مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

اقوام متحدہ میں دنیا کی بدلتی ہوئی آواز

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکیاسیویں اجلاس میں عالمی رہنماؤں کے خطاب کے دوران مشرق وسطیٰ اور ایران-امریکہ کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی گئی، کیونکہ اس تنازع سے آبنائے ہرمز…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اکیاسیواں اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا محض مختلف جنگوں اور بحرانوں کا سامنا کر رہی اور عالمی نظام کی بنیادیں سوالات کی زد میں ہیں۔ اس اجلاس کا مرکزی موضوع ہی ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام اور ایسی اقوام متحدہ جو سب کے لیے مؤثر ہو‘‘ رکھا گیا ہے۔ مگر نیویارک میں جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں کی تقاریر سے یہ حقیقت زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ دنیا کا اصل بحران اعتماد کا ہی نہیں، طاقت کے استعمال، بین الاقوامی قانون کی بالادستی اور عالمی انصاف کے دوہرے معیار کا بھی ہے۔ اس بحث میں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بن گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز اور توانائی کی عالمی منڈی پر اس کے اثرات، اسرائیل اور فلسطین کا تنازع اور غزہ میں انسانی المیہ ایسے موضوعات ہیں جن سے شاید ہی کوئی اہم عالمی رہنما اپنا خطاب الگ رکھ سکا ہو۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکراں نے بھی مشرق وسطیٰ کو اپنی گفتگو کا اہم حصہ بنایا اور واضح کیا کہ خطے کے بحران کے اثرات صرف سیاسی نہیں بلکہ عالمی تیل اور گیس کی قیمتوں تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن اس اجلاس کی سب سے اہم بات شاید یہ نہیں کہ کس رہنما نے اسرائیل پر کیا تنقید کی یا ایران کے بارے میں کیا موقف اختیار کیا، بلکہ یہ ہے کہ فلسطینی مسئلے پر عالمی سطح پر گفتگو کا لہجہ کس حد تک تبدیل ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنی افتتاحی تقریر میں کہا کہ دنیا کی دراڑیں گہری ہوتی جا رہی ہیں، جنگوں کے نتیجے میں شہری نشانہ بن رہے ہیں، انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔گوتریس نے غزہ کے حالات پر غیر معمولی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ہونے والی ہلاکت اور تباہی کا پیمانہ ان کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے مشاہدہ کیے گئے حالات میں بے مثال ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے متعلق مغربی کنارے میں تشدد، بے دخلی اور بستیوں کی توسیع کو بھی امن کے راستے میں رکاوٹ قرار دیا اور خبردار کیا کہ دو ریاستی حل کو ہماری آنکھوں کے سامنے ختم ہونے نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں ایک اہم تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں فلسطین کا مسئلہ اگرچہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہمیشہ موجود رہا، مگر اب یہ محض عرب یا مسلم دنیا کا مطالبہ نہیں رہا۔ یورپ کے متعدد ممالک بھی دو ریاستی حل، فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیلی آبادکاری کے خاتمے کو اپنی سفارتی ترجیحات میں نمایاں کر رہے ہیں۔ فرانس نے پہلے ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے اور برطانیہ اور کینیڈا کے ساتھ مل کر مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے خلاف اقدامات کا اعلان بھی کیا ہے۔اس صورتحال میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی سے تقریر یقیناً سب کی توجہ کا مرکز رہی۔ امریکہ عالمی سیاست، اسرائیل اور ایران کے معاملے میں فیصلہ کن اثر رکھنے والی طاقت ہے، اس لیے امریکی صدر کا موقف ہمیشہ عالمی سفارت کاری کے رخ پر اثر ڈالتا ہے۔ تاہم اس اجلاس کی مجموعی فضا یہ بتا رہی ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک اب محض کسی ایک بڑی طاقت کے موقف کو عالمی اتفاقِ رائے کا متبادل سمجھنے کے لیے تیار نہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، اردن کے شاہ عبداللہ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت خطے کے رہنماؤں نے بھی فلسطین اور مشرق وسطیٰ کے بحران کو اپنی گفتگو کا اہم حصہ بنایا ہے۔ ان تقاریر میں ایک مشترک تشویش نمایاں ہے کہ اگر غزہ کا بحران، اسرائیل فلسطین تنازع اور ایران امریکہ کشیدگی کو محض عسکری طاقت سے حل کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے اثرات پورے خطے سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔ توانائی، تجارت، سمندری راستے اور عالمی معیشت پہلے ہی اس کشیدگی کے دباؤ میں ہیں۔خاص طور پر ایران اور امریکہ کی کشیدگی اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ محض دو ملکوں کا تنازع نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں کسی بڑے عسکری تصادم کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات یورپ، ایشیا اور بالخصوص توانائی درآمد کرنے والی معیشتوں تک پہنچیں گے۔ فلسطین کے ساتھ کشمیر کا مسئلہ بھی پاکستان اور خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری تنازعات کا ایک بڑا سوال یہی ہے کہ کیا بین الاقوامی قانون سب کے لیے یکساں ہے؟ اگر اقوام متحدہ کی قراردادیں، عالمی عدالتوں کے فیصلے اور انسانی حقوق کے اصول بعض معاملات میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں تو پھر ان کا اطلاق دوسرے تنازعات میں بھی اسی سنجیدگی سے ہونا چاہیے۔ فلسطینیوں اور کشمیریوں کے مصائب کا ذکر اسی وسیع تر سوال کو سامنے لاتا ہے کہ عالمی نظام کی ساکھ صرف اس وقت برقرار رہ سکتی ہے جب قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لیے یکساں معیار بنے۔ تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقاریر اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا کے رہنما امن، قانون اور انسانی حقوق کی بات کر سکتے ہیں، مگر اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب انہی اصولوں کو اپنے اتحادیوں، مفادات اور سٹریٹجک شراکت داریوں کے مقابل کھڑا کرنا پڑے۔ فلسطین کے معاملے میں یہی تضاد سب سے زیادہ نمایاں ہے۔اگر اقوام متحدہ صرف تشویش کے اظہار کا فورم بن کر رہ جائے اور جنگیں میدان میں طاقت کے ذریعے طے ہوتی رہیں تو عالمی ادارے پر اعتماد مزید کم ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ

اداریہ

یہ تحریر اداریے کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس کے کسی انفرادی مصنف کے بارے میں مزید معلومات درج نہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ. «اقوام متحدہ میں دنیا کی بدلتی ہوئی آواز.» اقبال فورم، 26 ستمبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b2/.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ. (26 ستمبر 2026). اقوام متحدہ میں دنیا کی بدلتی ہوئی آواز. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%d9%86%db%8c%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d9%84%d8%aa%db%8c-%db%81%d9%88%d8%a6%db%8c-%d8%a2%d9%88%d8%a7%d8%b2/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔