانی کے سپرد کرنا پڑتاہے۔گویایہاں ذہن میں یہ جملہ گونجتا ہے کہ جب طاقتورقومیں معاہدہ کرتی ہیں تووہ دراصل اپنی شرائط کو اصول کانام دیتی ہیں۔
ایران کاردعمل ان شرائط پرسخت اورغیرلچکدار نظر آتاہے،مگر اس کی جڑیں اس کی داخلی سیاست اور انقلابی تاریخ میں پیوست ہیں۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعدایران نے جس سیاسی فلسفے کواپنایا،اس کی بنیاد تین اصولوں پرتھی،خودمختاری ، استقلال،استکبار سے مزاحمت،اسلامی تشخص کا تحفظ ۔یورینیم افزودگی کامسئلہ ان تینوں اصولوں کامظہربن چکا ہے لہذااس پرسمجھوتہ کرناایران کے لئے محض ایک تکنیکی فیصلہ نہیں بلکہ نظریاتی پسپائی کے مترادف ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت اس مسئلے کوقومی غیرت اور اسلامی وقارکامسئلہ قرار دیتی ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔