ایران پر زمینی حملے کی تیاری مکمل
امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ غیر متوقع زمینی کارروائی کی خبروں نے واشنگٹن کے سامنے تہران کے لیے سر تسلیمِ خم کرنے یا مہلک معاشی و…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
امریکہ کے اندرونی سیاسی منظرنامے اور مشرقِ وسطیٰ کے زلزلہ خیز حالات نے دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ واشنگٹن کے سیاسی و عسکری ایوانوں سے چھن کر آنے والی خبروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف ایک غیر متوقع زمینی کارروائی کا اشارہ دیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تہران کے مستقبل کے حوالے سے واشنگٹن میں حتمی فیصلے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔امریکہ کی اس ممکنہ حکمت عملی نے ایران کے سامنے دو ہی راستے چھوڑے ہیں: یا تو وہ امریکی مطالبات کے آگے مکمل سرتسلیمِ خم کرتے ہوئے سرنڈر کر دے، یا پھر ایک ایسی ہمہ گیر عسکری و معاشی تباہی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائے جو اس کے وجود، اقتدار اور جغرافیائی سرحدوں کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔امریکہ کے اس سخت اور جارحانہ رویئے کے بعد تہران نے بھی اپنے روایتی انداز کے برعکس سنجیدہ قدم اٹھاتے ہوئے اپنی دفاعی ڈھال کو حرکت میں دے دیا ہے۔ ایران نے اپنی باقاعدہ فوج (آرٹش) کے 4 لاکھ 20 ہزار فوجیوں کو بیرکوں سے نکال کر سرحدوں پر منتقل کر دیا ہے اور ‘کوڈ 100’ نافذ کر دیا ہے۔ عسکری زبان میں کوڈ 100 کا نفاذ اعلیٰ ترین جنگی حالت کی علامت ہے، جس کا مطلب چھٹیاں منسوخ کرنا، فضائی دفاعی نظام کو الرٹ کرنا اور بیلسٹک میزائل یونٹس کو فائرنگ کے لیے تیار رکھنا ہے۔ تہران کا یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں کو صرف گیدڑ بھبکی نہیں سمجھ رہا۔ایرانی فوج کی اس پیش قدمی کا اصل مرکز ملک کے جنوب میں واقع مکران کی طویل ساحلی پٹی ہے۔ تہران کے ملٹری پلانرز جانتے ہیں کہ اگر امریکی بیانات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو امریکہ کے لیے ایران میں داخل ہونے کا سب سے آسان راستہ سمندر ہی ہو سکتا ہے۔ ایران نے اپنی باقاعدہ عسکری طاقت کی اہم ترین فورسز کو فرنٹ لائن دفاعی مورچوں میں منتقل کر دیا ہے۔ ان یونٹس میں ‘تکاور’ (ایرانی سپیشل فورسز)، بکتر بند گاڑیوں سے لیس تیز رفتار بریگیڈز اور بھاری آرٹلری شامل ہیں۔ مکران کا علاقہ مغرب میں آبنائے ہرمز سے لے کر مشرق میں پاکستان کی سرحد تک پھیلا ہوا ہے، جہاں چاہ بہار، جاسک اور کونارک جیسے نازک شہر اور بندرگاہیں واقع ہیں۔ ایرانی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ ترکی کے دشوار گزار پہاڑوں یا عراق کے پیچیدہ راستوں کو منتخب کرنے کی حماقت کبھی نہیں کرے گا۔ اس کا اصل ہدف سمندر کے راستے حملے کے بعد کسی ساحلی شہر پر قبضہ کر کے ہوائی اڈہ قائم کرنا اور بکتر بند گاڑیاں اتارنا ہو سکتا ہے اگر دونوں ممالک میں زمینی معرکہ برپا ہوتا ہے تو وہ کیسا دکھائی دے گا؟ عسکری تجزیہ کاروں کے نزدیک پہلا منظرنامہ ‘محدود ساحلی پیش قدمی’ ہو سکتا ہے۔ امریکی فوج تہران کی طرف ڈائریکٹ مارچ کرنے کا رسک کبھی نہیں لے گی، کیونکہ تہران تک پہنچنے کے لیے ایک ہزار کلومیٹر طویل پہاڑ، صحرا اور 9 کروڑ کی سخت جان آبادی موجود ہے، جہاں داخل ہونا امریکی فوج کے لیے خودکش مشن ہو گا لہٰذا، امریکی حکمت عملی کا بنیادی مقصد مکران کے ساحل کے ایک مخصوص حصے پر قبضہ کرنا، وہاں موجود پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کے میزائل اڈوں اور جنوبی جوہری تنصیبات کو لوکلائزڈ آپریشن کے ذریعے تباہ کرنا اور پھر جلد از جلد واپس نکل جانا ہو گا۔دوسری پرت مکران کے ٹھیک پیچھے واقع ‘بشاگرد’ کے کٹھن پہاڑ ہیں، جو گوریلا جنگ کے لیے موزوں ترین ہیں۔ یہاں ایرانی ‘تکاور’ سپیشل فورسز، آئی آر جی سی قدس فورس اور بسیج ملیشیا کے جنگجو اونچائیوں پر گھات لگا کر بیٹھیں گے۔ وہ امریکی افواج پر اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائلوں، خودکش ڈرونز اور جدید گوریلا حربوں سے حملے کریں گے تاکہ امریکی جانی نقصان کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔ تیسری اور سب سے مہلک پرت ایران کا ‘میزائل ٹریپ’ ہے۔ اگر امریکہ کسی ساحلی شہر پر قبضہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہو بھی جائے، تب بھی ایران کے پاس اندرونی پہاڑی سلسلوں میں سینکڑوں متحرک بیلسٹک میزائل موجود ہیں، جن سے وہ ہر رات امریکی اڈوں پر بارش کر سکتا ہے۔ تاہم، ایران کی سب سے بڑی طاقت اس کا جغرافیہ، بے پناہ عسکری نفری اور طویل اسٹریٹجک عمق ہے۔ ایران کے باقاعدہ فوجی، پاسدارانِ انقلاب اور بسیج ملیشیا مل کر 6 لاکھ سے زائد کی فوج بناتے ہیں۔ امریکہ کو ساحل کے ایک چھوٹے سے حصے پر بھی قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑے گی، جو ایک بہت بڑی اور رسکی تعیناتی ہو گی۔علاوہ ازیں، مکران کے ساحل سے 20 کلومیٹر اندر داخل ہوتے ہی علاقہ خطرناک پہاڑوں اور زیرِ زمین سرنگوں میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایران نے 20 سالوں میں ان پہاڑوں کے اندر زیرِ زمین ‘میزائل شہر’ تعمیر کیے ہیں، جنہیں امریکہ فضائی بمباری سے یکسر تباہ نہیں کر سکتا۔سب سے اہم فیکٹر ‘جانی نقصان کی قیمت’ ہے۔ ایران پر کوئی بھی زمینی حملہ اتنے بڑے امریکی جانی نقصان کا باعث بنے گا جو امریکی عوام نے افغانستان یا عراق جنگ کے بعد سے نہیں دیکھا۔ ایران کا پورا دفاعی ماڈل اسی نقطے پر ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ امریکہ کو اتنی بھاری قیمت چکانے پر مجبور کر دے کہ واشنگٹن زمینی ایڈونچر کا خیال چھوڑ کر صرف ہوائی حملوں تک محدود رہے۔امریکی فوج صرف 72 گھنٹوں میں ایرانی ساحل پر قبضہ کر سکتی ہے، لیکن اصل چیلنج اس کے بعد شروع ہوگا۔ کیا امریکہ ہر رات بیلسٹک میزائلوں کی بارش، گوریلا حملوں اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو دو سو ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے روک پائے گا؟ یہی وہ بھیانک سوال ہے جس نے اب تک ہر امریکی صدر کو ایران پر براہِ راست زمینی حملے کے بٹن سے روکے رکھا ہے۔ تہران نے اپنی شطرنج کی چالیں چل دی ہیں اور اب گیند واشنگٹن کے کورٹ میں ہے
مصنف کے بارے میں
غیور ترمذی
غیور ترمذی کو فراہم کردہ معلومات میں ۹۲ نیوز کا کالم نویس بتایا گیا ہے۔ ان کی سوانح، قومیت یا رتبے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
پروفائل اور تمام تحریریںاس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
غیور ترمذی. «ایران پر زمینی حملے کی تیاری مکمل.» اقبال فورم، 8 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d9%be%d8%b1-%d8%b2%d9%85%db%8c%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%8c-%d8%aa%db%8c%d8%a7%d8%b1%db%8c-%d9%85%da%a9%d9%85%d9%84/.
تبصرے