مرکزی مواد پر جائیں
سیاست

ٹرمپ کا احسان

مارچ 1917 میں زار کی حکومت کے خاتمے کے بعد قائم ہونے والی عارضی حکومت اور اشتراکیوں کے درمیان پانچ سالہ خانہ جنگی کے نتیجے میں 1922 میں باالآخر لینن کی قیادت…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

ٹرمپ کا احسان

جنگ عظیم اول کے بعد مارچ 1917 تک روس میں بادشاہت تھی اور زار کی حکومت تھی۔ ایک انقلاب کے نتیجے میں زار کی حکومت ختم کر دی گئی اور ایک عارضی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ اس عارضی حکومت کو اشتراکیوں نے تسلیم نہیں کیا اور اس حکومت اور اشتراکیوں کے درمیان ایک خانہ جنگی کی ابتدا ہو گئی۔ یہ جنگ پانچ سال تک جاری رہی اور با لآخر 1922 میں بالشویک سرخ فوج نے لینن کی قیادت میں یہ جنگ جیت لی اور یوں USSR یعنی سویت اشتراکی جمہوری اتحاد جس کو عام طور پر سویت اتحاد کہا جاتا ہے ، وجود میں آیا۔یہ ایک بڑی ریاست تھی جس کا رقبہ ایشیا اور یورپ کے ایک بڑے حصے پر مشتمل تھا اور رقبے کے لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی ریاست تھی۔یہ ریاست 1922 سے 1991 تک قائم رہی۔ 1945 میں جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سے یہ ریاست امریکہ کے ہم پلہ اور دنیا کی دو بڑی طاقتوں میں ایک شمار ہوتی تھی۔ 1985 سے لے کر 1991 ، سویت روس کے حصے بخرے ہونے تک میکائل گورباچوف اس ملک کا حکمران تھا۔ چونکہ روس کا ٹوٹنا اس کے عہد میں ہوا ، اس لئے اسے ہی اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ روس افغان جنگ 25 دسمبر 1979 سے لے کر 15فروری 1989 تک تقریباًٍ نو سال اور دو ماہ جاری رہی اور عملی طور پر اس نے روس کو دیوالیہ کر دیا۔ دوسرا عنصر روس کا تیل تھا۔ روس بڑی تعداد میں دنیا میں تیل بیچتا ہے۔جو اس کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ تھا مگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اس قدر کم ہو گئیں کہ روسی ریاست کی یہ آمدن ختم ہو کر رہ گئی۔ تیسرا جنگ کی وجہ سے ملک میں کچھ افراتفری بھی پیدا ہوئی۔ حکومت کی گرفت کمزور ہوئی تو بازار سے اشیا ضرورت غائب ہو گئیں۔ کھانے پینے کی اشیا کی شدید قلت ہو گئی۔ان بدتر حالات میں گورباچوف حکومت ، معیشت کے اعتبار سے اپنا آپ یا اپنا وجود قائم نہ رکھ سکی اور سویت اتحاد ٹوٹ گیا اور دنیا کے نقشے پر پندرہ آزاد ملک ، آرمینیا، آذربائیجان، بیلا روس، اسٹونیا، جارجیا، قازقستان، کرغستان، لٹویہ، لیتھونیا ، مالڈوو ، تاجکستان ، ترکمستان، یو کرائن، ازبکستان اور پندہرواںخود روس ظاہر ہو گئے۔ ان پندرہ آزاد ملکوںکے وجود میں آنے کے بعد روس نہ تو دنیا کی سب سے بڑی قوت رہا اور نہ ہی امریکہ کا ہم پلہ۔بلکہ چین جو خاموشی سے دنیا میں پر امن انداز میں اپنی طاقت بڑھا رہا تھا ، وہ شاید روس سے دنیا بھر میں بڑی طاقت تصور ہونے لگا۔ دنیا بھر کے دانشور کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی قوت ڈر ہے یعنی آپ کا یہ تاثر کہ آپ انتہائی طاقتور ہیں اس بات کا ڈر لوگوں کو آپ سے الجھنے سے بچاتا ہے ، روس کے حصے بخرے ہونے سے روس کا یہ ڈر مکمل ختم ہو گیا اور اب روس ایک عام ملک تصور ہونے لگا۔ ایک یا دو سال پہلے تک امریکہ کے بارے میںیہ تصور کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی قوت ہے اور اس سے الجھنا موت کو دعوت دینا ہے ۔ اسی ڈر کی بدولت امریکہ دنیا پر راج کر رہا اور تمام ملکوں اور ان کی حکومتوں کو ڈراتا رہا ہے لیکن ایران امریکہ جنگ نے امریکہ کا یہ بھرم بھی ختم کر دیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کی ابتدا کی اور شروع میں ہی 900 حملے کئے۔ یہ حملے نہ صرف فوجی تنصیبات پر ہوئے بلکہ ایران کی قیادت کو بھی شہری خملوں سے نشانہ بنایا۔ جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اﷲخامنی کو شہید کر دیا گیا اور ایرانی صف اول کی قیادت کو ختم کرنے کی بھر پور سعی کی۔ایران نے فوری طور پر اس حملے کا رد عمل دیا۔ آبنائے ہرمز کے علاقے میں امریکہ کی موجود تنصیبات پر میزائلوں اور ڈرون کی مدد سے تباہی مچا دی ۔ اسرائیل پر میزائلوں کی بارش کی گئی اور ان کے حملے کا بھر پور جواب دیا۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ ایران کی قیادت میں گھنٹوں میں ختم کرکے اس حکومت کا خاتمہ کر دیں گے اور اپنی پپٹ حکومت وجود میں لے آئیں گے۔ لیکن ایرانی اس حملے کے بعد زیادہ متحد ہو گئے۔ ان کی قیادت میں کوئی کمی نہیں آئی اور وہ امریکہ اور اسرائیل کی توقعات کے برعکس ابھی تک ان کے پائے استقلال میں کوئی خم نہیں آیا۔ یہ جنگ ابھی تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی اور کب تک چلے گی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مگر میں سلام کرتا ہوں جناب ٹرمپ کو کہ انہوں نے اپنی حماقتوں سے دنیا سے امریکہ کا ڈر ختم کر دیا ہے۔ ان کا یہ احسان ہے کہ ان کے اقدامات کے نتیجے میں اب امریکہ دنیا کی نمبر ایک پاور نہیں رہا۔ ایران تو پہلے ہی بد حال تھا، اس جنگ نے اسے کچھ مشکل میں تو ضرور ڈالا ہے مگر اس کی تباہ شد معیشت ویسی ہی ہے جیسے پہلے تھی۔ وہاں کے عوام پہلے بھی پابندیوں کی وجہ سے کٹھن زندگی گزار رہے تھے، اب بھی اس زندگی میں کٹھن پن اسی طرح ہے۔ لوگوں کو کچھ فرق نہیں پڑا۔ مگر امریکہ کی معیشت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ میں یہ تو کہہ نہیں سکتا کہ امریکہ بھی جلد ر وس کی طرح حصے بخروں میں تقسیم ہو جائے گا مگر صورت حال بڑی ملتی جلتی ہے۔ روس کی طرح امریکہ کا دفاعی بجٹ بھی حد سے بڑھ گیا ہے۔بیروزگاری اور مہنگائی بڑھتی جا رہی ہیں۔ پٹرول ان کے پاس ہے مگر اس کی قیمت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے جو عوام کو قابل قبول نہیں۔ امریکی بڑی گاڑیاں استعمال کرنے کے عادی ہیں جو پٹرول بھی زیادہ استعمال کرتی ہیں۔ پٹرول کی بڑھتی قیمت لوگوں کے بوجھ ہے اور ان میں بے چینی کا باعث۔ماضی میںامریکہ دنیا بھر میں کسی نہ کسی انداز میں دہشت گردی کرتا رہا ہے لیکن ٹرمپ کی پالیسیوں اور جنگی جنون نے امریکہ کے وہ کس بل نکالے ہیںکہ اب وہ اگلے کئی سال تک دنیا میں کسی نئی چھیڑ چھاڑکا متحمل نہیں رہا۔

مصنف کے بارے میں

پروفیسر تنویر صادق

پروفیسر تنویر صادق

پروفیسر تنویر صادق ایک مصنف ہیں جو ۹۲ نیوز کے کالم نگار کے طور پر شناخته جاتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں ان کی زندگی یا تصانیف کے بارے میں مزید تفصیل درج نہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

پروفیسر تنویر صادق. «ٹرمپ کا احسان.» اقبال فورم، 6 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/.

حوالہ دینے کے انداز

پروفیسر تنویر صادق. (6 اکتوبر 2026). ٹرمپ کا احسان. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/%d9%b9%d8%b1%d9%85%d9%be-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%d8%ad%d8%b3%d8%a7%d9%86/

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔