مرکزی مواد پر جائیں

مشرقِ وسطیٰ کی بساط

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ممکنہ سیاسی شکست خطے کی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہے، مگر تمام اسرائیلی سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے باعث ایران کے ساتھ کشیدگی کا مکمل…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ایران امریکہ کشیدگی

مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسرائیل کی داخلی سیاست، ایران امریکہ کشیدگی اور مسلم دنیا کے بدلتے ہوئے دفاعی تعلقات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل میں بنیامین نیتن یاہو کی ممکنہ سیاسی شکست محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ خطے کی آئندہ حکمتِ عملی پر اثرانداز ہونے والا اہم واقعہ بن سکتی ہے۔ تاہم، انتخابی نتائج اور نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں حتمی صورتِ حال سامنے آنے تک کسی بڑے سیاسی فیصلے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔

نیتن یاہو ایک طویل عرصے سے اسرائیلی سیاست میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کی پالیسیوں میں ایران کے خلاف سخت مؤقف، قومی سلامتی اور فوجی طاقت کے استعمال کو نمایاں اہمیت حاصل رہی ہے۔ اگر وہ حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو اسرائیل کی سیاسی سمت پر نظرثانی کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ ان کی رخصتی کے ساتھ ہی اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ختم ہوجائے گی۔ اسرائیل کی کئی سیاسی جماعتیں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کے بارے میں تحفظات رکھتی ہیں۔ فرق صرف یہ ہوسکتا ہے کہ نئی قیادت ان مقاصد کے حصول کے لیے فوجی کارروائی کو ترجیح دیتی ہے یا سفارت کاری کا راستہ اختیار کرتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اسرائیل میں سیاسی تبدیلی ایران اور امریکہ کے تعلقات پر کیا اثر ڈال سکتی ہے؟ ایران امریکہ کشیدگی کے اسباب کسی ایک شخصیت تک محدود نہیں۔ ایران کا جوہری پروگرام، امریکی پابندیاں، خلیج میں فوجی موجودگی، اسرائیل کی سلامتی اور آبنائے ہرمز سے عالمی تجارت کی وابستگی ایسے معاملات ہیں جن کا حل وسیع تر مذاکرات کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر اسرائیل کی نئی قیادت تصادم کے بجائے سفارتی کوششوں کی حمایت کرتی ہے تو مذاکرات کے لیے گنجائش پیدا ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر بنیادی پالیسی برقرار رہتی ہے تو قیادت کی تبدیلی کے باوجود جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔

کسی بڑی جنگ کے نتائج صرف ایران، اسرائیل اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ خلیجی ممالک کی سلامتی، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں، سمندری تجارت اور جنوبی ایشیا کی معیشت بھی اس سے متاثر ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ توانائی کی درآمدات پر انحصار، معاشی دباؤ اور ایران کے ساتھ طویل سرحد اسے علاقائی عدم استحکام کے اثرات سے محفوظ نہیں رہنے دیتے۔

یہیں سے پاکستان کے سفارتی کردار کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران کے ساتھ جغرافیائی اور ہمسائیگی کے تعلقات ہیں، سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ دفاعی اور معاشی روابط ہیں اور امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی اس کے وسیع تر قومی مفادات کا حصہ ہیں۔ ان مختلف تعلقات میں توازن قائم رکھنا آسان نہیں، لیکن یہی وہ موقع ہے جہاں پاکستانی سفارت کاری خطے کے لیے مثبت کردار ادا کرسکتی ہے۔ پاکستان اگر کسی فریق کے خلاف صف بندی کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور جنگ بندی کی کوششوں پر توجہ دے تو اس کی علاقائی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اسی تناظر میں مکہ معاہدے کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا تصور مسلم دنیا میں اجتماعی سلامتی کے حوالے سے اہم بحث کو جنم دیتا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، سعودی عرب کے معاشی وسائل اور ترکیہ کا دفاعی تجربہ باہمی تعاون کے لیے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ اس نوعیت کے تعاون سے رکن ممالک کی دفاعی تیاری اور سلامتی کے معاملات میں رابطہ بہتر ہوسکتا ہے۔

‎پاکستان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات کو ایران کے ساتھ پُرامن ہمسائیگی کے مقابل نہ آنے دیا جائے۔ مسلم دنیا کو پہلے ہی فلسطین، غزہ، علاقائی کشیدگی اور معاشی مشکلات جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر علاقائی ممالک باہمی اختلافات کو مزید بڑھانے کے بجائے مشترکہ مفادات پر تعاون کریں تو تصادم کے امکانات کم کیے جاسکتے ہیں۔مکہ معاہدہ اسی وقت اپنی حقیقی اہمیت منوا سکے گا جب دفاعی تعاون کے ساتھ مکالمے اور تنازعات کے پُرامن حل کو بھی جگہ دی جائے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اپنے روابط کو استعمال کرتے ہوئے ایسی سفارتی کوششوں کی حمایت کرسکتے ہیں جن کا مقصد ایران امریکہ کشیدگی میں کمی، عالمی تجارت کے تحفظ اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہو۔ البتہ کسی بھی ثالثی کی کامیابی کے لیے متعلقہ فریقوں کی رضامندی اور قابلِ عمل تجاویز ضروری ہوں گی۔

آخرکار، نیتن یاہو کی ممکنہ سیاسی شکست خطے میں نئی سفارتی گنجائش پیدا کرسکتی ہے، مگر امن کا راستہ صرف کسی ایک حکومت کی تبدیلی سے نہیں کھلے گا۔ اس کے لیے پالیسیوں میں حقیقت پسندی، باہمی اعتماد اور مذاکرات کی سنجیدہ کوششیں درکار ہیں۔ پاکستان کے سامنے ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی حیثیت اور دفاعی تعلقات کو ذمہ دار سفارت کاری میں تبدیل کرے۔آج پاکستان کی اصل کامیابی اس میں نہیں کہ وہ کسی ایک طاقت کے ساتھ کھڑا دکھائی دے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے، مسلم دنیا میں تعاون بڑھانے اور پائیدار امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرسکے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے مکہ معاہدے کی اہمیت بھی بڑھے گی اور پاکستان کا سفارتی وقار بھی۔

مصنف کے بارے میں

عثمان بھٹی

عثمان بھٹی

عثمان بھٹی ایک مصنف ہیں۔ ان کی زندگی اور سرگرمیوں کے بارے میں مزید سوانحی معلومات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

عثمان بھٹی. «مشرقِ وسطیٰ کی بساط.» اقبال فورم، 31 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53575.

حوالہ دینے کے انداز

عثمان بھٹی. (31 اکتوبر 2026). مشرقِ وسطیٰ کی بساط. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53575

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔