مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

امریکہ، ایران کشیدگی کے تسلسل میں اقوام متحدہ سے وابستہ امن کی امید

اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ایران اور امریکہ کے مابین جاری بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی رابطے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ نیویارک میں کشیدگی کے باوجود سفارت کاری…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سالانہ اجلاس ایسے نازک عالمی حالات میں جاری ہے جب ایک طرف دنیا کو جنگوں، تنازعات اور طاقت کے استعمال نے گھیر رکھا ہے اور دوسری جانب اسی عالمی ادارے کی چھت کے نیچے امریکہ اور ایران کے مابین سفارتی رابطوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ یہ صورتِ حال امید افزا بھی ہے اور عالمی نظام کے لئے ایک بڑا امتحان بھی کیونکہ نیویارک میں مذاکرات کی میز سج رہی ہے جبکہ میدانِ جنگ میں میزائلوں کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ ایران اور امریکہ کے مابین حالیہ بالواسطہ مذاکرات میں اگرچہ دونوں جانب سے فاصلوں کا اعتراف کیا گیا ہے، تاہم سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گذشتہ روز جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران واشنگٹن انتظامیہ کے قریبی تعلقدار بِل گیٹس، بوسنیا صدارتی کونسل کے چئیرمین اور آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر سے ملاقاتوں میں اس امر کا اظہار کیا ہے کہ ہم نے امریکہ ایران کشیدگی ختم کرانے کے لئے اب تک امید کا دامن نہیں چھوڑا اور جنگ بندی کے لئے کوشاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، ہم انسانی وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی سلامتی اور مقدس مقامات کی حفاظت کے عزم کا اعادہ کیا اور برادر سعودی قیادت کو پیغام دیا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
بے شک پاکستان اس سے قبل بھی امریکہ ایران کشیدگی اور جاری جنگ ختم کرانے کے لئے فریقین کے مابین اعلیٰ سطح کے اسلام آباد مذاکرات کا اہتمام کر چکا ہے اور جنگ بندی کے لئے سفارتی رابطوں میں اہم کردار ادا کر چکا ہے اس لئے موجودہ بحران میں اسلام آباد کی یہ کاوشیں پاکستان کی علاقائی امن کے لئے ترجیحات کی عکاس ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے امریکی فوجی دباؤ اور ناکہ بندی میں کمی کے ساتھ مشروط کرنا بھی اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ کے ساتھ ساتھ مذاکرات کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی سطح کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ بل گیٹس سے ملاقات میں پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ بوسنیا و ہرزیگووینا کی صدارتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ڈینس بیچیرووچ سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ خطے کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اسی طرح وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات میں پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام اور آئندہ جائزے پر بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقاتیں اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ عالمی بحرانوں کے دوران پاکستان کو اپنے سفارتی اور معاشی مفادات کو پیش نظر رکھنا ہے۔ ایک طرف خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے امکانات پاکستان کے لئے براہ راست سلامتی اور اقتصادی خطرات پیدا کر رہے ہیں تو دوسری جانب عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون ملکی معیشت کے استحکام سے جڑا ہوا ہے چنانچہ پاکستان کی سفارت کاری میں امن، علاقائی استحکام اور اقتصادی مفادات کو باہم مربوط رکھنا ناگزیر ہے۔
دریں اثناء ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں مذاکرات کے لئے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے طاقت کی زبان قبول نہ کرنے کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ ایران کوئی دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے خلاف جارحیت کا دفاع کر رہا ہے۔ انہوں نے جوہری پروگرام کے حوالے سے بھی ایران کے حق سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا اور باور کرایا کہ ایٹم بم اسرائیل میں ہے اور اسے ڈھونڈا ایران میں جا رہا ہے۔ ہم نہ سرینڈر کریں گے نہ اپنے جوہری حق سے دستبردار ہوں گے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ کسی معاہدے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ امریکی دفاعی معاہدے پر کاربند رہنے کا بھی اعلان کیا۔ اس طرح ایک ہی وقت میں واشنگٹن اور تہران کے بیانات میں ایک دوسرے کے لیئے جارحانہ لہجہ بھی موجود ہے اور مذاکرات کی گنجائش بھی رکھی جا رہی ہے۔ اسی پس منظر میں سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے بارے میں وزیراعظم شہباز شریف کا دوٹوک پیغام بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب پر حوثی باغیوں کے حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لئے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔ بے شک حرمین شریفین کی سلامتی پوری امت مسلمہ کے مذہبی جذبات سے وابستہ ہے اور پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو ہمیشہ خصوصی اہمیت دیتا آیا ہے۔ پاکستان سعودی مشترکہ دفاعی معاہدہ اور مکہ مشترکہ معاہدہ اس کی بہترین مثالیں ہیں تاہم اصل سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ اس تمام صورتحال میں کیا کردار ادا کر رہا ہے اور کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔ جس ادارے کا بنیادی مقصد ہی بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ اور ریاستوں کے مابین تنازعات کا پرامن حل ہے، اس کے سامنے اس خطہِ ارضی پر آج ایک سے زیادہ جنگیں اور بحران موجود ہیں۔ فلسطین میں جاری اسرائیلی بربریت، ایران امریکہ کشیدگی، یمن اور خلیج کی صورتحال، یوکرین کا تنازعہ، پاکستان کی سلامتی کے خلاف جاری بھارتی اور افغان طالبان رجیم کی سازشیں اور دیگر علاقائی قضّیئے عالمی نظام کی کمزوریوں کو اجاگر کر رہے ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بے شک دنیا کے 193 ممالک کی نمائندگی اس امر کا موقع فراہم کرتی ہے کہ کسی بھی خطہ میں جنگ کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اجتماعی سفارت کاری کو مؤثر بنایا جائے۔
آج 25 ستمبر کو وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا جنرل اسمبلی سے خطاب اسی وسیع تر تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف یہی رہا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہونا چاہئے۔ وزیراعظم اگر آج کشمیر، فلسطین، علاقائی سلامتی اور جنگوں کے انسانی و معاشی اثرات کے بارے میں کُھل کر پاکستان کا مؤقف عالمی برادری کے سامنے رکھتے ہیں تو اس کے ساتھ ہی امریکہ، اسرائیل، بھارت اور دیگر تمام ریاستوں کے معاملات پر بھی ان کی گفتگو بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور مصدقہ حقائق کے تناظر میں ہوگی جس سے ان کے خطاب کی سفارتی اہمیت مزید اجاگر ہو جائے گی۔آج ضرورت کسی ایک فریق کو جنگ میں فتح دلانے کی نہیں بلکہ جنگ کو رکوانے کے لئے مؤثر سفارتی کردار ادا کرنے کی ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا جاری رہنا بذاتِ خود اس حقیقت کی علامت ہے کہ بالآخر مسائل کا حل مذاکرات کی میز پر ہی تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اقوام متحدہ کے پاس بھی آج اپنے چارٹر کی روح کے مطابق سفارتی عمل کو تقویت دینے اور جنگ زدہ خطوں میں پائیدار امن کے لئے مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع موجود ہے۔ جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ، دونوں کے لئے یہی امتحان لے کر آیا ہے کہ کیا دنیا طاقت کے تصادم سے نکل کر مذاکرات، قانون کی عملداری اور اجتماعی امن کی طرف واپس آسکتی ہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو اقوام متحدہ کا داؤ پر لگا تشخص اور وقار بھی بچ جائے گا اور جنگوں کے خوف میں ڈوبی انسانیت کو بھی قرار آ جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ. «امریکہ، ایران کشیدگی کے تسلسل میں اقوام متحدہ سے وابستہ امن کی امید.» اقبال فورم، 26 ستمبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81%d8%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7/.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ. (26 ستمبر 2026). امریکہ، ایران کشیدگی کے تسلسل میں اقوام متحدہ سے وابستہ امن کی امید. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%db%81%d8%8c-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%da%a9%db%92-%d8%aa%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔