مرکزی مواد پر جائیں

پاکستان، خطرہ ابھی ٹلا نہیں…؟

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدہ صورتحال کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی نئی قومی سلامتی ڈاکٹرائن اور ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کے تناظر میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی پوزیشن، اور…

متن کی ترتیبات

متن کی ترتیبات

پاکستان، خطرہ ابھی ٹلا نہیں…؟

شدید جنگی کشیدگی کے شکار مشرق وسطیٰ میں علاقائی اتحادوں کی نئی صف بندی اورعالمی رسہ کشی کے ماحول میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سےپیش کردہ نئی قومی سلامتی ڈاکٹرائن نےخطے میں نیا بھونچال برپا کردیا ہے،مذکورہ جنگی نظریہ میں صیہونی ریاست کو درپیش دفاعی خطرات کو محدود رکھنے کے روایتی تصور کے مقابلے میں پیشگی حملوں، فوجی برتری، سرحدوں کے باہر حفاظتی علاقوں اور اسلحے کی پیداوار میں خودانحصاری کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے، عالمی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کے جاری کردہ نقشے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کو ’ہیگزا گون الائنس‘ کا حصہ قرار دیا گیا ہے جبکہ ، ایتھوپیا، قبرص‘ یونان، صومالی لینڈ ہیگزاگون الائنس کے دوست بتائے گئے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نے مصر کو پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان ’سنی ڈائمنڈ الائنس‘ کا اہم حصہ قرار دیاہے جبکہ اردن کو اس اتحاد کے دوست کے طور پر پیش کیا ہے،نقشے کے مطابق آذربائیجان کو ہیگزاگون الائنس اور سنی ڈائمنڈ الائنس دونوں ہی اپنے قریب سمجھتے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نے خبردار کیاہے کہ اسرائیل اپنے دشمنوں پر پیشگی حملے کرنے میں ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ سے کام نہیں لے گا، جو کوئی بھی اسرائیل کی طاقت کو آزمانے کی کوشش کرئیگا اسے پہلے سے بھی زیادہ عبرتناک نتائج بھگتنا ہوں گے، نیتن یاہوکا موقف ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ، لبنان، یمن اور ایران میں کھولے گئے جنگی محاذوں نے صیہونی ریاست کی قومی سلامتی کی پالیسی پر نظرثانی ناگزیر بنا دی ہےتاکہ مسلسل فوجی کارروائیوں کے ذریعے اسرائیل مخالف قوتوں بالخصوص ایران سے وابستہ خطرات اور جوہری خطرے پر قابو پایا جاسکے۔ میری نظر میں تاریخ میں پہلی مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی صورتحال میں پاکستان کو اس قدر نمایاں حیثیت حاصل ہوگئی ہے کہ اب اسرائیل بھی اپنی نئی قومی سلامتی ڈاکٹرائن کے تحت پاکستان کوخطے کی ایک اہم ترین علاقائی طاقت تسلیم کررہاہے۔ اسرائیل کی نئی قومی سلامتی ڈاکٹرائن کا اعلان محض اسرائیل کی فوجی حکمت عملی میں تبدیلی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور مستقبل کے علاقائی تعلقات کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے جسکا بطور محب وطن پاکستانی بغور جائزہ لینا ضروری ہے۔ بلاشبہ بین الاقوامی قانون میں حق دفاع تسلیم شدہ ہے لیکن کیا ایک ایسی ریاست کو مستقبل میں خطرہ پیدا ہونے کے امکان کی آڑ میں طاقت کے بھرپور استعمال کی اجازت دی جاسکتی ہے جسے اسکے اپنے پڑوسی ممالک سمیت بیشتر عالمی برادری تسلیم کرنے سے انکاری ہے ؟ اسرائیلی میڈیا کا جائزہ لیا جائے تو نیتن یاہو کی نئی ڈاکٹرائن ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل میںقومی انتخابات کیلئے سیاسی مہم زورو شورسے جاری ہے۔ اسرائیل کے اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ مذکورہ نقشہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں کیوں پیش کیا گیا اور آیا یہ اسرائیل کی سابقہ سکیورٹی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، اپوزیشن کا موقف ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت اور نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت سے گریز کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کی داخلی سیاست کے بین الاقوامی سفارتی پہلو موجود ہیں۔تاہم اسرائیل کیلئے موجودہ صورتحال میں بنیادی سبق یہ ہے کہ قومی سلامتی کی پالیسی کو صرف سخت بیانات، عسکری کارروائیوں یا انتخابی نعروں سے نہیں جانچا جا سکتا، کسی بھی کامیاب ریاست کی دفاعی حکمت عملی کی حقیقی جانچ عملی تیاری، انٹیلی جنس کی درستی، شہریوں کے تحفظ، سفارتی نتائج اور طویل مدتی استحکام سے ہوتی ہے، جس میں اسرائیلی قیادت کو ناکامی کا سامنا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حالات میں خطے میں نئی صف بندیوں کی پیش رفت کی بنیاد پر جاری کردہ نقشے سےیہ نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا کہ اسرائیل نے پاکستان کے خلاف کسی باقاعدہ فوجی اتحاد یا اعلانِ جنگ کردیا ہے۔ میری نظر میں یہاںیہ بنیادی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے کہ الیکشن سے قبل سیاسی بیانات، تزویراتی نقشے اور باقاعدہ دفاعی معاہدے تین الگ معاملات ہیں، کسی نقشے میں ممالک کواپنے نقطہ نظر سے پیش کرنےسے خودبخود کوئی نیا عسکری اتحاد وجود میں نہیں آ جاتا۔ اسرائیلی نقشے میں اصطلاحات علاقائی صف بندی کی عکاسی ضرور کرتی ہیں، تاہم انہیں ان تمام ممالک کے مابین باقاعدہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ نقشے میں پاکستان کی شمولیت کاسب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اب دنیا ہمیں محض جنوبی ایشیا کے ایک ملک کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اسرائیل کیلئے بھی پاکستان کی دفاعی صلاحیت،جوہری قوت، جغرافیائی اہمیت، دفاعی سفارتکاری اور مڈل ایسٹ میں اسکے کلیدی کردار کو خطے کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن میں نظرانداز کرنا آسان نہیں رہا۔ یہاں یہ امر بھی سب سے اہم ہے کہ پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کے دِل فلسطینی عوام کیساتھ دھڑکتے ہیں‘ پاکستان روزاول سے فلسطینی عوام کے حقوق اور ایک منصفانہ پرامن حل کی حمایت کرتا آیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اگر اسرائیل نے مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر مذکورہ ڈاکٹرائن کو پروان چڑھایا تو پھراسکے ممکنہ منفی اثرات صرف مڈل ایسٹ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ جنگ کے بھیانک شعلےاسرائیل سمیت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اسرائیلی نقشے میں دکھائے گئے اتحادوں کو قائم شدہ حقیقت یا اپنے خلاف باقاعدہ جنگی منصوبہ سمجھنے کے بجائے انکی نوعیت، قانونی حیثیت ،عملی شواہداور سب سے بڑھ کر پس پردہ عوامل کا جائزہ لینا چاہیے۔ہمیں عالمی برادری کو باور کرانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کےمابین دفاعی تعاون کوعلاقائی استحکام، خودمختاری کے تحفظ اور جنگ کی روک تھام کے وسیع تر مقصد سے جوڑنا زیادہ مفید ثابت ہوگا۔ دنیا کو اس وقت ایسے سکیورٹی نظام کی ضرورت ہے جس میں کسی ایک ریاست کی سلامتی دوسری ریاست کی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث نہ بن سکے، اس وقت پاکستان کیلئےسب سے اہم چیلنج یہی ہے کہ ہم اپنی دفاعی صلاحیت اور تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بناتے ہوئے علاقائی استحکام،عالمی امن اوربین الاقوامی قوانین کی پاسداری کے اصولوں پر ثابت قدم رہیں۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی کے بارے میں فراہم کردہ معلومات صرف ان کے نام تک محدود ہیں۔ ان کی زندگی، تصانیف یا سرگرمیوں کے بارے میں مزید تفصیلات درج نہیں ہیں۔

پروفائل اور تمام تحریریں

اس مضمون کا حوالہ کیسے دیں

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی. «پاکستان، خطرہ ابھی ٹلا نہیں…؟.» اقبال فورم، 25 اکتوبر 2026. https://iqbalforum.org/ur/?p=52918.

حوالہ دینے کے انداز

ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی. (25 اکتوبر 2026). پاکستان، خطرہ ابھی ٹلا نہیں…؟. اقبال فورم. https://iqbalforum.org/ur/?p=52918

متعلقہ تحقیق

تازہ ترین

تبصرے

تبصرہ کریں
1000حروف باقی
ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔