مرکزی مواد پر جائیں

امریکہ: وسط مدتی انتخابات

امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کے سیاسی مستقبل اور پالیسیوں کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ ٹرمپ کی دورِ حکومت میں صدارتی اختیارات میں اضافہ ہوا اور…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

امریکہ کے وسط مدتی انتخابات

سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر مشتمل امریکی پارلیمان یعنی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات منگل کو ہورہے ہیں جو صدر ٹرمپ کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کن ہونگے۔ امریکی ایوان زیریں میں 435 اور ایوان بالا میں 100ارکان ہوتے ہیں۔ صدارتی الیکشن ہر چار سال اور پارلیمانی انتخابات ہر دوسال بعدکرائے جاتے ہیں۔ صدر کے عہدے کے دوسال کی تکمیل پر ہونیوالے انتخابات وسط مدتی کہلاتے ہیں۔ دو سال بعد ایوان زیریں یا کانگریس کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی 35 نشستوں پر الیکشن ہوتا ہے ۔ سینیٹ کے رکن کی مدت چھ سال ہے۔ تین نومبر ہی کو امریکہ کے بیشتر حصوں میں رائے دہندگان ریاستی سطح کے عہدیداروں کا انتخاب بھی کریں گے۔ کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن میں گورنر کے عہدے کیلئے ہونیوالے انتخابات خاص طور پر اہم قرار دیے جارہے ہیں۔ امریکی پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں فی الوقت صدر ٹرمپ کی ری پبلکن پارٹی اکثریت میں ہے جسکی بنا پر وہ اپنی ابتدائی دوسالہ مدت کے دوران صدارتی اختیارات میں غیر معمولی اضافہ کرانے میں کامیاب رہے ہیں اور ایران جنگ سمیت کئی معاملات پر اپوزیشن کی جانب سے صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں ۔تاہم وسط مدتی انتخابات کے نتائج یہ فیصلہ کریں گے کہ پارلیمان پر اب حکمراں پارٹی کا کنٹرول ہوگا یا اپوزیشن کا۔

انتخابی نتائج سے یہ بھی واضح ہوگا کہ امریکی رائے دہندگان ٹرمپ کی مقامی اور بین الاقوامی پالیسیوں کے کس حد تک حامی یا مخالف ہیں۔جہاں تک رائے عامہ کے حالیہ جائزوں کا تعلق ہے تو وہ بالعموم ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی کی نشان دہی کرتےہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ،زندگی کی سہولتوں میں کمی اور مشکلات میں اضافہ ہے۔ لوگوں نے ٹرمپ کو ان کے جن انتخابی نعروں پر ووٹ دیے تھے ان میں دنیا سے جنگوں کا خاتمہ ، عالمی امن کو یقینی بنانا اورامریکی عوام کو زندگی کی بہتر سہولتیں فراہم کرنا خاص طور پر قابل ذکر ہیں لیکن اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹرمپ نے امن کے پیغامبر کے بجائے جنگ کے دیوتا کا روپ دھار لیا۔ گزشتہ سال مئی میں انہوں نے پاک بھارت جنگ بند کرانے میں ضرور مثبت کردار ادا کیا لیکن کچھ ہی دن بعد ماہ جون اور پھر اس سال فروری میں تہران سے امن مذاکرات کے دوران ہی اسرائیل سے ملی بھگت کرکے ایران کے خلاف پرُزور جارحیت شروع کردی۔ رواں سال جنوری میں وینزویلا کے صدر کو کمانڈوایکشن کرکے ان کی خواب گاہ سے گرفتار کرلیا اور مفتوحہ ملک کے تیل کے وسیع ذخائر پر قابض ہوگئے۔ ان ہی دنوں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ دنیا کے جس ملک پر چاہیں اسی طرح حملہ آور ہوسکتے ہیں اور اس عمل سے انہیں ان کے اپنے دماغ کے سوا کوئی نہیں روک سکتا۔ ایران کے تیل پر قبضے بلکہ پورے ملک اور ایرانی تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹاڈالنے کے عزائم کا اظہار بھی ان کی جانب سے ببانگ ِدُہل کیا جاتا رہا لیکن ایرانی قیادت اور عوام نے بے مثال عزم و ہمت اور شجاعت و خودداری کا ثبوت دیا اور اپنی آزادی و خودمختاری کا اس طرح دفاع کیا جو اسرائیلی و امریکی قیادت سمیت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔

صدر ٹرمپ کی حد سے بڑھی اسرائیل نوازی اور غزہ کے قصاب نیتن یاہو کی اندھی حمایت کا جو مظاہرہ وہ ان دوبرسوں میں کرتے رہے وہ بھی ان کی مقبولیت میں کمی کا ایک بڑا سبب ہے۔ امریکی عوام نے انہیں قومی پالیسیوں کے حوالے سے امریکہ فرسٹ کے سلوگن پر ووٹ دیا تھا لیکن اب امریکہ میں یہ شکایت عام ہے کہ انہوں نے اسرائیل فرسٹ کی پالیسی اپنا لی ہے۔ ملک بھر میں ایندھن، خوراک، رہائش اور صحت کی سہولتوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اصل سبب ٹرمپ کی یہی پالیسی ہے۔ ان حوالوں سے اپنی مقبولیت میں کمی کا تدارک صدر ٹرمپ اور ان کی پارٹی مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کی حکمت عملی کے ذریعے کرنے کی کوشش کررہی ہے حالانکہ گزشتہ صدارتی الیکشن میں امریکی مسلمانوں کی اکثریت نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔ اس کی وجہ صدر جوبائیڈن کی غزہ پر اسرائیل نواز پالیسی تھی لیکن ٹرمپ نے اس معاملے میں جوبائیڈن کو کوسوں پیچھے چھوڑ دیا ہے جسکی بنا پر ڈیموکریٹس کی جانب مسلمانوں کا جھکاؤ نمایاں ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی کسی ایسی مہم کا حصہ نہیں جس کا مظاہرہ ری پبلکن پارٹی کر رہی ہے۔ امریکی مسلمانوں نے اس صورتحال کو بدلنے کیلئے ملکی سیاست میں زیادہ سرگرم ہونے کا راستہ اپنایا ہے۔ نیویارک میں مسلمان میئر کے انتخاب کے بعد پارلیمانی الیکشن میں بھی مسلم کمیونٹی بہت متحرک ہے۔مسلم نیٹ ورک ٹی وی کے مطابق کم از کم51 مسلمان 23ریاستوں میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

حال ہی میں سابق ڈیموکریٹ صدر بل کلنٹن نے ایک اجتماع سے خطاب میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی مذمت کرتے ہوئے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیا جس کا امریکی مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا ہے۔ کلنٹن کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے پندرہ سال کی عمر میں پورے قرآن کا مطالعہ کیا ہے۔ اپنے سامعین کو انہوں نے بتایا کہ قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قومیں اور قبیلے انسانوں کی پہچان کی خاطر بنائے ہیں،ان کی بنیاد پر کسی سے نفرت روا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے سخت نالاں ہیں کہ مسلمانوں کو صرف ان کے دین کی وجہ سے نفرت کا نشانہ بنایا جاتاہے۔ مسلمانوں کے معاملے میں ڈیموکریٹس کا بہتر رویہ مسلمان ووٹروں میں انکی مقبولیت بڑھانے کا سبب بنا ہے جسکی بنا پر رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی مسلمانوں کی اکثریت ری پبلکن سے بیزار اور ڈیموکریٹس سے اچھی امیدیں رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ان حقائق کی بنیاد پر توقع ہے کہ وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کی اندھی اسرائیل نوازی اور جنگ جویانہ پالیسیوں کو کنٹرول کرنے کا ذریعہ بنیں گے اور تیسری صدارتی میعاد کیلئے امریکی پارلیمان میں قانون سازی ان کیلئے بہت مشکل ہوگی۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

ثروت جمال اصمعی. «امریکہ: وسط مدتی انتخابات.» اقبال فورم، 2 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53802.

حوالہ دینے کے انداز

ثروت جمال اصمعی. (2 نومبر 2026). امریکہ: وسط مدتی انتخابات. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53802

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔