ایرانی صدر کا دروہ بھارت

ایرانی صدر کا دروہ بھارت

ایران کے صدر مسعود پزشکیان آئندہ ماہ بھارت کا دورہ کریں گے جہاں وہ 12اور 13ستمبر کو نئی دہلی میں ہونے والے اٹھارہویں برِکس سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ صدر پزشکیان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اہم دو طرفہ امور پر بھی بات چیت کریں گے۔ ملاقات میں ایران اور بھارت کے باہمی تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی رابطوں اور چابہار بندرگاہ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی خطے میں بحری جہاز رانی کی آزادی اور آبنائے ہرمز میں بھارتی شہریوں اور ملاحوں کی سلامتی کے معاملے کو بھی ایران کے ساتھ اٹھا سکتا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق اس وقت 165 سے زائد بھارتی ملاح آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں سرگرم ہیں۔ بھارت کے لئے ایرانی صدر کا دورہ اہم سفارتی موقع ہوگا۔

اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ پاکستان اور ایران نہ صرف ہمسایہ ممالک ہیں بلکہ دونوں کے امن و استحکام کا براہِ راست تعلق پورے خطے کے امن سے ہے۔ سرحدی سلامتی، دہشت گردی، تجارت، توانائی اور عوامی روابط جیسے معاملات میں دونوں ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے تہران کے ساتھ مسلسل رابطہ استوار رکھا جا رہا ہے جو ایک ذمہ دار ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم تقاضا ہے۔لیکن ایرانی صدر کے دورہ بھارت سے پاکستان کو دکھ ہورہا ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور ایران امریکہ جنگ میں بھارت نے جس طرح کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا، حالات کا تقاضہ تو یہی تھا کہ ایرانی صدر بھارت جانے سے صاف انکار کر دیتے۔ اس سے قبل مئی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ ”سید عباس عراقچی“ نے بھارت کا دورہ کیا۔
ایران واقعی کبھی پاکستان نہیں ہو سکتا کیونکہ پاکستان میں دوست اور دشمن کی تمیز ہے، پاکستان اپنے محسنوں کو یاد رکھتا ہے، جبکہ ایران نے اب تک کیا کیا اور پاکستان نے کیا کیا؟
پاکستان کی پوزیشن اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ اسلام آباد نے ابتدا ہی سے کشیدگی کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور پرامن حل کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کسی ایک فریق کی طرف داری کے بجائے امن کا ساتھ دے رہا ہے اور یہی متوازن پالیسی پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد سہولت کار اور ثالث کے طور پر تسلیم کرا رہی ہے۔ محسن نقوی کا دورہ ایران بھی یقیناً اسی سفارتی تسلسل کا حصہ ہے اور اس کے مثبت نتائج نہ صرف پاک ایران تعلقات بلکہ وسیع تر علاقائی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
اسرائیلی بربریت پر خاموشی اور جنگ بندی کے بعد ایران کے معاملے پر مفاد پرستی کے باعث بھارت کی منافقانہ خارجہ پالیسی عیاں ہو گئی ہے۔ اسرائیل کے ایران پر حملے سے دو روز قبل مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا اور جنگ کے دوران ایران کے معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کی۔
ایران پر حملوں کے دوران بھارت اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہا اور آج توانائی و تجارتی مفادات کے تحت دوبارہ ایران سے قربت اختیار کر رہا ہے۔ ایرانی صدر سے ٹیلی فونک گفتگو میں مودی نے تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران پر مالی پابندیوں میں نرمی پہلے ہی ایران امریکہ 14 نکاتی معاہدے میں شامل ہے۔ مودی نے آبنائے ہرمز میں بحری راستوں اور تجارتی آزادی کا تحفظ عالمی و بھارتی مفاد قرار دیا۔ بھارت کا آبنائے ہرمز میں آزادی جہاز رانی پر زور ایران کی حمایت نہیں بلکہ بھارتی تجارت، تیل کی رسد اور معاشی مفادات کا تحفظ ہے۔ بھارت امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری ترک کر چکا تھا، جس سے واضح ہے کہ امریکی مفادات کے سامنے ایران کے ساتھ اس کے تعلقات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔
ماہرین نے کہا کہ بھارت نے ایران پر اسرائیلی حملے کی واضح مذمت نہیں کی اور ایران کی خودمختاری کے دفاع میں بھی مکمل خاموشی اختیار کی۔ جنگ سے قبل بھارت کی اسرائیل کے ساتھ شراکت داری، دورانِ جنگ مکمل خاموشی اور جنگ کے بعد ایران سے تیل کی خاطر دوستی، منافقت اور موقع پرستی کی علامت ہے۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔