D8 ممالک میں تجارت

D8 ممالک میں تجارت

گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس (FPCCI) نے D8ممالک میں تجارت پر ایک اہم انٹریکٹو سیشن رکھا جس میں ڈی جی وزارت خارجہ عرفان سومرو، FPCCI کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں، پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ سہیل محمود، ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، آذربائیجان، مصر، بنگلہ دیش اور نائیجریا کے قونصل جنرلز نے D8ممالک میں تجارت اور سرمایہ کاری پر پریزنٹیشن دی۔ مجھے بھی اس سیشن میں تجاویز اور سفارشات پر اختتامی کلمات کیلئے مدعو کیا گیا تھا۔

D8 مسلم ترقی پذیر ممالک کا ایک بلاک ہے جس کے پاکستان سمیت 8ممالک ملائیشیا، انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، آذربائیجان، مصر، بنگلہ دیش اور نائیجریا ممبرز ہیں۔ اس تنظیم کا مقصد ان ممالک کے مابین معاشی تعاون بڑھانا ہے۔ D8 بلاک 15 جون 1997ء کو تقریباً 30سال پہلے استنبول میں تشکیل دیا گیا تھا۔ D8 ممالک کی مجموعی آبادی 1.2 ارب نفوس پر مشتمل ہے جو دنیا کی کل آبادی کا 15 فیصد ہے۔

D8ممالک کی مجموعی جی ڈی پی 5000ارب ڈالر ہے۔ ان ممالک کو اللہ تعالیٰ نے آئل، گیس، زراعت اور پام آئل جیسی نعمتوں سے نوازا ہے۔ D8ممالک کے مابین موجودہ تجارت 140ارب ڈالر سالانہ ہے جس کو مزید بڑھانے کا بہت پوٹینشل ہے۔

D8 ممالک نے 2030ء تک باہمی تجارت کا ہدف 500ارب ڈالر رکھا ہے لیکن اس کیلئے D8ممالک کو اپنے کسٹم ٹیرف اور نان ٹیرف بیریئرز کو ختم یا کم کرنا ہوگا، شپنگ روابط کو بہتر بنانا ہوگا، تجارت کے فروغ کیلئے ان ممالک کو آپس میں آزاد تجارتی معاہدے (FTA) یا ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کرنے ہوں گے اور بزنس مینوں کو آسان ویزے کی سہولتیں فراہم کرنا ہونگی جس کیلئے ’’D8 بزنس ویزا‘‘ کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

سیشن کے شرکاء نے جن سیکٹرز میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کی سفارشات دیں، ان میں حلال فوڈ، آئی ٹی، ڈیجیٹل اکانومی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، فوڈ سیکورٹی، فارما سیوٹیکل سیکٹر، آئل اینڈ گیس، آٹو موبائل اور پارٹس، علاقائی سیاحت، ڈیجیٹل ادائیگیوں، D8ٹریڈ ایکسپو، D8اسٹارٹ اپ نیٹ ورک، D8بینکنگ چینل اور ٹریڈ تنازعات کو دور کرنے کیلئے D8کمرشل مصالحتی سینٹر کا قیام شامل ہے۔D8ممالک میں معاشی ترقی کی رینکنگ میں پہلے نمبر پر ترکیہ آتا ہے جسکی جی ڈی پی 1500ارب ڈالر ہے اور اس کی معیشت مینوفیکچرنگ، ٹورازم اور ایکسپورٹس ہیں۔ دوسرے نمبر پر انڈونیشیا ہے جسکی جی ڈی پی 1500 ارب ڈالر ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کی معیشت کا سب سے بڑا ملک ہے۔

تیسرے نمبر پر ایران ہے جس کی جی ڈی پی 500ملین ڈالر ہے اور ملکی معیشت کا انحصار آئل اور گیس پر ہے۔ چوتھے نمبر پر ملائیشیا ہے جسکی جی ڈی پی 500ملین ڈالر ہے اور اس کے اہم سیکٹرز میں پام آئل، حلال فوڈ اور اسلامک فنانس قابل ذکر ہے۔ پانچویں نمبر پر مصر ہے جسکی جی ڈی پی 400 ملین ڈالر ہے اور اسکے معاشی سیکٹرز میں زراعت، ٹورازم اور سوئس کینال قابل ذکر ہیں۔ چھٹے نمبر پر پاکستان ہے جسکی جی ڈی پی 400ملین ڈالر ہے جس کی معیشت کا انحصار ٹیکسٹائل، آئی ٹی، زراعت، فارماسیوٹیکل، سرجیکل اور اسپورٹس گڈز کی ایکسپورٹس پر ہے۔ ساتویں نمبر پر بنگلہ دیش ہے جس کی جی ڈی پی 470ملین ڈالر ہے اور گارمنٹس، ٹیکسٹائل ایکسپورٹ ملکی معیشت کا اہم سیکٹر ہے۔ آٹھویں نمبر پر نائیجیریا ہے جسکی جی ڈی پی 300 ملین ڈالر ہے اور اس کی معیشت کا انحصار آئل اکانومی پر ہے۔

D8 ممالک میں سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک انڈونیشیا ہے جسکی آبادی 285ملین ہے۔ دوسرے نمبر پر پاکستان (255 ملین)، نائیجریا(245ملین)، بنگلہ دیش (175 ملین)، مصر (120ملین)، ایران (92 ملین)، ترکیہ (87ملین) اور D8ممالک میں سب سے کم آبادی ملائیشیا کی 36ملین ہے۔ D8ممالک میں کچھ نے حیرت انگیز ترقی کی ہے جس میں ترکیہ، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور ملائیشیا ہیں جبکہ نوجوانوں کی بڑی آبادی رکھنے والا ملک پاکستان آئی ٹی ایکسپورٹ کا بڑا پوٹینشل رکھتا ہے۔

انڈونیشیا کی پاکستان کو ایکسپورٹ 4.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے جس میں زیادہ تر پام آئل کی ایکسپورٹ شامل ہے جبکہ پاکستان کی انڈونیشیا ایکسپورٹ صرف 108ملین ڈالر ہے جس میں سیریل، تمباکو، چمڑا، فروٹ، نمک، سرجیکل آلات اور گارمنٹس شامل ہیں۔ اس لحاظ سے پاکستان کا انڈونیشیا کے ساتھ ٹریڈ میں تقریباً 4.2ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہے۔

پاکستان اپنے اہم محل وقوع، جنوبی ایشیاء، سینٹرل ایشیاء اور مڈل ایسٹ کراس روڈ کے باعث D8ممالک کو اپنی بندرگاہوں اور بہترین ٹرانزٹ لاجسٹک سپورٹ فراہم کرسکتا ہے۔ تجارت کے فروغ کیلئے دنیا کا کامیاب ترین ماڈل علاقائی تجارت ہے اور D8ممالک کو علاقائی تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔

اس مضمون کے مصنفین

متعلقہ

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔