مرکزی مواد پر جائیں

مکہ ڈیکلریشن کے بعد تہران امن مذاکرات

تہران میں ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی رہنماؤں نے بیرونی مداخلت کے بغیر علاقائی سیکیورٹی، فلسطین و لبنان اور یمن کے مسائل پر اعلیٰ سطحی بات چیت جاری…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

مکہ ڈیکلریشن کے بعد تہران امن مذاکرات

ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی مذاکرت میں طے پا گیا ہے کہ باہمی تعاون اور معاملات کی بہتری کے فروغ کے لئے اعلیٰ سطحی بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ پیر کے روز تہران میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی عرب کے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، ترکی کے نیشنل سیکیورٹی چیف ابراہیم کالن اور ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی اور ایرانی صدر پزشکیان نے میٹنگ کی جس میں علاقائی سیکیورٹی و امن، فلسطین و لبنان،یمن و حوثی معاملات کے علاوہ کسی بیرونی طاقت پر انحصار کئے بغیر علاقائی سیکیورٹی کے قیام جیسے معاملات زیر بحث لائے گئے۔
ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی کا کہنا ہے کہ امریکہ کی طرف سے ایران کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستانی وفود کے دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی دھمکیوں کا دنیا پر زیادہ اثر نہیں ہوا ہے تین بڑے ممالک کے رہنماؤں سے گفتگو میں بہت مثبت فضا محسوس ہوئی ایسا بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ امید ہے کہ چاروں ممالک کے درمیان ٹھوس عملی اقدامات کی شروعات ہوگی۔
حالیہ ایران۔ امریکہ جنگ کا آغاز28فروری 2026ء کو اس وقت ہوا جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا جس میں ایرانی قیادت کو مٹانے کی کاوشیں کی گئیں ان حملوں میں صف اول کی ایرانی قیادت جاں بحق ہوگئی اور ایران پر تباہی نازل کی گئی۔ اس حملے کا مقصد موجودہ رجیم کو راستے سے ہٹانا اور ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا تھا کیونکہ ایرانی عوام طویل عرصے کی اقتصادی پابندیوں کے باعث شدید معاشی مشکلات کا شکار تھے۔ پاسداران انقلاب اور ان کے زیرکمان سماجی ماحول کو درست رکھنے کی ذمہ دار تنظیم کے اہلکاروں کے سلوک سے عوام بہت تنگ تھے۔ ان کے خلاف نفرت پائی جاتی تھی۔ امریکی و اسرائیلی ایجنسیوں کا خیال تھا کہ ایران پر حملوں کے نتیجے میں عوام اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایران میں انقلاب آ جائے گا لیکن اسرائیلی و امریکی جارحیت کا الٹا اثر ہوا۔ عوام اپنی مشکلات بھول کر متحد ہو گئے اور بیرونی جارحیت کے خلاف اپنی حکومت کے ساتھ کھڑے ہوگئے۔
حالیہ ایران۔امریکہ و اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر امن کے پیامبر کے طور پر اپنا سکہ جما لیا ہے۔ اقوام عالم میں امن کے لئے انتھک کاوشیں کرنے والے ملک کے طور پر اپنا آپ منوا بھی لیا ہے جو کام اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو کرنا چاہیے تھا وہ ہمارے وزیراعظم محمد شہبازشریف اور ہمارے سالار اعلیٰ فیلڈ مارشل عاصم منیرکررہے ہیں۔45 سالوں سے ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی رکھنے اور اسے نبھاتے چلے جانے والے ممالک کے رہنماؤں کو اسلام آباد میں نہ صرف مذاکرات کی میز پر بٹھا دیا بلکہ انہیں اکٹھے بٹھا کر کھانا بھی کھلا دیا۔ امریکی اور ایرانی قیادت نے 45سالوں کے بعد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا اور امن کے قیام کے لئے باتیں کیں۔ مذاکرات کئے ایک ڈیکلریشن تیار ہوا۔ اس پر اتفاق رائے بھی ہوا۔ برف پگھلی اور بات آگے بڑھی: پھر پتہ نہیں کیا ہوا۔ جنگ چھڑ گئی ایران کی حمایتی مسلح تنظیمیں بھی متحرک ہوگئیں۔ حزب اللہ اور حوثی بھی میدانِ جنگ میں کود پڑے۔ سعودی عرب بھی جنگ کی لپیٹ میں آ گیا یو اے ای،قطر، کویت وغیرہ تو پہلے ہی جنگ زدہ تھے۔ سعودی عرب پر بھی میزائل برسنے لگے معاملات زیادہ بگڑنے لگے۔ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے 7اگست2026ء کو ایک دفاعی معاہدہ کیا۔17جون 2026ء میں امریکہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے تھے لیکن معاملات میں تیزی نہ آنے کے باعث جنگ پھیل گئی اور صورت حال کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب،ترکیہ اور پاکستان نے مکہ معاہدہ کیا جس کے ذریعے تینوں ممالک ایک دوسرے کی قومی سلامتی کے ذمہ دار محافظ قرارپائے۔ یہ کسی برادر مسلمان یا دشمن ملک کے خلاف معاہدہ نہیں بلکہ یہ تینوں ممالک کی قومی سلامتی اور دفاع کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہونے کا عہد ہے۔ 16نکاتی مکہ معاہدہ ایک اہم دستاویز ہے جس کے آنے والے دنوں میں اثرات نہ صرف ظاہر ہوں گے بلکہ اور بھی واضح بھی ہوں گے۔ کئی دیگرعرب ممالک اس میں شریک ہونے کے لئے عندیہ دے چکے ہیں۔ خطے کی سیاست تبدیل ہو رہی ہے۔ خطے کی عسکری حیثیت اور توازن طاقت بھی تبدیل ہو رہا ہے اس جنگ نے بہت سے حقائق تبدیل کئے ہیں کچھ تاثرات بھی بدل رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ نئے حقائق بھی جنم لے رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ ایک نئی حقیقت ہے۔ کچھ لوگ اسے ناٹو کہتے ہیں اسلامی ناٹو لیکن یہ بات درست نہیں ہے مکہ کا نام رکھ دینے سے یہ اسلامی نہیں ہوگیا۔ناٹو ایک حربی و ضربی اتحاد تھا جس کا مقابل سامنے تھا، دشمن واضح تھا، ناٹو اتحاد اشتراکی روس کے خلاف بنایا گیا تھا اشتراکیت کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ایک اتحاد تھا جبکہ مکہ اعلان حفاظت خود اختیاری کا مظہر ہے اپنی حفاظت کے لئے، اپنے دفاع کے لئے۔ کسی دشمن کے خلاف نہیں کسی دوست کے مقابل نہیں یہ اتحاد خالصتاًمثبت سوچ کا اظہار ہے اب ان تین ممالک کے ساتھ ایران بھی بات چیت میں شریک ہو گیا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ ایران کے تعلقات سرد مہری کا شکار رہے ہیں۔ عرب و عجم کے مسائل بھی رہے ہیں۔ پاکستان نے معاملات کو بہتری کی سمت لے جانے کی بھرپورکاوشیں کی ہیں۔ فیلڈمارشل عاصم منیر نے ایرانی قیادت کو قائل کیا ہے کہ نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ ایرانی قومی سلامتی کے لئے ضروری ہے کہ ایران معاملات کو مذاکرات کی میز پر حل کرنے کی کاوشوں میں شامل ہو۔ تہران میں ہونے والے چار فریقی مذاکرات فیلڈ مارشل کی ایسی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ان مذاکرات سے فوری نتائج شاید نہ نکل سکیں لیکن ان مذاکرات سے آنے والے دنوں میں قیام امن کے لئے ہونے والے مثبت اقدامات کی امید قائم ہوگئی ہے جنگ مسائل کا حل نہیں بلکہ تباہی کا پیام لاتی ہے۔روس یوکرائن جنگ پہلے ہی یورپ اور دیگر ممالک کو معاشی مسائل کا شکار بنا چکی ہے۔ ایران امریکہ جنگ نے عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے نہ صرف تیل کی عالمی تجارت مشکلات میں گھری ہوئی ہے بلکہ اشیاء کی نقل و حمل بھی شدید مسائل کا شکار ہو چکی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ معاملات جلد از جلد حل ہوں اور دنیا سکھ کا سانس لے سکے۔

مصنف کے بارے میں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

مصطفی کمال پاشا. «مکہ ڈیکلریشن کے بعد تہران امن مذاکرات.» اقبال فورم، 28 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=53228.

حوالہ دینے کے انداز

مصطفی کمال پاشا. (28 اکتوبر 2026). مکہ ڈیکلریشن کے بعد تہران امن مذاکرات. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=53228

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔