امریکا-ایران کشیدگی اور اقوامِ متحدہ کا جنرل اسمبلی اجلاس
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دھمکیوں کا تبادلہ عالمی امن کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جہاں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت و حکومت امن، ترقی اور باہمی تعاون کے وعدے دہرا رہے ہیں۔ عین اسی وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیانات کی جنگ اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ عالمی امن کے بارے میں فکرمند ہر شخص کو تشویش لاحق ہے۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ امریکا دوبارہ حملہ کر سکتا ہے، تہران جلد ہار مان جائے گا اور اس کے بعد تیل سستا ہو جائے گا۔ دوسری جانب، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اعلان کر رہے ہیں کہ ایران مر جائے گا مگر ذلت کا طوق قبول نہیں کرے گا۔ اس خاص موقع پر یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ اقوامِ متحدہ اپنے قیام کے بنیادی مقصد کی کسوٹی پر ایک بار پھر پرکھا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ بھی ایک عجیب شخصیت ہیں، ایک ہی سانس میں امریکا کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے حملے کے امکان کی بات بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ رواں ہفتے مذاکرات متوقع ہیں۔ یہ دو رخی حکمتِ عملی سفارتی زبان میں دباؤ کی پالیسی کہلاتی ہے، یعنی ایک ہاتھ سے مذاکرات کی دعوت اور دوسرے سے دھمکی۔ سوال یہ ہے کہ کیا دھمکی کے سائے میں ہونے والے مذاکرات کبھی پائیدار نتیجہ دے سکتے ہیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ فریقین برابری کی سطح پر بیٹھیں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں تو معاہدے دیرپا ہو سکتے ہیں۔ دباؤ میں کیے گئے سمجھوتے وقتی ثابت ہوتے ہیں اور ان کے بطن سے نئی کشیدگی جنم لیتی ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ خطے کی موجودہ صورتحال برسوں کی پابندیوں، جوہری پروگرام پر تنازعہ، عدم اعتماد کی طویل تاریخ اور علاقائی طاقتوں کی کشمکش سے پیدا ہوئی ہے۔ ہر فریق دوسرے کو خطرہ سمجھتا ہے اور اسی خوف کے باعث اپنی عسکری صلاحیت بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اگر فریقین کی کشیدگی عالمی امن کی تباہی پر منتج ہوتی ہے تو اقوامِ متحدہ کا وجود برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔ اقوامِ متحدہ کا منشور اس کے قیام کا مقصد آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے بچانا بتاتا ہے مگر گزشتہ عشروں کے دوران مختلف خطوں میں جو جنگی حالات پیدا ہوئے ان سے اس ادارے کی کارکردگی پر جو سوالات اٹھتے رہے ہیں وہ نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ فلسطین کا مسئلہ ہو یا کشمیر کا، عراق اور افغانستان کی جنگیں ہوں یا دیگر تنازعات، سلامتی کونسل کے دائمی ارکان کے وِیٹو اختیار نے بارہا انصاف کا راستہ روکا ہے۔ جب طاقتور ممالک اپنے مفاد کے مطابق قراردادیں منظور یا مسترد کرائیں گے تو کمزور ممالک کا اقوامِ متحدہ پر اعتماد کیسے قائم رہے گا؟
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی موقع ہے کہ تمام بین الاقوامی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہے۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ اگر عالمی رہنما اس اجتماع کو محض تقاریر اور رسمی ملاقاتوں تک محدود رکھیں گے تو تاریخ انھیں معاف نہیں کرے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری تیز کی جائے، اعتماد سازی کے اقدامات پر اتفاق ہو اور امریکا اور ایران دونوں کو یہ باور کرایا جائے کہ ان کے درمیان ہونے والی جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔ سیکرٹری جنرل اور بااثر ممالک کو چاہیے کہ فوری طور پر فریقین کے مابین ثالثی کے لیے مؤثر میکانزم تشکیل دیں۔ اس ضمن میں مسلم دنیا کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ایران مسلم امہ کا اہم رکن ہے اور اس کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ خلیجی ریاستیں، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک اپنے باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر کشیدگی کم کرانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کا کردار اس معاملے میں خاص اہمیت کا حامل ہے ۔ ایران ہمارا ہمسایہ اور برادر مسلم ملک ہے جبکہ امریکا کے ساتھ بھی ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ پاکستان دونوں کے ساتھ رابطے کی پوزیشن میں ہے اور اپنی سفارتی صلاحیت سے مفاہمت کا پل بننے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں کسی بھی بڑی جنگ کے اثرات ہماری معیشت اور سلامتی پر براہِ راست مرتب ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، مہاجرین کی ممکنہ آمد، سرحدی صورتحال اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں پر اثرات یہ سب ایسے خدشات ہیں جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ایک طرف سفارتی سطح پر امن کی کوششوں میں فعال کردار ادا کرے اور دوسری جانب کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیاری رکھے۔
امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں ایک نہایت اہم مسئلہ یہ ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ ہے اور اس خطے میں کسی بھی محاذ آرائی کا مطلب تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہے جو صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہے کہ جنگ کے بعد تیل سستا ہو جائے گا۔ ترقی پذیر ممالک پہلے ہی مہنگائی اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہیں۔ توانائی کا نیا بحران ان کی معیشتوں کو مزید تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ یوں یہ جنگ صرف دو ملکوں کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اس کے اثرات ہر اس گھر تک پہنچ رہے ہیں جہاں چولھا جلانا پہلے ہی کٹھن ہے۔ امریکا اور ایران دونوں کو یہ بات سمجھنا ہو گی کہ محاذ آرائی کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے بھی امن کی راہ اختیار کی جا سکتی ہے۔ واشنگٹن کو چاہیے کہ وہ پابندیوں، دھمکیوں اور طاقت کے استعمال کی زبان ترک کر کے برابری کی بنیاد پر مذاکرات کرے۔ اسی طرح، تہران کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام اور علاقائی پالیسیوں کے بارے میں بین الاقوامی برادری کے خدشات دور کرنے کے لیے شفافیت اور لچک کا مظاہرہ کرے۔
اس صورتحال اور جنرل اسمبلی اجلاس کے تناظر میں آج اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک واضح انتخاب ہے، یا تو وہ اپنے منشور کے مطابق عالمی امن کی ضامن بن کر ابھرے یا پھر بے عملی کے باعث اپنی افادیت کھو دے۔ امریکا ایران کشیدگی سمیت تمام بین الاقوامی اور علاقائی تنازعات، خواہ وہ فلسطین یا کشمیر کا مسئلہ ہو یا کسی بھی اور خطے کا تنازعہ، اس ادارے کی فوری اور سنجیدہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ بین الاقوامی رہنماؤں کو چاہیے کہ نیویارک میں جمع ہونے کے اس موقع کو تاریخ ساز بنائیں اور دھمکیوں اور جوابی دھمکیوں کے اس سلسلے کو مذاکرات کی میز پر ختم کرائیں۔ دنیا مزید کسی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی اور اگر آج امن کو موقع نہ دیا گیا تو کل ہمیں شاید پچھتانے کا موقع بھی نہ ملے۔
مصنف کے بارے میں
اداریہ نوائے وقت
اداریہ نوائے وقت اس پروفائل میں درج نام ہے۔ دستیاب معلومات میں ان کی زندگی، سرگرمیوں یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
اداریہ نوائے وقت. «امریکا-ایران کشیدگی اور اقوامِ متحدہ کا جنرل اسمبلی اجلاس.» اقبال فورم، 30 ستمبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%d9%85%d8%b1%db%8c%da%a9%d8%a7-%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%b4%db%8c%d8%af%da%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%82%d9%88%d8%a7%d9%85%d9%90-%d9%85%d8%aa%d8%ad%d8%af%db%81-%da%a9/.
تبصرے