مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

خود اپنے خلاف کھیلا

یمن میں حکومتی افواج نے ایران نواز حوثیوں سے الموخا بندرگاہ اور باب المندب کی اہم ساحلی پٹی واپس لے کر جہاز رانی کے خطرات کم کر دیے ہیں، حالانکہ حوثی اب…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

اپنے خلاف کھیلا

یمن کی صورتحال پھر ڈرامائی موڑ مڑ گئی جب حکومتی فوجوں نے اس ساحلی پٹی کے بیشتر حصے کو حوثیوں سے واپس لے لیا جس پر تین ہفتے پہلے ان کا قبضہ ہو گیا تھا۔ ان میں سب سے اہم الموخاکی بندرگاہ اور باب المندب اور اس سے ملحقہ جزیرے ہیں۔ یوں آبنائے باب المندب میں جہاز رانی کو خطرات کم ہو گئے، ختم البتہ بالکل نہیں ہوئے کیونکہ الموخا کے اوپر والے علاقے میں حوثی باغی بدستور بیٹھے ہیں اور یہ علاقہ باب المندب سے دور نہیں ہے۔ وہاں سے راکٹ ڈرون باری گزرگاہ پر آسانی سے ہو سکتی ہے۔ بہرحال، سعودی نواز حکومت کی یہ بڑی کامیابی ہے جو اس نے ایران نواز حوثیوں کیخلاف حاصل کی ہے۔ ساتھ ہی یمن کا سب سے بڑا، بلحاظ آبادی، صوبہ تعز حکومت کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔ صرف اس کا دارالحکومت تعز، جو ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے اور اس کے قریب ایک مختصر سا علاقہ حکومت کے پاس رہ گیا ہے اور یہ دونوں علاقے حوثیوں کے سخت محاصرے میں ہیں۔
5 اکتوبر کی جنگ میں حوثیوں کو بہت زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے دو ہزار جنگجو مارے گئے، کئی سو زخمی، کئی سو گرفتار ہوئے۔ باب المندب پر میزائل ڈرون باری کا سب سے بڑا مرکز الحدیدہ کے صحرا میں تھا، اس حملے میں وہ بھی تباہ ہو گیا۔
___
یمن کی جنگ دراصل سعودی عرب اور ایران کی پراکسی جنگ ہے، کسی حد تک تو سچ یہ ہے کہ دونوں ملک براہ راست جنگ آزما ہیں۔ یمن میں حوثیوں کے علاقے میں کئی ہزار ایرانی فوجی، کمانڈو، کمانڈر اور جنگی اور تکنیکی ماہرین موجود ہیں۔ سعودی عرب کی فوج براہ راست یمن میں موجود نہیں لیکن سرحدوں پر وہ کارروائیاں کر رہی ہے۔
ایران نے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش کو اپنا ہتھیار بنانے کی کوشش کی تھی لیکن یہاں بات کچھ خاص آگے بڑھ نہیں سکی۔
___
سعودی الائنس نے اعلان کیا ہے کہ وہ محض اپنے مقبوضہ علاقے آزاد نہیں کرائے گا بلکہ حوثی انتظامیہ کا خاتمہ کر کے دارالحکومت صنعا کو اپنے قبضے میں لے گا۔
کیا ایسا ممکن ہے؟۔ صنعا کے مشرق میں مارب کا صوبہ واقع ہے۔ 1990ء سے پہلے جب یمن دو ملکوں میں تقسیم تھا یعنی شمالی یمن اور جنوبی یمن تو مارب صوبہ شمالی یمن کا حصہ تھا۔ پھر دونوں ممالک ضم ہو گئے اور متحدہ یمن وجود میں آیا لیکن یہ اتحاد زیادہ سال چل نہ سکا، حوثی باغیوں نے صعدہ صوبے میں یلغار کی اور شمالی یمن کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر کے اپنی حکومت بنا لی، جن علاقوں پر وہ قبضہ نہ کر سکے ان میں مارب بھی شامل تھا۔ مارب کے دوتہائی سے زیادہ حصے پر حکومت، ایک تہائی سے کم پر حوثی قابض ہیں۔ کنٹرول لائن صنعا سے 70 میل مشرق میں ہے۔ بظاہر 70 میل کا فاصلہ فتح کرنا بہت مشکل نہیں لیکن یہ پہاڑی علاقہ ہے، ساحلی پٹی کی طرح میدان اور ہموار نہیں۔ یہاں ایک ایک پہاڑی پر قبضہ کر کے ہی آگے بڑھنا ہو گا جبکہ حوثیوں کے پاس ہر قسم کے میزائلوں اور ڈرون کاپٹروں کا بڑا ذخیرہ ہے۔ یعنی صنعا پر قبضے کی مہم مشکل بھی ہو گی اور طویل بھی۔ اور اس دوران حوثیوں کے میزائل حملے ہوتے رہیں گے۔ 5 اکتوبر کو بھی حوثیوں نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر ایک اور حملہ کیا، اس کے ایک پمپنگ سٹیشن کو آگ لگی لیکن اسے بچا لیا گیا اور تیل کی سپلائی جاری رہی۔
___
ہرمز کا کارڈ ایران کیلئے کیا فائدہ، کیا نقصان لے کر آیا؟۔ تازہ عالمی رپورٹ ہے کہ خلیجی ممالک سے تیل کی برآمد جنگ سے پہلے کی شرح سے بھی بڑھ گئی ہے۔ یعنی گزشتہ ہفتے یہ برآمدات 22 ملین بیرل کی ہوئیں۔ جنگ سے پہلے یہ شرح 18 ملین بیرل تھی۔
اگرچہ سارا تیل ہرمز سے نہیں جا رہا، کئی متبادل راستے بن گئے ہیں۔ مثلاً ینبوع والی پائپ لائن، امارات کی بائی پاس پائپ لائن اور خلیج فارس کے ساحل سے خشکی کے راستے ٹرکوں اور ٹینکروں کے قافلے عمان کے ساحل تک جاتے ہیں، وہاں سے دوبارہ یہ تیل سمندری ٹینکروں میں بھرا جاتا ہے۔
ہرمز کو بلاک کرنے کا مقصد ایران کا یہ تھا کہ تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہو اور دنیا پر دبائو بڑھے۔ یہ سپلائی تو متاثر نہیں ہوئی، ایران کی توانائی اور ہتھیار یوں سمجھئے کہ سب ضائع گئی۔ اور بات یہیں تک نہیں رکی۔ امریکہ نے جوابی ناکہ بندی کر دی، ایران کی تیل کی برآمد ختم ہو گئی، ایک قطرہ بھی باہر نہ جا سکا۔ ایرانی معیشت کا دم گھٹ گیا، ایک ڈالر کل 27 لاکھ ریال سے بھی مہنگا ہو گیا۔ ایرانی حکومت کے پاس اب ملازموں کو تنخواہ دینے کے پیسے بھی نہیں رہے۔ کارخانے بند ہو گئے، ہوائی تجارت بھی نئی پابندیوں کے بعد سے مفلوج ہے۔
ایران نے معاہدہ اسلام آباد پر دستخط کئے پھر ماننے سے انکار کر دیا، نتیجہ اس کی اپنی سانس رک گئی۔
ایران نے کیا چال چلی؟۔ کسی اور کے نہیں، ایران خود اپنے خلاف کھیلا۔

مصنف کے بارے میں

عبد اللہ طارق سہیل

عبد اللہ طارق سہیل

فراہم کردہ معلومات میں عبد اللہ طارق سہیل کے بارے میں کوئی سوانحی تفصیل شامل نہیں ہے۔ یہ اندراج ان کا نام مصنف کے طور پر درج کرتا ہے اور مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

عبد اللہ طارق سہیل. «خود اپنے خلاف کھیلا.» اقبال فورم، 8 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7/.

حوالہ دینے کے انداز

عبد اللہ طارق سہیل. (8 اکتوبر 2026). خود اپنے خلاف کھیلا. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d8%ae%d9%88%d8%af-%d8%a7%d9%be%d9%86%db%92-%d8%ae%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%da%be%db%8c%d9%84%d8%a7/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔