مرکزی مواد پر جائیں

امریکی وسط مدتی انتخابات: کیا جشن منائیں؟

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کو برتری مل گئی ہے، جس کی بنیادی…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

امریکی وسط مدتی انتخابات: کیا جشن منائیں؟

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے جن میں صدر ڈونلڈٹرمپ کو منہ کی کھانی پڑی۔ ان کی جماعت ری پبلکن کو بری طرح شکست ہوئی جبکہ ڈیموکریٹس تاریخی فتح سے ہمکنار ہوئے ۔ بعض ریاستوں میں ری پبلکن کو نوے سال بعد شکست ہوئی لیکن جوہری تبدیلی یہ آئی کہ کئی سال بعد سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں ٹرمپ مخالف ڈیموکریٹس کو برتری حاصل ہوئی۔ ہم مسلمانوں کیلئےسب سے دلچسپ مقابلہ امریکی ریاست مشی گن میں دیکھنے کو ملا ۔ جہاں ڈیموکریٹ محمد السید اور ری پبلکن مائیک روجرز(Mike Rogers) کا مقابلہ تھا ۔مصری نژاد محمد السید کے مقابلے میں مائیک روجرز نے ہر حربہ استعمال کیا۔ انہوں نے انہیں مسلمان انتہاپسند کہا۔ وہ انہیں اسرائیل دشمن قرار دیتے رہے ۔

غرض انہوں نے کوئی طعنہ اور الزام نہیں چھوڑا اور ہر حوالے سے محمد السید کو بدنام کرنے اور ووٹرز کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی ۔ صرف یہ نہیں بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس مہم میں بھرپور حصہ لیا۔ محمد السید کے نام کا مذاق اڑاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا اصل نام محمد ہے ۔ گراوٹ کی انتہا کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ وہ مصر کے اخوان المسلمون سے وابستہ ہیں اور اگر ان کو اختیار مل گیا تو وہ امریکہ کو انتہاپسندوں کا گڑھ بنادیں گے ۔ مگر ان دونوں کے یہ حربے کام نہ آئے اور محمد السید بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئے ۔ مجھے سب سے زیادہ مزہ ان کی فتح کا خطاب سنتے ہوئے آیا۔ انہوں نے آغاز اس سے کیا کہ We did it یعنی ہم نے کر دکھایا اور پھر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرا نام عبدالرحمان محمد السید ہے اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کو میرے نام کی ادائیگی میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ وہ مجھے صرف مسٹر سینیٹر کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج تک میں اپنی تقریروں میں ان شا اللہ کہا کرتا تھا لیکن اب میں نے اس لفظ کو الحمد للہ سے بدل دیا اور پھر انہوں نے زورداد قہقہہ لگایا جس پر مجمع نے زبردست داد دی۔ تقریر کے آخر میں نائب صدر جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ جے ڈی ! اب جنوری میں تم لوگوں کو مجھے سینیٹر کا حلف دلوانا ہوگا۔ محمد السید کی باڈی لینگویج اور طرز تقریر کو دیکھتے ہوئے یوں معلوم ہوا ہے کہ جیسے بارک اوبامہ بول رہے ہوں اور ہوسکتا ہے کہ اوبامہ ان کے آئیڈیل ہوں اورمستقبل میں ان کی نظر صدارت کے منصب پر ہو۔ وہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ وہ صدر بن سکتے ہیں یا نہیں لیکن سردست انہوں نے پہلے مسلمان سینیٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا تاہم ان کی ہوشیاری ہے کہ تقریر ایسی کی کہ جس میں سب امریکیوں کیلئے یکساں پیغام تھا۔ یعنی ان کے خلاف ان کے عقیدے اور نام کا کارڈ بری طرح استعمال کیا گیا لیکن وہ خود امریکیوں کو ان بنیادوں پر نہیں تولتے ۔

امریکہ میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں کہ ایک صدر کے ہوتے ہوئے ان کی پارٹی وسط مدتی انتخابات ہار جائے ۔ اس سے قبل بھی کئی صدور کی موجودگی میں انکی پارٹی ہار چکی ہے لیکن اب کی بار ڈونلڈ ڈرمپ کی جماعت کی ہار اس لئے شدید تھی کہ اس کے بعد دونوں ایوانوں میں ان کی جماعت ری پبلکن پارٹی اکثریت سے محروم ہوگئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس دونوں نے شکست تسلیم کرتے ہوئے ایران جنگ کو اپنی ہار کا بنیادی عامل قرار دیا لیکن جے ڈی وینس نے زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں اپنی ہار کا تفصیل کے ساتھ تجزیہ کیا ۔ اپنے تجزیے میں انہوں نے لکھا کہ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم مہنگائی کو کنٹرول کریں۔

امریکہ کو پہلی ترجیح بنائیں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کریں۔ لیکن اگر مہنگائی اور ایران جنگ کو بھی غور سے دیکھیں تو یہ دونوں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی پیداوار ہیں ۔ہم جانتے ہیں کہ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کے ورغلانے یا پھر دونوں ملکوں کے اسپیشل تعلقات کی وجہ سے امریکہ نے ایران پر حملہ کیا اور پھر اگر یورپ یا امریکہ میں مہنگائی آئی ہے تو اس کی وجہ بھی ایران جنگ ہے ۔ اسی طرح ٹرمپ کے پہلے دور میں امریکہ فرسٹ کی پالیسی اپنائی گئی لیکن اب اگر امریکہ ثانوی بن گیا تو وہ اسرائیل کی وجہ سے بن گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اب کی بار جو پالیسیاں اپنائیں اس کی وجہ سے کم و بیش دنیا کا ہر ملک متاثر ہوا ۔ایران اور مشرق وسطیٰ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ نیٹو کے بارے میں انکی سوچ اور ایران جنگ کے باعث مہنگائی کی وجہ سے یورپ متاثر ہوا ۔ کینیڈا ملنے والی دھمکیوں کی وجہ سے ٹرمپ سے خوش نہیں تھا ۔ لاطینی امریکہ کے ممالک الگ سے ان سے خوفزدہ تھے ۔ یوں ان کی اس تاریخی شکست پر ہر طرف خوشی کا سماں ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی مسلمانوں یا پاکستان کی جھولی میں کوئی خیر بھی آگرے گی؟ تو اس کا جواب نفی میں ہے ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایران کے ایشو پر کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس کے بعد بھی امریکہ کے صدر ہوں گے اور یہ ان کا اختیار ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم کرتے ہیں ، جنگ شروع کرتے ہیں اور موجودہ صورتحال برقرار رکھتے ہیں کہ آبنائے ہر مز کی ناکہ بندی ہواور جنگ یا امن کے بارے میں کنفیوژن برقرار ہو۔دوسری بات یہ ہے کہ نئے سینیٹرز اور ایوان نمائندگان اگلے سال جنوری میں حلف اٹھائیں گے اور تب تک امریکہ میں حالات جوں کے توں رہیں گے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی بے وقوفیاں اپنی جگہ لیکن پاکستان کے حساب سے ہمیں یہ امر بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ روایتی طور پر ڈیموکریٹس انڈیا جبکہ ری پبلکن پاکستان کے نسبتاًحامی سمجھے جاتے ہیں ۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

سلیم صافی. «امریکی وسط مدتی انتخابات: کیا جشن منائیں؟.» اقبال فورم، 7 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54496.

حوالہ دینے کے انداز

سلیم صافی. (7 نومبر 2026). امریکی وسط مدتی انتخابات: کیا جشن منائیں؟. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=54496

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔