ایرانی ہرجانے کے جواب میں امریکی ہرجانہ

ایرانی ہرجانے کے جواب میں امریکی ہرجانہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ایران سے جنگ میں امریکی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے عوض ہرجانہ ادا کرنے کی شرط بھی معاہدے میں شامل کر لیں۔اُنہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکہ ایرانی ہرجانے کے مطالبے کے جواب میں ہرجانہ طلب کرے گا۔ واضح رہے کہ اِس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ امریکہ کئی ماہ تک جاری رہنے والی جنگ کے نقصانات کا ازالہ کرے۔ ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایران نے ابھی تک تو کسی مذاکرات یا ملاقات میں یہ بات نہیں کی، اب وہ اچانک ہرجانے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ ایران سے اُن تمام لوگوں کے لئے ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جنہیں ایران نے سڑک کنارے نصب بموں اور متعدد تنازعات کے ذریعے ہلاک یا زخمی کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس کول پر ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے لئے بھی ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو پچھلے 50 برسوں کے دوران وہاں ہلاک ہونے والے مظاہرین کے اہلِ خانہ کے علاوہ گزشتہ پانچ ماہ میں ہلاک ہونے والے 52 ہزار افراد کو بھی ہرجانہ ادا کرنا چاہئے۔اُنہوں نے امریکی مذاکرات کاروں کو اِس بارے میں ہدایت جاری کر دی ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ (ایران کا) اسلامی نظام آج تاریخ کے حساس ترین دور سے گزر رہا ہے، دنیا سمجھ چکی ہے کہ ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا،رہبرِاعلیٰ کی قیادت میں عوامی، فوجی، سفارتی ہر میدان میں ملی اتحاد اور یکجہتی موجود ہے، ایرانی عوام دشمن کو اُس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے خود کو ناقابلِ شکست ثابت کردیا ہے،دنیا اِس حقیقت سے اچھی طرح آگاہ ہو چکی ہے،مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور دیگرحکام بھی اِس کا اعتراف کر چکے ہیں۔ مختلف ممالک کے حکام نے جو کچھ ایرانیوں نے کیا اُسے معجزہ قرار دیا، اُن کے نزدیک ایران نے پوری دنیا کو حیران کر دیا، کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران اِس طرح مزاحمت کر سکے گا جبکہ امریکہ کو اسرائیل سمیت مغربی دنیا اور بعض دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل تھی۔عباس عراقچی نے یاد دلایا کہ امریکی صدر نے جنگ کے آغاز میں ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن جنگ کے محض 20 دن بعد ہی وہ مذاکرات کے لئے منت سماجت کر رہے تھے۔
آبنائے ہْرمز بند پڑی ہے، تیل کی عالمی قیمتیں تاحال80ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں،اِن میں کمی نہیں ہو پا رہی،ایسے میں دونوں فریق ایک دوسرے کو لفظی گھن گرج کے ذریعے نیچا دکھانے میں مصروف ہیں۔ اِس مین دو رائے نہیں کہ ایران نے اپنی بقاء کو یقینی بنایا ہے جبکہ امریکہ اِس جنگ سے جو بھی مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا وہ نہیں کر پایا۔ براہِ راست یا بالواسطہ لیکن پس ِ پردہ مذاکرات چل رہے ہیں اور اِس کا اعتراف دونوں اطراف سے کیا گیا ہے لیکن وہ نتیجہ خیز اِس لئے ثابت نہیں ہو رہے کیونکہ دونوں ممالک اپنی اپنی جیت منوانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں، حقیقت عیاں ہو چکی ہے، اِس وقت دنیا کو اُس معاشی بحران سے بچانا چاہئے جو اِس کھینچا تانی کی وجہ سے پیدا ہو رہا ہے، کئی ممالک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ہیں جبکہ کم و بیش دنیا کے سبھی ممالک معاشی طور پر اِس سے بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ بعض ماہرین کے نزدیک یہ جنگ آج بند ہو جائے،آبنائے ہرمز کھل جائے،تیل کی عالمی قیمتوں میں مطلوبہ کمی ہو جائے تو بھی کئی ممالک کو اِس جنگ کے اثرات سے نکلنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ کبھی ایک طرف سے تو کبھی دوسرے طرف سے نئی شرائط سامنے آ جاتی ہیں، امریکہ صدر نے ایران کی طرف سے ہرجانہ مانگنے کے جواب میں اُلٹا ہرجانہ مانگنے کا اعلان کر دیا ہے،فریقین کو محض اپنے اپنے عوام کو خوش کرنے کے لئے بیانات دینے کا سلسلہ بند کرنا چاہئے۔ امریکہ ایران پر حملہ آور ہوا تھا اِس لئے ایران کی طرف سے ہرجانہ طلب کرنے کا مطالبہ سمجھ میں آتا ہے تاہم امریکہ صدر کی طرف سے ہرجانے کا مطالبہ کچھ جچتا نہیں۔ آج تک کبھی کسی حملہ آور کا یہ حق تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ جارحیت کا نشانہ بننے والوں سے ہرجانہ طلب کرے،یہ مطالبہ غیر دانشمندانہ بلکہ بچگانہ ہے، جس سے معاملات کو مزید اُلجھایا تو جا سکتا ہے، سلجھانے کی کوئی کوشش نہیں ہو سکتی۔اصل ہرجانہ تو دنیا بھر عوام روزانہ کی بنیاد پر دے رہے ہیں، مزید وقت ضائع کیے امریکہ اور ایران کو آبنائے ہْرمز کی بندش ختم کر کے عوام کو کم از کم اُس ہرجانے سے بچانے کا راستہ نکالنا چاہئے۔

اس مضمون کے مصنفین

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل دیکھیں

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔