مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

ایران کا مکہ معاہدہ پر اعتماد کا اظہار اور مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت

ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور پارلیمانی اسپیکر نے مکہ دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے ایران کی سلامتی اور تیل کی برآمدات یقینی نہ بنائے جانے کی صورت میں امریکی مہم…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

مکہ معاہدہ

ترجمان ایرانی پاسداران انقلاب جنرل محبی نے کہا ہے کہ مکہ معاہدہ خطے کے ممالک کی جانب سے اپنی سکیورٹی یقینی بنانے کے لئے اہم پیش رفت ہے، مکہ معاہدہ خطے میں بیرونی طاقتوں کو محدور کرنے کی جانب ایک قدم ہے، خطے کی سکیورٹی خطے کے ممالک خود یقینی بنائیں۔ گذشتہ روز اپنی پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ امریکی فوج ان ممالک کے خلاف بھی لڑنے کے قابل نہیں جن کا دفاعی بجٹ پینٹاگون کے بجٹ کا صرف دس فیصد ہے۔ ان کے بقول امریکہ کے پاس شکست تسلیم کرنے اور خطے سے نکل جانے کو سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اگر تنازعات نے کوئی اور شکل اختیار کی تو ایران بھی میدان جنگ میں نئے ہتھیار لے کر اترے گا۔ دوسری جانب ایرانی سپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یو این جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ٹرمپ نے غیر ذمہ دارانہ مؤقف اپنایا، ایران کسی بھی مہم جوئی کا سخت اور پچھتانے والا جواب دے گا، ایرانی مہذب قوم کو اب تباہ کرنے کی دھمکیاں دینے والا دور گذر گیا، امریکہ جان لے کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کرسکتا تو خطے میں کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔ اور اگر ہماری سکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو کوئی انفراسٹکچر محفوظ نہیں رہے گا۔ دریں اثناء امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لئے تو وہ دنیا کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی جانیں بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جوہری ہتھیاد حاصل کرنے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز پر ٹیکس عائد کر سکتا ہے۔ یہ صورت حال ناقابلِ قبول ہے اور دنیا کے لئے بڑا خطرہ بن جائے گی۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ اس وقت بھی معاہدے کی گنجائش موجود ہے تاہم ایران کو معاہدے کے لئے اپنے وعدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، امریکہ باتوں کی بجائے عملی اقدامات کی بنیاد پر مذاکرات کر رہا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بقول پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری سفارتی کوششوں کے دوران ایران نے اپنا تازہ ترین امن منصوبہ پیش کر دیا ہے۔ اس میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ گذشتہ چھ ماہ سے جاری امریکہ ایران کشیدگی اور ایک دوسرے پر میزائل حملوں نے اقوام عالم پر خوف کی فضا طاری کر رکھی ہے اور فریق ممالک کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی معیشتوں پر بھی ممکنہ عالمی جنگ کے خوف کے باعث لرزہ طاری ہے جبکہ خطے میں تیل کا بھی سخت بحران پیدا ہو چکا ہے۔ اس ہر مستزاد یہ کہ یو این جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران امریکہ اور ایران کے مابین ایک دوسرے کو دھمکیوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا جس سے بادی النظر میں یہی محسوس ہوا کہ فریق ممالک کو نمائیندہ عالمی ادارے اقوام متحدہ کی بھی کوئی پرواہ نہیں۔ اس سے اقوام متحدہ کی ساکھ بھی متاثر ہوئی اور جنگ پھیلنے کے خدشات بھی لاحق ہوگئے۔ اس صورتِ حال میں مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسے نازک دور سے گزرتا نظر آرہا ہے جہاں کسی ایک محاذ پر پیدا ہونے والی کشیدگی کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم بحری راستوں کو لاحق خطرات، اسرائیل۔فلسطین تنازعہ اور خلیجی ممالک کی سلامتی کے خدشات نے خطے کے ممالک کو اپنی اجتماعی سلامتی کے نئے امکانات پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مابین 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کسی ایک فریق پر مسلح حملے کو تینوں کے خلاف حملہ تصور کرنے اور دفاعی تعاون کو وسعت دینے کا اصول طے کیا گیا ہے۔ بے شک مکہ معاہدے کی اہمیت صرف تین ممالک کے باہمی دفاعی تعاون تک محدود نہیں۔ 31 اگست کو استنبول میں ہونے والے پہلے سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں تینوں ممالک نے معاہدے کو ادارہ جاتی شکل دینے، مشترکہ دفاعی صلاحیت بڑھانے، دفاعی صنعت میں تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی کی تیاری کی سمت بھی اقدامات طے کیے۔ سعودی عرب میں ایک سیکرٹریٹ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس کے پہلے سیکرٹری جنرل کے لیئے پاکستان کے نام قرعہ فال نکلا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان تنازعہ خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لئے سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ حالیہ سفارتی رابطوں سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کا راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ 30 ستمبر کی سفارتی سرگرمیوں کے مطابق قطر کی ثالثی سے ایران اور امریکہ کے درمیان ایک سات روزہ اعتماد سازی منصوبے پر بات آگے بڑھانے کی کوشش جاری ہے جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور کشیدگی کم کرنے کے اقدامات زیر بحث ہیں۔
اسی تناظر میں ایران کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ علاقائی معاملات میں بیرونی طاقتوں کے کردار کو محدود کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مذاکرات اور ڈیل کے امکان کا عندیہ دیا ہے تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں سخت خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایران کی سلامتی یقینی نہ بنائی گئی تو خطے کے بنیادی ڈھانچے اور مفادات کو خطرات لاحق رہیں گے۔ ان متضاد باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ فریقین کے مابین اعتماد کا بحران ابھی برقرار ہے اور کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتوں پر ہوگا۔
مکہ معاہدے کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا اس کا دائرہ مستقبل میں دوسرے مسلم ممالک تک وسیع ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال معاہدے کے تینوں رکن ممالک اپنی تنظیم کو مستحکم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں، تاہم بعد میں ایسے ممالک کے لئے راستہ کھولا جا سکتا ہے جو یکساں سلامتی کے خدشات رکھتے ہوں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم دنیا کے پاس وسیع قدرتی وسائل، بڑی منڈیاں، جغرافیائی اہمیت، افرادی قوت اور مختلف نوعیت کی دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔ اگر ان وسائل کو باہمی اقتصادی، تکنیکی اور دفاعی تعاون کے ذریعے مربوط کیا جائے تو مسلم ممالک اپنی اجتماعی خود انحصاری میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ تاہم اس مقصد کے لئے دفاعی معاہدے کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت، ٹیکنالوجی، سائنس، خوراک، پانی اور سفارتی رابطوں کے مستقل ادارہ جاتی نظام کی بھی ضرورت ہوگی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی مکہ معاہدے کو دفاعی تعاون کے ساتھ اقتصادی طاقت، ٹیکنالوجی اور انسانی ترقی سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مکہ معاہدے کے بانی ممالک نے اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف عسکری اتحاد قرار نہیں دیا۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے مطابق معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد بیرونی جارحیت کے مقابل اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔ اس معاہدے میں علاقائی امن، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے عزم کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔
چین بھی خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور بحری راستوں کے تحفظ کے لئے سفارتی کوششوں پر زور دیتا رہا ہے۔ چین اور پاکستان کی پانچ نکاتی مشترکہ تجویز میں خلیجی ریاستوں کی سلامتی، شہریوں اور غیر فوجی تنصیبات کے تحفظ اور بحری راستوں کی سلامتی پر زور دیا گیا ہے چنانچہ موجودہ صورتِ حال میں اصل ضرورت کسی نئی محاذ آرائی کے بجائے ایسے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کی ہے جس میں مسلم ممالک سمیت خطے کے تمام متعلقہ ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور اقتصادی مفادات کا احترام ہو۔ مکہ معاہدہ اگر اپنی موجودہ دفاعی نوعیت کو برقرار رکھتے ہوئے اقتصادی و تکنیکی تعاون کا وسیع پلیٹ فارم بنتا ہے تو اس کے اثرات صرف تین ممالک تک نہیں رہیں گے تاہم اس کے لئے ضروری ہوگا کہ اس معاہدے کو علاقائی استحکام، اجتماعی دفاع، سفارتی مکالمے اور اقتصادی خود انحصاری کے اصولوں سے وابستہ رکھا جائے۔
ایران اور امریکہ کے مابین موجودہ کشیدگی بھی اسی وسیع تر حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ جنگ کے دائرے کو وسیع کرنے کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور علاقائی سلامتی کے قابلِ عمل انتظامات کی ضرورت ہے۔ مکہ سے شروع ہونے والا دفاعی تعاون اگر اسی سمت میں آگے بڑھتا ہے تو خطے کے ممالک کے لئے یہ ایک ایسا ماڈل بن سکتا ہے جس میں اپنی سلامتی کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن سفارتی تعلقات بھی برقرار رکھے جا سکیں۔ اس تناظر میں مکہ دفاعی معاہدہ خطے کے امن کے علاوہ مسلم دنیا کے اتحاد کی بنیاد بھی بن سکتا ہے جس آج اسلام دشمن الحادی قوتوں کی مسلم دنیا کو منتشر کرنے کی سازشوں کے پیشِ نظر ضرورت بھی ہے۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ نوائے وقت

اداریہ نوائے وقت

اداریہ نوائے وقت اس پروفائل میں درج نام ہے۔ دستیاب معلومات میں ان کی زندگی، سرگرمیوں یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ نوائے وقت. «ایران کا مکہ معاہدہ پر اعتماد کا اظہار اور مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت.» اقبال فورم، 1 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%a7/.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ نوائے وقت. (1 اکتوبر 2026). ایران کا مکہ معاہدہ پر اعتماد کا اظہار اور مسلم دنیا کے اتحاد کی ضرورت. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d8%a7%db%8c%d8%b1%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d9%85%da%a9%db%81-%d9%85%d8%b9%d8%a7%db%81%d8%af%db%81-%d9%be%d8%b1-%d8%a7%d8%b9%d8%aa%d9%85%d8%a7%d8%af-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%b8%db%81%d8%a7%d8%b1-%d8%a7/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔