پروفیسر رائے غلام رسول فہم کھرل
پروفیسر رائے غلام رسول فہم کھرل ایک مصنف ہیں۔ ان کی سوانح، قومیت اور درجہ کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔
پروفائل دیکھیںدنیا کی سیاست میں بعض خبریں محض خبر نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کے عالمی منظرنامے کا ابتدائی خاکہ ثابت ہوتی ہیں۔ آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کی جانب سے ایران کو پیش کیا جانے والا رضاکارانہ بحری فیس کا منصوبہ بھی ایسی ہی ایک پیش رفت ہے جس کے اثرات صرف خلیج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈی، بین الاقوامی قانون، علاقائی سفارت کاری اور بڑی طاقتوں کی حکمت عملی پر بھی مرتب ہوں گے۔ یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی برسوں سے آبنائے ہرمز دنیا کی خطرناک ترین جغرافیائی سیاسی کشمکش کا مرکز بنی ہوئی ہے اور ہر بحران کے بعد یہی سوال اٹھتا رہا ہے کہ کیا دنیا اپنی توانائی کی شہ رگ کو مسلسل سیاسی تنازعات کا یرغمال بنائے رکھ سکتی ہے؟
آبنائے ہرمز محض ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ دنیا کے خام تیل اور قدرتی گیس کی ایک بڑی مقدار اسی گزرگاہ سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق، قطر اور ایران سمیت متعدد ممالک کی برآمدات اسی راستے کی مرہون منت ہیں۔ اگر اس راہداری میں چند روز کے لیے بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں، بحری انشورنس مہنگی ہو جاتی ہے، سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور دنیا کی بڑی معیشتیں فوری دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔
گزشتہ برسوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، بحری جہازوں کی پکڑ دھکڑ، پابندیوں، ڈرون حملوں اور اسرائیل۔ایران تنازع کے باعث آبنائے ہرمز بارہا عالمی خبروں کا مرکز بنی رہی۔ ایران نے مختلف مواقع پر عندیہ دیا کہ اگر اس کی تیل برآمدات روکی گئیں تو وہ آبنائے ہرمز بند کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے، جبکہ امریکہ اور مغربی اتحادیوں نے ہمیشہ اس امکان کو عالمی تجارت کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے بحری موجودگی میں اضافہ کیا۔ اس ماحول نے خلیج کو مستقل عسکری دباؤ میں رکھا۔
ایسے حالات میں عمان کی جانب سے پیش کیا جانے والا منصوبہ اس لیے اہم ہے کہ یہ طاقت کے استعمال کے بجائے مفاہمت اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ایک نیا راستہ تجویز کرتا ہے۔ اس تجویز کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے لازمی نہیں بلکہ رضاکارانہ بنیادوں پر فیس یا عطیات وصول کیے جائیں تاکہ جہاز رانی کی حفاظت، ماحولیاتی تحفظ، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور بحری انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے مشترکہ فنڈ قائم کیا جا سکے۔
یہ تصور نیا نہیں۔ جنوب مشرقی ایشیا کی آبنائے مالاکا میں کئی برسوں سے اسی نوعیت کا تعاون موجود ہے جہاں انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور باہمی اشتراک سے دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہ کو محفوظ بنائے ہوئے ہیں۔ وہاں بحری سلامتی کو کسی ایک ریاست کی اجارہ داری کے بجائے مشترکہ ذمہ داری تصور کیا جاتا ہے۔ عمان اسی ماڈل کو خلیج میں متعارف کرانا چاہتا ہے۔
اگرچہ بظاہر یہ ایک معاشی اور انتظامی تجویز ہے لیکن اس کے اندر ایک گہرا سیاسی پیغام بھی پوشیدہ ہے۔ دراصل اس منصوبے کا مقصد آبنائے ہرمز کے انتظام کو کسی ایک ملک کی مکمل گرفت سے نکال کر مشترکہ ذمہ داری کی شکل دینا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی ملک کے لیے اس گزرگاہ کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنا آسان نہ رہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کی یہ تجویز کہ ایک سمت کی بحری ٹریفک ایران جبکہ دوسری سمت کے بعض حصے کی نگرانی عمان کرے، اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران بھی مکمل تصادم کے بجائے کسی نہ کسی قابل قبول انتظامی فارمولے پر غور کرنے کے لیے تیار دکھائی دیتا ہے۔ اگر یہ پیش رفت عملی صورت اختیار کرتی ہے تو خلیج میں اعتماد سازی کا ایک نیا باب کھل سکتا ہے۔
تاہم اس منصوبے کے راستے میں کئی پیچیدہ سوالات بھی موجود ہیں۔ سب سے اہم مسئلہ بین الاقوامی قانون کا ہے۔ اقوام متحدہ کے قانون برائے سمندر (UNCLOS) کے تحت بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزادانہ آمدورفت ایک بنیادی اصول ہے۔ امریکہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی قسم کی لازمی یا جبری فیس کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ اس لیے عمان نے رضاکارانہ فیس کی اصطلاح استعمال کرکے قانونی تنازع سے بچنے کی کوشش کی ہے۔
دوسرا سوال اعتماد کا ہے۔ خلیج کی سیاست کئی دہائیوں سے عدم اعتماد، پراکسی تنازعات اور مسابقتی مفادات کا شکار رہی ہے۔ اگر مشترکہ فنڈ قائم بھی ہو جائے تو اس کی نگرانی کون کرے گا؟ رقم کہاں خرچ ہوگی؟ فیصلے کس طریقے سے ہوں گے؟ کیا تمام ساحلی ممالک کو مساوی نمائندگی حاصل ہوگی؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے واضح جواب کے بغیر کوئی بھی نظام دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔
اس تجویز کا ایک اور پہلو امریکہ اور چین کی بڑھتی ہوئی عالمی مسابقت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیج سے حاصل کرتا ہے جبکہ امریکہ طویل عرصے سے اس خطے کی بحری سلامتی میں مرکزی کردار ادا کرتا آیا ہے۔ اگر خلیجی ممالک اپنی بحری سلامتی کے لیے علاقائی تعاون کا مؤثر نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس سے بڑی طاقتوں پر انحصار نسبتاً کم ہو سکتا ہے، جو خطے کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی ہوگی۔
عمان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ اعتدال، غیر جانبداری اور ثالثی کی علامت رہی ہے۔ ایران اور مغربی دنیا کے درمیان کئی اہم مذاکرات میں مسقط نے خاموش مگر مؤثر کردار ادا کیا۔ اسی روایت کا تسلسل اس نئی تجویز میں بھی نظر آتا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور ایران کے تعلقات میں حالیہ برسوں کے دوران آنے والی بہتری نے بھی ایسے اقدامات کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ اگر ریاض، تہران اور مسقط مشترکہ حکمت عملی پر متفق ہو جاتے ہیں تو یہ پورے خطے کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی توانائی کی ضروریات، بیرونی تجارت اور گوادر بندرگاہ کے مستقبل کا گہرا تعلق خلیج کے امن سے ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہونے کا مطلب صرف عالمی تجارت کا تحفظ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے نسبتاً مستحکم توانائی منڈی، کم شپنگ لاگت، بہتر سرمایہ کاری اور علاقائی اقتصادی تعاون کے نئے امکانات بھی ہیں۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی متوازن خارجہ پالیسی برقرار رکھتے ہوئے ہر ایسے اقدام کی حمایت کرے جو طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مشترکہ مفاد کو فروغ دیتا ہو۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ رضاکارانہ فیس کا نظام اس وقت ہی کامیاب ہوگا جب تمام متعلقہ ممالک اسے سیاسی دباؤ یا معاشی مفاد کے بجائے مشترکہ ذمہ داری کے جذبے سے قبول کریں۔ اگر یہ منصوبہ صرف وقتی کشیدگی کم کرنے کی کوشش ثابت ہوا تو اس کی عمر زیادہ طویل نہیں ہوگی، لیکن اگر اسے مضبوط قانونی، انتظامی اور سفارتی بنیادیں فراہم کر دی گئیں تو یہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ کے لیے ایک پائیدار ماڈل بن سکتا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ سمندر ہمیشہ جنگ سے زیادہ تجارت کے ذریعے انسانیت کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ آبنائے ہرمز بھی اگر عسکری رقابت کی علامت بننے کے بجائے علاقائی تعاون اور مشترکہ ذمہ داری کی مثال بن جائے تو یہ صرف خلیجی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک خوش آئند تبدیلی ہوگی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ طاقت کی سیاست کو قانون، سفارت کاری اور مشترکہ اقتصادی مفادات کے تابع کیا جائے، کیونکہ عالمی تجارت کی شہ رگوں کو اسلحے سے نہیں بلکہ اعتماد، تعاون اور دانشمندانہ قیادت سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
پروفیسر رائے غلام رسول فہم کھرل ایک مصنف ہیں۔ ان کی سوانح، قومیت اور درجہ کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب