امریکا-ایران کشیدگی اور پاکستان و دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان، ایران اور امریکا کے مابین ثالثی کے لیے محاط انداز میں پرامید ہے، جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی اور ترک حکام کے…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
مسلح افواج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو میں جامع انداز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران امریکا ثالثی سے متعلق ہم محتاط انداز میں پرامید ہیں۔ چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایک ماہ میں دو بار تہران جانا مثبت پیشرفت کی علامت ہے۔ اگر مثبت پیشرفت نہ ہوتی تو وہ دوبارہ تہران نہیں جاتے۔ ایران امریکا کشیدگی کم کرانے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ امریکا ایران ثالثی میں کام بگاڑنے اور بلاجواز تنقید کرنے والے طاقتور عناصر سرگرم ہیں۔ یہ طاقتور عناصر سمجھتے ہیں کہ جاری تنازعہ اور جنگ ان کے مفاد میں ہے۔ مکہ دفاعی معاہدے میں نئے ممالک کی شمولیت کی گنجائش موجود ہے۔ معاہدے کی شقیں نئے ممالک کی شمولیت میں رکاوٹ نہیں ہیں۔ علاقائی امن کے مشترکہ وژن پر یقین رکھنے والے ممالک کو خوش آمدید کہیں گے۔ ایران سمیت کوئی بھی ملک مکہ معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی قیادت کرے گی۔ پاکستان سعودی عرب کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے مقدس مقامات کا دفاع پاکستان کے عزم کا حصہ ہے۔
ادھر، امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالث پھر تہران پہنچ گئے۔یہ دورہ امریکا اور ایران کے مابین معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ثالثی کے لیے ہونے والی بات چیت امریکا کے ساتھ رابطے اور مشاورت سے کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف، ایرانی پارلیمان کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی 7 شرائط تسلیم کیے بغیر مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ باقر قالیباف جن شرائط کی بات کر رہے ہیں ان میں امریکا کی طرف سے بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کا اجراء، تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں کا ہٹایا جانا، ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جاری عسکری کارروائی کا خاتمہ، ایران کی سرحدوں کے قریب سے امریکی فوج کو ہٹانا اور جنگ میں اب تک ہونے والے نقصانات کا ازالہ شامل ہیں۔
اسی طرح، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ انھوں نے شروع نہیں کی بلکہ ایرانی قیادت نے 1979ء میں امریکا کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ ریڈیو انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کا صفایا ہوچکا ہے، سمجھ نہیں آتا کہ مذاکرات کس سے کیے جائیں، تاہم مذاکرات کے لیے ایرانی قیادت کا موجود نہ ہونا کوئی بڑا مسئلہ نہیں۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران سے ضمانت چاہیے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتا تو اسے ’سر‘ کہہ کر مخاطب کرتا، لیکن وہ ایران کو ’سر‘ کہہ کر مخاطب کرنے والے نہیں ہیں۔دریں اثنا، ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے مطابق، سینٹ کام کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں ممکنہ آپریشنز پر بریفنگ دی۔
جہاں تک ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے حوالے کی بات ہے تو وہ واقعی اس لحاظ سے نہایت غیر معمولی اور اہم ترین پیش رفت ہے کہ دوسرے دورے میں وہ اکیلے ہی تہران نہیں گئے بلکہ اس موقع پر وہاں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن بھی ان کے ہمراہ تھے۔ یہ پیش رفت کئی اعتبار سے معنی خیز ہے۔ تین بڑے اور اہم ترین مسلم ممالک کے نمائندے ایک ہی میز پر بیٹھ کر ایک ایسے ملک کی قیادت سے ملے جو جنگ کی لپیٹ میں ہے۔ طویل عرصے تک تو یہ تصور بھی محال تھا کہ کسی بحرانی صورتحال میں اسلام آباد، ریاض اور انقرہ کے نمائندے ایک مشترکہ سفارتی وفد کی شکل میں تہران کا دورہ کریں گے مگر حالات نے سب کو یہ سمجھایا کہ موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کی اہمیت کیا ہے اور اس وقت پوری دنیا کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان کے حل کے لیے ان ممالک کا متحد اور یک جہت ہونا کس حد تک ضروری ہے۔
اس پس منظر میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ کہنا قابلِ توجہ ہے کہ ثالثی میں کام بگاڑنے والے طاقتور عناصر سرگرم ہیں۔ انھوں نے ان عناصر کے نام تو نہیں لیے مگر اشارہ بالکل واضح ہے۔ ہر جنگ میں کچھ فریق ایسے ہوتے ہیں جنھیں امن سے نقصان اور کشیدگی سے فائدہ پہنچتا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ مذاکرات کی میز سجنے سے پہلے ہی کوئی بیان، کوئی حملہ یا کوئی افواہ سارے کھیل کو خراب کر دے۔ پچھلے مہینوں میں ہم نے دیکھا کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی بات چیت امریکی صدر کی دھمکی آمیز گفتگو کے بعد تعطل کا شکار ہوئی اور ایرانی وفد اٹھ کر چلا گیا اور پھر قطر اور پاکستان کے ثالثوں کو درمیان میں آ کر معاملہ سنبھالنا پڑا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مذاکرات کا عمل کتنا نازک ہے اور اسے بگاڑنے کے لیے کسی بڑے سازشی منصوبے کی ضرورت نہیں، بس ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہی معاملات کو بگاڑنے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں قطر کے ثالثوں کا ایک پھر تہران پہنچنا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ جنگ کے شعلوں کو قابو کرنے کے لیے ثالثی کسی ایک ملک کے بس کی بات نہیں۔ پاکستان کے پاس سیاسی رسائی اور اعتماد کا سرمایہ ہے جبکہ قطر کے پاس تفصیلی مذاکرات کا تجربہ اور واشنگٹن و تہران دونوں سے رابطے کی صلاحیت ہے۔ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی اور اسلام آباد میں ہونے والی وہ براہِ راست ملاقات جو دہائیوں بعد امریکا اور ایران کے درمیان پہلی بڑی بیٹھک سمجھی گئی، اسی مشترکہ کاوش کا نتیجہ تھی۔ اس سب کے نتیجے میں ہی جون کے مہینے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے جو آج بھی امریکا-ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک اہم دستاویزات شمار کی جاتی ہے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ صدر ٹرمپ کا رویہ اس ساری صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔ ان کے متضاد بیانات کی وجہ سے صورتحال سدھرتے سدھرتے پھر بگاڑ کی طرف چلی جاتی ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ امریکی صدر ایسا جان بوجھ کر رہے ہیں کیونکہ اتنے اہم عہدے پر بیٹھا بندہ اتنا بے وقوف تو ہرگز نہیں ہو سکتا کہ وہ ایسے حساس معاملے پر اس قسم کے بیانات دے جن کی وجہ سے فریقین کے مابین اختلافات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں۔ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک صدر ٹرمپ کئی بار ایسے بیانات دے چکے ہیں جن کی وجہ سے بنی بنائی بات بگڑ گئی۔ یہ بات درست ہے کہ اس دوران ایران کی جانب سے بھی غیر لچک دار رویہ دیکھنے میں آیا ہے لیکن امریکی صدر کے بیانات صورتحال کو بگاڑنے میں بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ثالثی کی کوششیں واقعی کامیاب ہو سکیں گی؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے احتیاط کے ساتھ پُرامید ہونے کی بات کی ہے اور یہی بات سب سے اہم ہے۔ سفارت کاری میں خوش فہمی اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے جتنی مایوسی۔ ممکن ہے آنے والے ہفتوں میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک نیا بحران ان کوششوں کو پھر پیچھے دھکیل دے مگر ایک بات صاف دکھائی دے رہی ہے کہ اس جنگ کی وجہ سے پوری دنیا کا استحکام اور معیشت مسلسل ڈانواں ڈول ہے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کے بار بار تہران جانے، پاکستان کے ساتھ سعودی اور ترک نمائندوں کے دورۂ ایران اور قطر کی ثالثی کوششیں یہ سب اس امر کی گواہی ہیں کہ مسلم دنیا کے ذمہ دار حلقے اب بھی سمجھتے ہیں کہ مسائل کا حل گولے بارود میں نہیں بلکہ مذاکرات میں ہے۔
مصنف کے بارے میں
اداریہ نوائے وقت
اداریہ نوائے وقت اس پروفائل میں درج نام ہے۔ دستیاب معلومات میں ان کی زندگی، سرگرمیوں یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
اداریہ نوائے وقت. «امریکا-ایران کشیدگی اور پاکستان و دیگر ممالک کی ثالثی کی کوششیں۔.» اقبال فورم، 2 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53675.
تبصرے