مرکزی مواد پر جائیں

شکست کے باوجود ٹرمپ کا ایران سے جنگ کا جنون اور عالمی امن کو لاحق خطرات

امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق امریکی فوج نے ایران پر بڑے حملے کی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل کر دی ہیں، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور صدارتی مشیروں نے…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ٹرمپ کا ایران سے جنگ کا جنون

امریکہ اور ایران کے مابین ایک بار پھر جنگ چِھڑنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس حوالے سے امریکی ویب سائیٹ ایگزیوس کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے ایران پر بڑے حملے کی تیاریاں حتمی مرحلے میں داخل کر دی ہیں اور خطے میں مزید فوجی ساز و سامان اور عسکری وسائل تعینات کئے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب قطری ثالث دونوں ممالک کے مابین ایسا معاہدہ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے جنگ کا خطرہ ٹل سکے اور براہ راست مذاکرات بحال ہوں۔ ایگزیوس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ دوبارہ فوجی حملے شروع کرنے کی بجائے ایران کے ساتھ معاہدہ کی کوشش کریں۔ اس سلسلہ میں ٹرمپ کے بیشتر مشیر بھی امریکی نائب صدد کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں تاہم صدر ٹرمپ اب بھی ایران پر دوبارہ حملے کے آپشن پر غور کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملہ امریکہ کو فتح نہیں بلکہ شکست سے دوچار کرے گا۔ گذشتہ روز “ایکس” پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے لالچ اور تکبر کے زیر اثر اور ایک دھوکے باز حکومت کے مفادات کی خاطر اپنے ملک کو ایران کے خلاف غیر قانونی اور ہولناک جنگ میں جھونک دیا مگر ٹرمپ حکومت کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے، ان کے منصوبے دھڑام سے زمین بوس ہو گئے اور ان کی تزویراتی غلطیاں عیاں ہو گئیں۔ دریں اثناء امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں 25 ہزار سے زائد ڈرونز اور انٹی ڈرون سسٹم نصب کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی محکمہ جنگ کا کہنا ہے کہ امریکی سنٹرل کمانڈ کو 78 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا نیا جدید سسٹم فراہم کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ایرانی سپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکی قیادت ہارنے والے جواری کی طرح بازی چھوڑنے کو تیار نہیں اور صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کے اگلے مرحلے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سوشل میڈیا پر جاری بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل کو اولین ترجیح قرار دینے کی پالیسی کے باعث آج تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے۔
انہوں نے جے ڈی وینس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لمبی تقریریں کرنے کی بجائے اپنے صدر کو سمجھاتے کیوں نہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے روس کا دورہ کیا اور صدر پیوٹن سے ملاقات کر کے انہیں ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ علی خامنائی کا پیغام پہنچایا۔ دوسری جانب امریکی مڈ ٹرم انتخابات کے نتائج کی روشنی میں امریکی ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا ہے کہ وہ ایران سے جنگ ختم کریں، اسرائیلی امداد بند کریں اور ایبسٹن ایکٹ نافذ کریں۔ ان ڈیموکریٹ ارکانِ کانگرس نے امریکی نائب صدر کی اس رائے سے بھی اتفاق کیا کہ ری پبلکنز کی وسط مدتی انتخابات میں شکست کی وجوہات میں ایران کے خلاف جنگ اور جیفری ایپسٹن کے معاملہ کو چھپانے سے جُڑی بدعنوانی بھی شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی انتخابات کے نتائج کی بنیاد پر دوبارہ اقتدار کی منزل نیتن یاہو سے بھی دور ہو رہی ہے اور ان کی اتحادی پارٹی نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا ہے جبکہ عرب جماعتوں نے حکومت کی تشکیل کے لئے گادی آئزنکوٹ کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ امر واقع ہے کہ امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں اور ان کے طرزِ حکمرانی کے خلاف امریکی عوام کے بڑھتے ہوئے ردعمل کو واضح کر دیا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست محض ایک سیاسی جماعت کی ناکامی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی ان پالیسیوں پر عوامی عدم اعتماد کا اظہار بھی ہے جن کے نتیجے میں امریکہ ایک نئی جنگ میں الجھا، اس کی معیشت دباؤ کا شکار ہوئی، مہنگائی میں اضافہ ہوا اور امریکی عوام کے لیے روزمرہ زندگی کے مسائل مزید سنگین ہو گئے۔ امریکی عوام نے اپنے انتخابی فیصلے کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ انہیں جنگ و جدل کے بجائے امن، معاشی استحکام اور اپنے بنیادی مسائل کا حل درکار ہے۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ انتخابی نتائج سے ملنے والے اس واضح پیغام کے باوجود صدر ٹرمپ اپنی جنگی سوچ اور ایران کے خلاف جارحانہ عزائم سے دستبردار ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔
اسی بنیاد پر ٹرمپ کے خلاف ڈیموکریٹس کا دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔ امریکی کانگریس میں انتخابی کامیابی کے بعد ڈیموکریٹ ارکان نے ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے، اسرائیل کی مالی اور عسکری امداد بند کرنے اور ایپسٹن ایکٹ کی منظوری سمیت متعدد مطالبات اٹھا دیے ہیں۔ ان مطالبات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اب ٹرمپ انتظامیہ کو کانگریس میں ایک مضبوط اپوزیشن کا سامنا ہوگا جو اس کی جنگی پالیسیوں، اخراجات اور انتظامی فیصلوں کا کڑا محاسبہ کر سکتی ہے۔ یہ امر واقع ہے کہ ٹرمپ کی اپنی جماعت کے اندر سے بھی ان کی پالیسیوں کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں اور ان کے مواخذے کے امکانات پر بحث جاری ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایران کے ساتھ معاہدے اور جنگ کے خاتمے کی کوشش پر زور دینا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خود امریکی قیادت کے اندر اس جنگ کے مستقبل کے حوالے سے مختلف آرا موجود ہیں۔
اس تمام صورت حال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک طرف مذاکرات اور معاہدے کی بات کر رہی ہے اور دوسری جانب ایران پر دوبارہ بڑے حملے کی تیاریوں کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 25 ہزار ڈرونز اور ان کے تدارک کے نظام کی تنصیب سمیت وسیع فوجی تیاریوں کا منصوبہ زیر غور ہے۔ اس نوعیت کی تیاریوں سے خطے میں یہ تاثر مزید گہرا ہو رہا ہے کہ امریکہ سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ ممکنہ فوجی تصادم کے لیے بھی اپنے انتظامات مکمل کر رہا ہے۔ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنے کے باوجود بڑے حملے کی تیاری جاری رکھتی ہے تو اس سے کسی بھی وقت جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں اور کسی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
اس حوالے سے ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو فرسٹ قرار دینے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے باور کرایا کہ اس طرزِ فکر نے امریکہ کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ایرانی حکام امریکی قیادت کے رویے کو ایک ایسے ہارنے والے جواری سے تشبیہ دے رہے ہیں جو اپنی شکست تسلیم کرنے کے بجائے مزید بازی لگانے پر بضد ہو۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کسی بھی جنگ کو محض انا اور برتری کے اظہار کے لیے طول دینا فریقین اور پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے روس کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تیزی بھی قابل توجہ ہے۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کی روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ملاقات اور سپریم لیڈر کا پیغام پہنچانے کی اطلاعات اس امر کی عکاس ہیں کہ ایران اس بحران کے حل کے لیے عالمی سطح پر اپنے سفارتی روابط کو بھی بروئے کار لا رہا ہے۔
بے شک اس جنگ کے خاتمے کے لیے قطر کی ثالثی میں ہونے والی کوششیں بھی امید کی ایک کرن ہیں۔ قطر واشنگٹن اور تہران کے مابین رابطوں اور کسی قابل قبول معاہدے کے لیے کوشاں ہے۔ امریکہ اور ایران کے مابین اختلافات اپنی جگہ موجود ہیں، تاہم مذاکرات کا جاری رہنا اس امر کا ثبوت ہے کہ سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کرنے کی گنجائش ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اندریں حالات امریکہ کو ایران کی خودمختاری اور سلامتی کے تقاضوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایسے معاہدے کی طرف آنا چاہیے جس میں دونوں ممالک کے تحفظات کا قابل عمل حل نکل سکے۔ پابندیوں، عسکری دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے کسی ملک کو مستقل طور پر اپنے سامنے جھکانے کی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات بھی اس پورے بحران کا ایک اہم پہلو ہیں کیونکہ اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات کے نتائج نے نیتن یاہو کے لیے دوبارہ وزیراعظم بننے کا راستہ مشکل بنا دیا ہے۔ نیتن یاہو کو ایک بڑا سیاسی دھچکا اس وقت لگا جب ان کی دیرینہ اتحادی مذہبی جماعت یونائیٹڈ تورہ جوڈازم نے کسی بھی امیدوار کی حمایت میں سفارش کرنے سے گریز کیا۔ اس جماعت کے نیتن یاہو سے اختلافات کی بنیادی وجہ مذہبی طبقے کے نوجوانوں کو لازمی فوجی بھرتی سے استثنیٰ دینا ہے۔ دوسری طرف مخالف اتحاد کے رہنما گادی آئزن کوٹ کو پارلیمنٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اتوار کو کسی رکن پارلیمنٹ کو حکومت بنانے کی ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کریں گے۔ یوں نیتن یاہو کے اقتدار کا مستقبل اب محض ان کی جماعت کی انتخابی پوزیشن پر نہیں بلکہ اتحادی جماعتوں کے فیصلوں پر بھی منحصر ہے۔
یہ اظہر من الشمس حقیقت ہے کہ غزہ میں طویل جنگ، فلسطینیوں کی بڑے پیمانے پر شہادتوں، لبنان میں فوجی کارروائیوں اور ایران کے ساتھ براہ راست محاذ آرائی نے اسرائیل کو مسلسل سکیورٹی اور سفارتی چیلنجوں سے دوچار کر رکھا ہے۔ اسرائیلی معاشرے میں بھی یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ مسلسل جنگوں کے باوجود اسرائیل کو پائیدار امن اور سلامتی کیوں حاصل نہیں ہو سکی؟ غزہ کے مستقبل، یرغمالیوں کے معاملے، فلسطینی ریاست کے قیام، آبادکاری کی پالیسی اور 7 اکتوبر 2023ء کے واقعات کے حوالے سے حکومتی جواب دہی جیسے معاملات نیتن یاہو کی سیاست پر مسلسل اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان کے مخالفین حکومت سے ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے اندر ایک بڑا طبقہ جنگوں کے خاتمے، یرغمالیوں کی واپسی، فوجی اور سیاسی قیادت کے احتساب اور معمول کی زندگی کی بحالی کا خواہاں ہے۔ یہی داخلی تضاد اسرائیلی سیاست میں کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔ اگر نیتن یاہو اقتدار سے محروم ہوتے ہیں تو نئی حکومت کو ایران، غزہ، لبنان اور فلسطین کے حوالے سے پالیسی پر نظرثانی کے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم اس سے فوری طور پر اسرائیلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اس کا انحصار نئی حکومت کی ساخت، اتحادی جماعتوں اور علاقائی حالات پر ہوگا۔
بے شک اسرائیل کی سیاسی تبدیلی کا ایک اہم اثر امریکہ اسرائیل تعلقات پر بھی مرتب ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف پالیسی میں اسرائیل کو اہم اتحادی کی حیثیت دی ہے، مگر امریکی انتخابات کے بعد اسرائیل کو ملنے والی غیر مشروط حمایت کے حوالے سے امریکی سیاست میں بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی جانب سے اسرائیلی امداد بند کرنے کا مطالبہ اسی بحث کا حصہ ہے۔ امریکی عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل کو بیرون ملک جنگی اخراجات پر صرف کرنے کے بجائے اپنے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کی آوازیں بھی زور پکڑ رہی ہیں۔ اس صورت حال میں اسرائیلی قیادت کو بھی یہ احساس کرنا ہوگا کہ امریکہ کی سیاسی حمایت کو ہمیشہ غیر مشروط اور غیر متزلزل تصور نہیں کیا جا سکتا۔
آج یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جاری کشیدگی کسی ایک خطے یا دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہی۔ اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک اس جنگ کے ممکنہ پھیلاؤ، توانائی کے بحران، مہنگائی اور سلامتی کے خطرات سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جس کے نتیجے میں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات سے دوچار ہے، اس لیے خطے میں کسی نئی جنگ کا پھیلاؤ ہمارے لیے بھی سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے اس لئے پاکستان کو اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور جنگ بندی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کو اب امریکی عوام کے انتخابی فیصلے اور اپنی جماعت کے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ ایران پر ایک اور بڑے حملے کی تیاری خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔ نیتن یاہو کو بھی اپنی داخلی سیاسی مشکلات سے سبق لیتے ہوئے جنگی پالیسیوں کے بجائے خطے میں پائیدار امن کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔ اسی طرح اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، روس، چین، یورپی ممالک اور مسلم دنیا کی قیادتوں کو مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل کو مزید جارحانہ اقدامات سے روکنے اور سفارتی حل کی راہ ہموار کرنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہیئے۔ اگر عالمی قیادتوں نے بروقت کردار ادا نہ کیا تو یہ کشیدگی کسی بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ اگر اس جاری کشیدگی میں ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی نوبت آ گئی تو اس کی تباہی کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں رہے گی۔ ایسی جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا، صرف انسانیت کی شکست ہوگی اس لئےانسانی حیات کو ٹرمپ یا نیتن یاہو سمیت کسی بھی حکمران کی سیاسی انا اور جنگی عزائم کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے۔ بے شک آج دنیا کو ایک اور جنگ نہیں بلکہ پائیدار امن، باہمی احترام اور بقائے باہمی کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

اداریہ نوائے وقت

اداریہ نوائے وقت

اداریہ نوائے وقت اس پروفائل میں درج نام ہے۔ دستیاب معلومات میں ان کی زندگی، سرگرمیوں یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

اداریہ نوائے وقت. «شکست کے باوجود ٹرمپ کا ایران سے جنگ کا جنون اور عالمی امن کو لاحق خطرات.» اقبال فورم، 7 نومبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=54502.

حوالہ دینے کے انداز

اداریہ نوائے وقت. (7 نومبر 2026). شکست کے باوجود ٹرمپ کا ایران سے جنگ کا جنون اور عالمی امن کو لاحق خطرات. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=54502

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔