اداریہ
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیںمکہ مکرمہ میں طے پانے والا دفاعی و تزویراتی معاہدہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں یہ معاہدہ موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وضاحت کی ہے کہ مکہ معاہدہ کے قطعاً کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، یہ صرف اور صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ مسلم امہ کے لیے یہ معاہدہ باعثِ تقویت ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جمعے کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین دفاعی معاہدہ طے پایا جس پر سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور میں نے دستخط کیے۔ دہائیوں سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مل کر حرمین شریفین کی حفاظت کا فریضہ نبھاتا رہا ہے۔ گزشتہ سال اس سلسلے میں باقاعدہ معاہدہ طے پایا تھا۔ اب اسی معاہدے کی توسیع ہوئی ہے۔ تینوں ممالک کے درمیان یہ معاہدہ خطے میں امن، سلامتی اور خوشحالی کے لیے ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دہائیوں پر محیط تعاون موجود ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدہ پہلے سے موجود تعاون کا تسلسل ہے۔
اس سلسلے میں ایک نہایت مثبت پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں اس بات کو پوری طرح واضح کر دیا ہے کہ ایران کے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سے گہرے تعلقات ہیں اور ان ممالک کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ ایران کے لیے خطرہ نہیں۔ ذرائع ابلاغ کو بریفنگ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم سلامتی کا سبب امریکا ہے۔ خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے امریکا کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ ہو تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دورۂ پاکستان کی دعوت ملی ہے اور دونوں مناسب وقت پر جائیں گے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمان کے ساتھ معاہدہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کا ضامن نہیں اور اس معاملے پر عمان کے ساتھ معاہدے میں امریکا شامل نہیں ہے۔
اسی طرح، باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی عوام دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ رہبرِ اعلیٰ کی قیادت میں عوامی، فوجی، سفارتی میدان میں اتحاد و یکجہتی موجود ہے۔ آج دنیا نے سمجھ لیا ہے کہ ایران کو جھکایا نہیں جا سکتا۔ علاوہ ازیں، امریکی سینیٹر کرس مرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران سے جنگ ہار چکا ہے۔ مسلسل لڑائی سے امریکا کمزور جبکہ ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے۔ ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی طاقت اور وسائل کو متاثر کر رہی ہے۔ موجودہ جنگی صورتحال صدر ٹرمپ کی ناکام حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ جنگ کو طول دینے کی بجائے ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کسی برے معاہدے کی بھی حمایت کروں گا۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ دوسری جانب، امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ اس نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے تحت اب تک 55 تجارتی بحری جہازوں کا رخ موڑ ا گیا ہے۔ یہ تعداد دو روز پہلے بتائے گئے 53 بحری جہازوں کے مقابلے میں دو زیادہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہیں جو مختلف فوجی مشنز میں حصہ لے رہے ہیں جن میں ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی پر سختی سے عمل درآمد بھی شامل ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکی جارحیت اور صہیونی شر پسندی کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال مسلسل بگاڑ کا شکار ہے جس کی قیمت پوری دنیا کو ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین اتحاد ویسے تو تین ممالک کا معاہدہ ہے لیکن مذکورہ کشیدگی اور اسی قسم کے دیگر حالات کا مقابلہ کرنے اور معاملات میں سدھار پیدا کرنے کے لیے یہ معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ ایران کو بھی اس بات کا احساس ہے کہ ان تینوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کا معاہدہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس سلسلے میں ایک پیش رفت یہ بھی ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس میں علاقائی اور عالمی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں بدلتی ہوئی صورتحال اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر بھی بات چیت کی۔ اسحاق ڈار نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات بھی ایرانی وزیر خارجہ سے شیئر کیں۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان تزویراتی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے میں امن و سلامتی کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہے۔ عباس عراقچی نے معاہدے کے اہم نکات سے آگاہ کرنے پر اسحاق ڈار کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
مکہ معاہدہ ابھی تک تو تین ممالک تک محدود ہے لیکن امید کی جا رہی ہے کہ جلد یہ مسلم امہ کے وسیع اور مضبوط اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس معاہدے کے حوالے سے مثبت بیان جاری کیا ہے جس سے یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ مستقبل میں ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ صرف ایران ہی نہیں تمام تمام مسلم ممالک کو اس معاہدے کا حصہ بننا چاہیے تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ قیامِ امن اور دفاع کے لیے مسلمان متحد اور یک جہت ہیں۔ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا اور ناجائز صہیونی ریاست نے مختلف مسلم ممالک میں شر پسندی اور دہشت گردی کی اب تک جو وارداتیں کی ہیں وہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونی چاہئیں۔ مسلمانوں کے باہمی اور فروعی اختلافات ختم ہو جائیں تو دنیا میں خود کو ایک ایسی طاقت کے طور پر منوا سکتے ہیں جس کے مفادات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا۔
یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔
پروفائل دیکھیں
اے آئی اسسٹنٹ
تیز اور قابل اعتماد جواب