دنیا بھر میں مہنگائی، اب پُرتشدد مظاہرے، ٹرمپ ذمہ دار ہیں!
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے دوران ایران امریکہ جنگ پر مسلسل گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کر رہے ہیں کہ امریکی افواج نے ایران کی نظامی و ایٹمی صلاحیتوں کو…
مصنوعی ذہانت کا تجزیہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان دنوں وسط مدتی انتخابات کے لئے انتخابی مہم چلا رہے ہیں اس دوران وہ مسلسل ایک ہی قسم کی تقریر کرتے چلے جا رہے ہیں جو ایران امریکہ جنگ سے متعلق ہے، ان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ جنگ جلد ختم ہو جائے گی کہ ان کی ہدایت پر امریکی مسلح افواج اور پینٹاگون نے ایران کی فضائی، بحری اور زمینی فوجی صلاحیت ختم کر دی جبکہ ایٹمی تنصیبات کو تباہ کر دیا کہ اب ایران ایٹم بم نہیں بنا سکے گا، وہ بار بار اپنی قوم کو یقین دلاتے ہیں کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنے دی جائے گی لیکن ریاست ہائے متحدہ سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کا جو طوفان آیا اس بارے میں وہ کچھ نہیں کہتے ماسوا اس بات کے کہ جنگ ختم ہوتے ہی پٹرولیم مصنوعات کے نرخ ایک دم نیچے آ جائیں گے۔ پٹرولیم اور اس سے متاثر گرانی ہی کے باعث امریکی عوام کی بھاری اکثریت ان کے موقف کی حامی نہیں اور 35فیصد کے مقابلے میں 47فیصد رائے عامہ ان کے خلاف ہوگئی ہے اس کے باوجود وہ مڈٹرم جیت کر ایران کو سبق سکھانا چاہتے ہیں جبکہ ایران اب تک ان سے متاثر نہیں ہوا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا موجودہ اقتدار ان کی نسل پرستانہ انتخابی مہم اور نظریئے کے علاوہ صہیونی لابی کی کھلی حمائت کا مرہون منت ہے اور وہ صہیونی عنائت کے مشکور بھی ہیں اور اس کا صلہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مکمل حمائت کے ذریعے دیا غزہ لہولہان ہے لبنان روزانہ ظلم سہ رہا اور اس کے بہت سے حصے پر قبضہ ہو چکا جبکہ غزہ کے مغربی کنارے کا زیادہ حصہ بھی صہیونیوں کے قبضے میں ہے اور وہاں آباد کاری ہو رہی ہے۔ ٹرمپ غزہ کی بحالی کے دعویدار تھے اور انہوں نے غزہ ترقیاتی بورڈ بنا کر اس کی قیادت بھی سنبھال رکھی ہے لیکن غزہ کے بے خانماں افرادکی حالت کا احساس نہیں اور نہ ہی یہ تکلیف ہے کہ اسرائیل اب تک جنگ بندی پر مکمل عمل پیرا نہیں اور ہر روز فلسطینی شہید ہو رہے ہیں ان میں بچوں کی تعداد بھی بہت ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ وہ پاک بھارت سمیت دنیا کی آٹھ جنگیں رکوا چکے اور اب روس، یوکرین جنگ بھی رکوائیں گے اس سلسلے میں وہ یوکرینی صدر زیلنسکی اور یورپی یونین پر تنقید بھی کرتے ہیں لیکن اب ان کے پیٹ میں فرانس سمیت متعدد یورپی ممالک میں مہنگائی کے باعث ہونے والے مظاہروں پر بہت غصہ آ گیا ہے اور انہوں نے فرانس کے صدر کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سرحدیں بند کر دیں ان کے مطابق یہ سب کیا دھرا تارکین وطن کا ہے اور جلد ہی پیرس مسلمان اکثریت کا شہر ہو گا یوں اب ان کا اسلاموفوبیا بھی ذہن سے نکل کر زبان پر آ گیا ہے وہ کہتے ہیں کہ تارکین وطن کو یورپ اور امریکہ میں نہیں آنے دینا چاہیے اور نہ ہی آنے دینا چاہیے تھا، یوں محترم ٹرمپ کے بارے میں پہلے ہی کوئی ابہام نہیں تھا کہ اب باقاعدہ طور پر بلی تھیلے سے باہر آ گئی اور انہوں نے واضح خیالات کا اظہار کر دیا ہے۔
امریکی صدر نہ اپنے ملک میں ہونے والی تنقید اور نہ ہی یورپی اور دیگر ممالک کی حقیقت بیانی کو تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان آیا اور اسی حوالے سے فرانس سے شروع ہونے والے مظاہرے کئی اور یورپی ممالک تک پھیل گئے ہیں اور ٹرمپ خود یہ الزام تارکین وطن پر لگا رہے اور خصوصی طور پر مسلمانوں کا ذکر کیا ہے، وہ اب بھی بے خوف و خطر صہیونی حکومت کی حمائت اور نیتن یاہو کے معاون بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی وزیرجنگ اسرائیل کا دورہ کرآئے اور نیتن یاہو کے ساتھ نئی منصوبہ بندی کے حوالے سے ہم آہنگی کا اظہار کر آئے اس کے بعد ہی اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایرانی حدود کی خلاف ورزی کرکے چکر لگایا، امریکی وزیر جنگ کا یہ دورہ یوں بھی کھٹکتا ہے کہ نیتن یاہو کو انتخابی عمل کا سامنا ہے اور ان کا اقتدار قطعی خطرے میں ہے اور وہ بھی جنگ ہی کے ذریعے اپنی بچت چاہتے ہیں اس لئے امکانی طور پر امریکی صدر کی یہ سوچ رد نہیں کی جا سکتی کہ انہوں نے حال ہی میں جو کچھ کیا اور جو کررہے ہیں وہ بھی نیتن یاہو کی اعانت کے لئے ہے۔
جو حضرات بھی کسی حوالے سے امریکی صدر سے کوئی بہتر امید رکھتے ہیں وہ حالات پر غور کرلیں کہ وہ توسعودی عرب کی حمائت میں حوثیوں کے خلاف بھی کسی کارروائی میں شرکت سے اجتناب اختیار کئے ہوئے ہیں اور زبانی طور پر صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کا بھی علاج کرلیں گے جو ان کے پاس ہے۔ تاہم باخبر حضرات کے مطابق ٹرمپ اپنی رائے عامہ سے خائف ہیں اور اس کے لئے کسی بھی خطرے کا باعث بن سکتے ہیں اس لئے ایران پر نیا حملہ اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کی تپش مزید تیز ہونا ممکن ہے۔ ان حالات میں نہ صرف مسلمان ممالک بلکہ یورپی یونین کو غور کرنا ہوگا کہ ٹرمپ دنیا کو کس مقام پر لے آیا ہے یورپ میں ہونے والے شدید مظاہرے ٹرمپ ہی کی ”جرائت رندانہ“ کا نتیجہ ہیں جو یورپی دنیا کو جنگ میں جھونک کر خود اپنی تسکین چاہتے ہیں، ان حالات میں صرف مسلمان ممالک ہی کو نہیں، پوری دنیا کو غور کرکے امن کے لئے کام کرنا ہوگا۔
مصنف کے بارے میں
اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں
چوہدری خادم حسین. «دنیا بھر میں مہنگائی، اب پُرتشدد مظاہرے، ٹرمپ ذمہ دار ہیں!.» اقبال فورم، 22 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52632.
تبصرے